خدا مغفرت کرے میرے تجربہ کار اور پختہ کار ہمسایہ احد صاحب کو جو اکثر اپنی زندگی کے تجربات بتاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ جب گاڑی خریدنے کی گنجائش پیدا ہوجائے تو اس وقت سائیکل خریدنی چاہئے۔اگر ابھی سے گاڑی خریدلی تو باقی اخراجات کا کیا کرو گے؟پہلے گاڑی کے لائق ہو تب گاڑی خریدو۔اگر احد صاحب اس وقت بقید حیات ہوتے تو آج کل کا منظر نامہ دیکھ کر نہ جانے کیا کہتے۔یہی کہتے کہ جلوہ حور دن را روئے باید ۔میرے بچپن میں سرینگر کے شہر خاص اور اَپر ٹاون میں ٹانگے چلنے کا رواج عام تھا ۔اسوقت ٹانگے چلنے کے لائق جو سڑکیں موجود تھیں وہی آج بھی موجود ہیں ۔ان کی لمبائی چوڑائی میں کچھ خاص فرق نہیں آئی ۔ہنس مُکھ ٹانگے بان دائیں ہاتھ میں تمچی اور بائیں ہاتھ میں گھوڑے کی لگام پکڑکر میٹھی آواز میں گھوڑے کو ٹخ ٹخ اور پیدل چلنے والوں پر برجستہ مکالمے چُست کرتے :بھائی صاحب ذرا دائیں ،بہن جی ذرا بائیں ،پنڈت جی ذرا دائیں ،سردار جی ذرا بائیں۔گھوڑے کا ہنہنانا اور اس کے قدموں کی ٹاپ ٹاپ سے ایک عجیب قسم کی موسیقی پیدا ہوجاتی تھی۔گھوڑے کی ٹاپ طبلے کا کام دیتی اور اس کا ہنہنانا ہار مونیم کا کام دیتا تھا ۔ٹانگے والے کی ٹخ ٹخ اور پیدل چلنے والوں ساتھ مکالمے گیت کے بول بنتے تھے۔آج کل کا راک بینڈ اس موسیقی کے سامنے ہیچ ہے۔
سابقہ وزیر اعلیٰ مرحوم خواجہ غلام محمد صادق کے دور میں ٹانگے بند کئے گئے اور ان کی جگہ ٹمپو چلنے لگے جن کو عرف ِ عام میں’’ ووں ووں موٹر‘‘ کہا جاتا تھا ۔یہ بات ذہن نشین کرنے کے لائق ہے کہ موٹرگاڑیوں کا چلن ترقی کا نام نہیں ہے ۔ماحولیات اور اپنے ورثہ کو بچانا ترقی کہلاتا ہے ۔شہر خاص میں آج بھی ٹانگے چلنے کے لائق چھوٹی سڑکیں جوں کی توں موجود ہیں،اگر ہم نے شہر خاص کی ان سڑکوں پر ٹانگے چلتے دکھائی دیئے ہوتے تو شہر خاص کو آج ہم سب کے سامنے بطور ہریٹیج سٹی پیش کرسکتے تھے۔سیاح لوگ جوق در جوق اس شہر خاص میں ٹانگوں پر سوار ہوکر گھومتے اور ہماری تجارت کو چار چاند لگ جاتے ۔اگر غور سے دیکھا جائے تو ٹانگے ماحول دوست تھے ۔ان کے چلنے سے ہوا میں موود آکسیجن پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا ۔یہ کاربن اور گردو غبار پیدا نہیں کرتے تھے ۔ٹانگے کے پیچھے ایک انڈسٹری چلتی تھی ،جیسے کہ گھوڑا بانی ،ٹانگا سازی ،ٹانگے میں کام آنے والے فاضل پرزہ جات کا کاروبار ،ٹانگے کے پہیوں پر ربڑ چڑھانے کا کام ،گھوڑوں کو کھلانے کے لئے چوکرکا کاروبار ،ان کے پائوں میں نعل لگانے کا کاروبار وغیرہ۔جس علاقہ میں گھوڑوں کو نعل لگاتے تھے اس کو نعل بند پورہ کہتے ہیں جو کہ صفا کدل سرینگر سے منسلک ایک محلہ کا نام ہے۔آنجہانی وزیر اعظم اٹل بہاری باجپائی کے دور میںکئی وزیروں نے گائوں میں بیل گاڑیاں بند کرنے کی بات کی تھی جس پر اٹل جی بہت برہم ہوئے۔اپنی بھڑ بھڑاہٹ ظاہر کرتے ہوئے بولے،بیل گاڑی ماحول دوست ہے ،اس کے پیچھے ہمارے گائوں میں ایک بڑی انڈسٹری چلتی ہے، جس کے ساتھ کروڑوں لوگوں کا روز گار جُڑا ہوا ہے۔