ہائی سکول کیری کانگڑا 300بچوں کی امیدوں کا واحد مرکز | 1988میں درجہ بڑھا،32سال ہوگئے ،ہائر سکینڈری نہ بن پایا

مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کے بلاک بالاکوٹ کے علاقہ گلہوتہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے لیفٹنٹ گورنرر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ہائی سکول کیری کانگڑا کا درجہ بڑھا کر ہائیر سکینڈری سکول کیا جائے ۔انکا کہنا تھا کہ ہائی سکول کیری کانگڑا کا سنگ بنیاد 1951میں پرائمعی سکول کی حیثیت سے رکھا گیا تھا جس کے بعد 1966میں اس کو مڈ ل سکول کا درجہ ملا اور 1988میں ہائی سکول بن گیا جس کے بعد علاقہ کے لوگوں کو راحت کی سانس ملی کہ اب یہ جلد ہائیر سکینڈری سکول بن جائے گا اور ہمارے بچے آسانی سے تعلیم حاصل کرسکیں گے کیوں کہ اس وقت 300سے زائد بچے سکو ل میں زیر تعلیم ہیں اور علاقہ ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے جس میں کافی مڈل سکول بھی ہیں جبکہ ایک ہائی سکول بھی ہے اور اب ہائی سکول کیری کانگڑا کا درجہ بڑھانا ضروری ہوگیا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہائیر سکینڈری سکول نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کو 15کلومیٹر سے زائد سفر کرکے دور دراز کے ہائیر سکینڈری سکولوں میں جانا پڑتاہے جس کی وجہ سے کئی غریب گھرانہ سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں علاقہ کے سرپنچ محمد بشیر خان نائب سرپنچ مشتاق خان کے علاوہ افتخار خان ،منور خان ،ذاکر خان اور محمد شریف منہاس نے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکول کے معاملہ کو لیکر ہم نے کئی بار اعلی حکام سے بات کی لیکن اس وقت تک حکوم نے سکول کا درجہ نہ بڑھا کر دور دراز علاقہ میں بسنے والے لوگوں کے ساتھ نا انصافی کی ہے جس کی وجہ سے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے میں کئی قسم کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑھ رہاہے انہوں نے گورنرر انتظامیہ سے اپیل کی کہ فوری طور ہائی سکول کیری کانگڑا کا درجہ بڑھا کر ہائیر سکینڈری سکول کیا جائے ۔