مومن فیاض احمد غلام مصطفی
انسانی زندگی میں خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ایک مضبوط، خوشحال اور پُرسکون خاندان ہی ایک اچھے معاشرے کی بنیاد بنتا ہے۔ گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ محبت، قربانی، ایثار، احساسِ ذمہ داری اور باہمی اعتماد کا نام ہوتا ہے۔ ان تمام چیزوں کو قائم رکھنے میں اگر کسی شخصیت کا کردار سب سے اہم ہوتا ہے تو وہ گھر کا سربراہ ہے۔ یہی وہ شخصیت ہوتی ہے جو اپنی خواہشات، آرام، نیند اور کبھی کبھی اپنی پوری زندگی تک قربان کرکے اپنے اہلِ خانہ کے لیے سکون، تحفظ اور خوشی فراہم کرتی ہے۔
گھر کا سربراہ واقعی ایک ایسے پنکھے کی مانند ہے جو خود تو مسلسل گردش میں رہتا ہے مگر دوسروں کو سکون کی ٹھنڈک پہنچاتا رہتا ہے۔ جب تک وہ چلتا رہتا ہے، اس کی اہمیت کا مکمل احساس نہیں ہوتا، لیکن جیسے ہی وہ رک جاتا ہے تو گھر کے حالات یکسر بدل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے گھر کے ذمہ دار فرد، خصوصاً والد اور کفیلِ خاندان کی عظمت کو بے حد بلند مقام عطا فرمایا ہے۔
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس نے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کی ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویؐ میں خاندان کے استحکام، والدین کے احترام اور اہلِ خانہ کی کفالت کو عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘ (سورۃ التحریم: 6)اس آیتِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ پر صرف دنیاوی ضروریات پوری کرنا ہی لازم نہیں بلکہ اپنے اہلِ خانہ کی دینی، اخلاقی اور روحانی تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہے۔اسی طرح ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘ (سورۃ البقرہ: 83)۔والدین خصوصاً والد کی قربانیوں کو سمجھنا اور ان کی عزت کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔رسولِ اکرمؐ نے گھر والوں کی کفالت کو سب سے افضل صدقہ قرار دیا۔آپؐ نےفرمایا،’’تم جو بھی خرچ اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہو، اس پر تمہیں اجر ملتا ہے، حتیٰ کہ وہ لقمہ بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالتے ہو۔‘‘ (صحیح بخاری)
گھر کا سربراہ اکثر اپنی زندگی کا سب سے خوبصورت حصہ دوسروں کی خوشیوں کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ جب بچے سکون سے سوتے ہیں تو وہ ان کے مستقبل کی فکر میں جاگ رہا ہوتا ہے۔ جب خاندان خوشیوں میں مصروف ہوتا ہے تو وہ آنے والے دنوں کے اخراجات اور مشکلات کا حساب لگا رہا ہوتا ہے۔وہ اپنی خواہشات کو دباتا ہے تاکہ اس کے بچوں کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ وہ اپنے آرام کو قربان کرتا ہے تاکہ گھر والوں کو راحت میسر آسکے۔ کئی مرتبہ وہ بیمار ہونے کے باوجود کام کرتا رہتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ رک گیا تو پورا نظام متاثر ہوجائے گا۔ماں کی محبت کا اظہار اکثر آنسوؤں، دعاؤں اور شفقت سے ہوتا ہے، جبکہ باپ کی محبت خاموش قربانیوں میں چھپی ہوتی ہے۔ وہ کم بولتا ہے مگر اس کے اعمال چیخ چیخ کر اس کی محبت کا اعلان کرتے ہیں۔وہ اپنی اولاد کے لیے بہتر تعلیم، بہتر لباس، بہتر مستقبل اور بہتر زندگی کی جدوجہد کرتا ہے۔ کبھی کبھی اولاد اس کی سختی کو غلط سمجھتی ہے، لیکن وقت ثابت کرتا ہے کہ اس سختی کے پیچھے خالص محبت اور خیرخواہی ہوتی ہے۔
آج کا دور پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوچکا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، معاشی دباؤ، سماجی مسائل اور ذہنی تناؤ نے گھر کے سربراہ کی ذمہ داریوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔ایک شخص صبح سے رات تک محنت کرتا ہے تاکہ اس کے بچوں کو بہتر تعلیم مل سکے، خاندان عزت کے ساتھ زندگی گزار سکے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ مگر افسوس کہ جدید دور میں اکثر لوگ والدین خصوصاً والد کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔کئی نوجوان اپنے والد کی سخت محنت کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ ان کی ایک چھوٹی سی خواہش پوری کرنے کے لیے ان کے والد نے کتنی بڑی قربانی دی ہوگی۔ایک بہترین گھر کا سربراہ وہ ہے جودیانت دار ہو،رزقِ حلال کمائے،گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے،بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت کرے،صبر اور برداشت سے کام لے،گھر میں محبت اور اتحاد قائم رکھے،اپنی اولاد کے لیے عملی نمونہ بنے۔
جس طرح والدین پر اولاد کی پرورش فرض ہے، اسی طرح اولاد پر بھی والدین کی عزت، خدمت اور اطاعت لازم ہے۔افسوس کہ آج کئی لوگ اپنے والدین کو بڑھاپے میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں، حالانکہ ایک وقت ایسا تھا جب یہی والدین اپنی ہر خوشی قربان کرکے اولاد کی زندگی سنوار رہے تھے۔
نبی کریمؐ نے فرمایا:’’والد جنت کے دروازوں میں سے بہترین دروازہ ہے۔‘‘ (ترمذی)۔لہٰذا اگر انسان دنیا و آخرت میں کامیابی چاہتا ہے تو اسے اپنے والدین خصوصاً گھر کے سربراہ کی قدر کرنی چاہیے۔ایک ایسا گھر جہاں محبت، احترام اور قربانی ہو، وہ جنت کا نمونہ بن جاتا ہے اور اس سکون کے پیچھے اکثر ایک خاموش محنت کرنے والا فرد موجود ہوتا ہے۔وہ شخص اپنی تکلیفیں چھپا لیتا ہے، اپنی خواہشات قربان کر دیتا ہے، اپنی تھکن کو نظر انداز کرتا ہے، صرف اس لیے کہ اس کے گھر والے خوش رہیں۔یہی حقیقی محبت ہے۔ یہی اصل ایثار ہے۔ یہی وہ خاموش خدمت ہے جس پر گھر کا سکون قائم رہتا ہے۔
نتیجہ:گھر کا سربراہ دراصل خاندان کا ستون، محافظ اور سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ وہ بظاہر ایک عام انسان دکھائی دیتا ہے لیکن حقیقت میں اس کی قربانیاں غیر معمولی ہوتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ دوسروں کے سکون کے لیے وقف کر دیتا ہے۔اسلام نے ایسے افراد کی عظمت کو تسلیم کیا ہے اور ان کی ذمہ داریوں کو عبادت قرار دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے والد، سرپرست اور گھر کے ذمہ دار افراد کی قدر کریں، ان کی قربانیوں کو سمجھیں، ان کے ساتھ محبت اور احترام سے پیش آئیں اور ان کے لیے دعا کرتے رہیں۔
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جب تک پنکھا چلتا رہتا ہے، لوگ اس کی قدر کم کرتے ہیں، لیکن جب وہ رک جاتا ہے تو سکون کی اصل اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
(رابطہ۔9890476581)
[email protected]>
�������������������