ہمارے ملک میں راکٹ ،خلائی اسٹیشن ،ہوئی جہاز ،ریل گاڑی اور موٹر گاڑیاں چلتی ہیں ،ان کے پہلو بہ پہلو بیل گاڑی بھی چلے گی ،اسے بند نہیں کیا جاسکتا۔ہاں ! لکڑی کے پہیوں کے بدلے ان میں ربڑ کے ٹائر لگائو اور ان کو پہلے کی طرح چلنے دو۔یہ ہوتی ہے ملک کی معیشت بچانے کے لئے دور اندیشی کی بات ،معیشت سے ناآشنا لوگ اسے کیا سمجھیں گے۔
بے شک اپنی بساط کے مطابق اپنے روزگار کے ذرائع وسیع کرنا ، اپنے کاروبار کو فروغ دینا ،آگے بڑھنا اورترقی کرنا ہر فرد کا حق ہے اورپھر اپنی تگ و دو کو آرام دَہ بنانے کے لئےیا یوں کہیں کہ اپنی زندگی کے دن پُر سکون بنانےکے لئے مناسب اسباب رکھنا بھی بالکل جائز ہے مگر اپنے لئےوہ سہولیاتی اسباب ،جو دوسروں کے لئے مشکلات اور پریشانیوں کا سبب بنیں،رکھنا کہاں تک درست اور جائز ہے؟سبھی جانتے ہیںکہ جب بنک انڈسٹری نے اپنی تجارت کو بڑھاوا دینے کے لئے کار لون دینا شروع کیا تو ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اوندھی کھوپڑی والے عناصر بغیر سوچے سمجھے کار لون حاصل کرنے کے لئے بنکوں پر چیل کوئوں کی طرح منڈلانے لگے ۔اصول کے مطابق گھوڑا خریدنے سے پہلے اصطبل کا انتظام اور گائے خریدنے سے پہلے گائو خانہ کی تعمیر ضروری ہوتی ہے،ٹھیک اسی طرح گاڑی خریدنے سے پہلے گیراج کا موجود ہونا لازمی جُز ہے۔لیکن اس طرف نہ بنک والوں نے کبھی دھیان دیااور نہ ہی عوام نے ۔چنانچہ قرضہ والی گاڑیاں دن کو سڑکوں پر مغرورانہ انداز میں بے تحاشا فراٹے بھرنے لگیں اور اپنا مسکن نہ ہونے کے کارن رات کو چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل کے مصداق بن گئیں ۔یہ لون گاڑیاں رات کو بازاروں کی سڑکوں ،محلے کی رابطہ سڑکوں اور گلی کوچوں کو بطور گیراج استعمال کرنے لگیں۔چنانچہ یہ حرکت ان لوگوںکے لئے سوہان روح بن گئی جنہوں نے اپنے پیسے سے گاڑی خریدی اور اپنے گیراج میں رکھ دی تھی۔جس طرح سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھومنے والے کتوں کو آوارہ کتے کہا جاتا ہے ٹھیک اسی طرح گیراج کے بغیر گاڑیوں کو آوارہ گاڑیا ںکہنا غلط بھی تو نہیںہے۔برخوردار عناصر آوارہ گاڑیوں کو چُراکر ان کے پُرزے پُرزے کرکے بیچ دیتے ہیں جس طرح کہ دو چار شیر کسی بھینس کو چند منٹوں کے اندر چٹ کرجاتے ہیں ۔اس کے برعکس گیراج والی گاڑیاں محفوظ رہتی ہیں،انہیں نہ کوئی گرنذ پہنچا سکتا ہےاور نہ چرا سکتا ہے ۔ظاہر ہے کہ جو گھوڑا رسی سے باندھ کر رکھا جائے ،وہ خدا کے حوالے رہتا ہے جبکہ بغیر رسی کے گھوڑا شیطان کی سواری بن جاتا ہے۔
