گپکار الائنس لیڈران پر قد غن، خانہ نظر بند | پارٹیوں کے کارکن دو مقامات پر جمع، احتجاجی مظاہرے، کئی گرفتار

سرینگر// حد بندی کمیشن تجاویز کے خلاف احتجاجی دھرنے کی کال کے پیش نظر گپکار اتحاد کی قیادت کو خانہ نظر بند کیا گیا تاہم اسکے باوجود پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس کارکنوں نے کئی مقامات پر احتجاج کیا۔سنیچر کی صبح انتظامیہ نے گپکار الائنس لیڈران کے گھروں کے باہر پہرے بٹھائے اور ہر ایک کی رہائش گاہ کے باہر فورسز و پولیس کی گاڑیاں تعینا ت ہیں۔ان لیڈروں کو بتایا گیا کہ وہ خانہ نظر بند ہیں لہٰذا باہر نہیں نکل سکتے۔ اسکے ساتھ ہی پولیس نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے دفاتر کے باہر فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی تھی اور یہاں بھی کارکنوں و لیڈروں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔لیکن کسی طرح نیشنل کانفرنس کے نوجوان لیڈر اور کارکن پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح  کے باہر جمع ہوئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاجی مارچ برآمد کیا۔پارٹی لیڈروں عمران نبی ڈار اور سلمان ساگر نے گپکارروڈ کی طرف پیش قدمی کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔پولیس نے متعدد کارکنوں کو یہاں سے ہٹایا اور اس طرح الائنس کا حد بندی کمیشن کیخلاف منظم احتجاج پر روک لگائی گئی۔اس دوران پی ڈی پی کارکنوں نے بھی احتجاجی مارچ نکالا ۔ درجنوںپی ڈی پی کارکن نجم الثاب ،روف احمد بٹ اورعارف لائیگرو کی قیادت میںپی ڈی پی کارکن کانونٹ سکول کی جانب سے نمودار ہوئے اور انہوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے نئے فٹ برج کو کراس کیا لیکن پولیس نے جنرل پوسٹ آفس کے قریب انہیں روکا۔ انہوں نے اگرچہ پیش قدمی کرنے کی مزاحمت کی،تاہم پولیس نے انکی کوشش ناکام بنا دی۔ پی ڈی پی لیڈران نے اس موقعہ پر  حد بندی کمیشن تجاویز کیخلاف احتجاج کیا۔ اس موقعہ پر عارف لائیگرو سمیت کئی لیڈروں کو گرفتار کیا گیا، جنہیں رات دیر گئے چھوڑ دیا گیا۔ادھرنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے احتجاج کے لیے پارٹی کے ساتھیوں کی تعریف کی۔عمر عبداللہ نے ٹویٹ کیا،’’صبح بخیر اور 2022 میں خوش آمدید۔ ایک نیا سال جس میں پولیس لوگوں کو غیر قانونی طور پر ان کے گھروں میں بند کر رہی ہے اور انتظامیہ عام جمہوری سرگرمیوں سے خوفزدہ ہے۔‘‘ان کا مزید کنا تھا ’’ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے پرامن دھرنے کو ختم کرنے کے لیے ہمارے گیٹ کے باہر ٹرک کھڑے ہیں، کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلتی۔‘‘ عمر عبداللہ نے دعوی کیا’’ایک لاقانونیت والی پولیس ریاست کی بات کریں، پولیس نے میرے والد کے گھر کو میری بہن کے گھر سے جوڑنے والے داخلی دروازے کو بھی تالہ لگا دیا ہے‘‘!!۔انہوں نے مزید کہا’’سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی کو بھی نظر بند کر دیا گیا ہے،میرے گھر کے باہر بھی ایک ٹرک کھڑا ہے۔‘‘سی پی آئی (ایم کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ جموں و کشمیر انتظامیہ’’پرامن احتجاج کی اجازت دینے سے بھی خوفزدہ ہے‘‘۔تاریگامی نے کہا کہ انہیں بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا اور ان کی رہائش گاہ پر تالا لگا دیا گیا۔
 
 
 
 

پْرامن احتجاج دبا کر |  پر تشدد احتجاج کو ہوا دینے کی کوشش :سجاد لون

نیوز ڈیسک
سرینگر // پیپلز کانفرنس چیئر مین سجاد غنی لون نے جموں وکشمیر انتظامیہ کی طرف سے پْرامن احتجاج روکنے کی منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات جمہوریت کی روح کے خلاف ہیں۔اپنے   سلسلہ وار ٹویٹس میں سجاد لون نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا  "میں انتظامیہ کے اس عمل میں کوئی معقول وجہ نہیں دیکھ سکتا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کرنے سے کیوں روکا جارہا ہے "۔ اس حوالے ریاستی انتظامیہ کو دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے کہا کہ جمہوریت ایک قیمتی اثاثہ ہے، جس کے لیے پچھلی 3 دہائیوں میں ہزاروں لوگوں نے یہاں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے کہا کہ آپ دانستہ یا غیر دانستہ طور اس عمل کو نقصان نہ پہنچائیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پْرامن احتجاج  دبا کر انتظامیہ نادانستہ طور پر پْرتشدد مظاہروں کی ترغیب دے رہی ہے۔پْرتشدد صورتحال کے تناظر میں احتجاج کے غیر متشدد انداز کو دبانے کی بجائے سہولت فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔اگر آپ سیاسی غیر متشدد مظاہروں کو روکتے ہیں تو اس طرح آپ منفی صورتحال کی طرف لوگوں کو اْکسارہے ہیں۔سجاد لون نے کہا کہ پْر امن سیاسی احتجاج کو روکنا بہر صورت ایک منفی عمل ہے اور جس کے منفی نتائج ہی نکل آنے کا اندیشہ رہتا ہے۔