مشاہدے میں آیا ہے کہ ان آوارہ گاڑیوں کی وجہ سے شہروں اور قصبہ جات کی سڑکیں تنگ ہوگئیں اور نہ صرف گلی کوچےبلکہ مصرو ف شاہراہوں سے منسلک رابطہ سڑکیں بھی گیراج میں تبدیل ہوگئی ہیں ،رات کے وقت کسی ایمرجنسی بیمار کو یا ڈیلوری کیس کو ہسپتال لے جانے کے وقت سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔آس پاس کے پڑوسیوں کو جگاکر ان سے اپنی اپنی گاڑیاں ایک طرف ہٹانے کے لئے آمادہ کرنا پڑتا ہےاوربعض اوقات کوئی لاوارث گاڑی انتہائی پیچیدگی کا سبب بن جاتی ہے ،اس طرح کا یہ روز مرہ کا دانتا کل کل بن چکا ہے۔اسی طرح خدا نخواستہ آتشزدگی کے وقت کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ آتش کُش دستے سڑکوں پر موجود آوارہ گاڑیوں کی وجہ سے جائے واردات پرپہنچ نہیں پاتےاورنتیجہ یہ نکلتا ہےکہ کروڑوں روپے کی جائیدادیں آناًفاناًخاکستر ہوجاتی ہیں۔اسی لئے شہر کے کتے نے گائوں سے آئے ہوئے کتے کو ڈانٹا کہ اپنی دم نیچے کرو ،یہاں اتنی جگہ نہیں ہے کہ تم دُم اٹھا کر چلو ۔اسے قوم کی بد قسمتی کہئے یا جمہوریت کا قصور ،جس میں سروں کو گِنا جاتا ہے تو لا نہیں جاتا۔زمام اختیار حُسن نا شناس عناصر کے ہاتھوں میں آگئی ہے جو کہ کوتاہ نظر ہیں دور اندیش نہیں۔حُسن چمڑی کے گورے پن کو نہیں کہتے بلکہ حُسن موزونیت کا نام ہے ۔ان ہی حُسن ناشناس عناصر کے ہاتھوں سبز سونا کم اور کالا سونا زیادہ ہورہا ہے۔ زرعی اراضی غائب ہورہی ہے اور اَربنائزیشن کو فروغ دیا جارہا ہے ۔گاڑی کے معاملے میں ہونا یوں چاہئے تھا کہ جس فرد کے پاس ڈرائیونگ لائسنز اور گاڑی رکھنے کے لئے مناسب گیراج موجود ہو، اُس کو کار لون دینا چاہئے تھا ۔اسی طرح آر ٹی او محکمہ کو چاہئے تھا کہ جس فرد کے پاس گیراج موجود ہو، اسی کو ڈرائیونگ لائسنز اجرا کرتے ۔ان ضروری لوازمات کو بالائے طاق رکھ کر اندھا دُھند فائرنگ کے طرز پر کار لون اور ڈرائیونگ لائسنز اجرا کئے جارہے ہیں ۔اسی طرح بنکوں اور ڈارئیونگ لائسنز اتھارٹی والوں کو کار لون اور لائسنز اجرا کرنے کی حد بندی کرنی چاہئے۔چنانچہ نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے کہ سڑکوں پر اور گلی کوچوں میں گاڑیاں کی بلا ضرورت تعداد ہر فرد کے لئے سوہان روح بنتی جارہی ہے۔
لعل و جواہرات کی افادیت عام زندگی میں کچھ بھی نہیں ہے لیکن ان کا اپنے پاس موجود ہونا ایک قسم کا کریز ہے۔ ٹھیک اسی طرح کئی اشخاص کے سامنے گاڑی کی افادیت ضرور ہے جیسے کہ ماہر تعلیم ،ماہر طب،ماہر سائنس اور ٹیکنالوجی ،اہم خدمات ،ٹریڈ اینڈ انڈسٹری اور اعلیٰ منتظمین ۔لیکن بہت سارے لوگوں نے شوقیہ اور سماجی کریز کے طور پر اپنے ہاں گاڑیاں رکھ دی ہیں،وہ بھی سڑکوں اور گلی کوچوں میں۔جب سے نجی گاڑیوں میں سفر کرنا عام ہوگیا ،متحرک سیڑھیوں اور لفٹ کا چلن عام ہوگیا اور پیدل چلنا ایک عیب سمجھا جانے لگا ،تب سے ہڈیوں اور جوڑوں کا درد ،موٹا پا ،بلڈپریشر اور شوگر کی بیماریاں عام بات ہوگئی ہے جن کا پہلے کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ جب میرے دوستوں محمد اکبر ،اشوک بھان اور وکرم سنگھ نے میری یہ اِدھر اُدھر کی باتیں سُن لیںتو انہوں نے ایک زور دار نعرہ لگایا ’’اپنی گاڑی اپنا گیراج زندہ باد‘‘
(رابطہ مخدوم صاحب سرینگر فون: 9906158193 )
����