ملا نصیر الدین کے لطیفے
ایک مرتبہ ملا اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھے تھے، ان کے ایک دوست نے آکر ان سے پوچھا کہ، ملا مجھے ضروری کام سے پاس کے گائوں جانا ہے اور کچھ سامان لے جانا ہے، براہ کرم، آپ گدھا دے دیں، میں اسے لے جائوں گا اور شام تک لوٹا دوں گا۔ملا چوںکہ دوست کو گدھا دینا نہیں چاہتے تھے، ٹالنے کے خیال سے یہ کہہ دیا کہ، گدھا کوئی اور لے گیا ہے۔ اتنے میں صحن سے، گدھے کے چیخ سنائی دی۔ دوست نے کہا کہ، ملا گدھا تو یہیں پر موجود ہے! تو ملا نے جواب میں پوچھا کہ، آپ مجھ پر یقین کریں گے کہ گدھے پہ؟
ایک مرتبہ ملانصرالدین ایک محفل میں پکڑ لیے گئے اور ان سے کہا گیا کہ کچھ نصیحت فرمائیں،ملا نصیرالدین اسٹیج پر آئے اور سامعین سے پوچھا،’’جو کچھ میں کہنے جا رہاہوں کیاآپ لوگوں کومعلوم ہے؟‘‘
لوگوں نے کہا ،’’نہیں۔‘‘ملانے کہا،’’کہ آپ کوبتانے سے کیا فائدہ جب آپ جانتے ہی نہیں۔کچھ عرصے بعد، پھر ایک محفل میں ملا پکڑے گئیاور ان سے نصیحت کرنے کی التجا کی گئی۔ اسٹیچ پر آکر وہی پراناسوال دہرایا۔لوگوں نے سوچاکہ پچھلی بار نہ جاننے کی وجہ سے نصیحت سے محروم رہ گئے تھے، اس لیے سب نے بیک زبان جواب دیا،’’ہاں‘‘۔ملا نے جواب دیا،’’ جب آپ لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیا کہنے والاہوں تو پھر بتانے سے کیافائدہ۔ تیسری بار ملا شومئی قسمت پھر پکڑ میںآ گئے اور انھیں نصیحت کرنے کوکہا گیا۔ ملانے پھر اپناسوال دہرایا۔ عقلمندی دکھاتے ہوئے سامعین کے آدھے لوگوں نے انکار میں اور آدھے لوگوں نے اقرار میں جواب دیا۔ ملا نے کہا،’’جن لوگوں کومعلوم ہے کہ میں کیاکہنے والاہوں وہ ان لوگوں کو بتادیں جو نہیں جانتے۔ اور یہ کہہ کر اسٹیچ پرسے اتر گئے۔
’’ خط پڑھ دو‘‘۔ایک ان پڑھ زمیندار خط لے کر ملا نصیر الدین کے پاس پہنچا۔ملا نے اتفاقاً بڑی پگڑی پہنی ہوئی تھی۔ پگڑی اس زمانے میں عالموں کی نشانی سمجھی جاتی تھی۔زمیندار نے ان کو خط پڑھنے کو کہا۔ ملا نے کہا،’’میں خط نہیں پڑھ سکتا‘‘۔زمیندار بولا،’’اتنی بڑی پگڑی باندھی ہوئی ہے اور خط نہیں پڑھ سکتے‘‘۔ملا نے فورا پگڑی اپنے سر سے اْتار کر زمیندار کے سر پر کھ دی اور کہا،اب پگڑی تمہارے سر پر ہے خود ہی پڑھ لو اپنا خط۔‘‘
گُد گُد یاں…!!!
فٹ بال آئندہ چاند پر نہ آئے
فٹ بال کے دو کھلاڑی باتیں کر رہے تھے ایک بولا۔ ’’میں نے ایک دن فٹ بال اتنی اونچی پھینکی کہ پورے دو گھنٹے بعد واپس آئی۔‘‘ دوسرا بولا: یہ تو کچھ بھی نہیں ہے میں نے ایک دن فٹ بال اتنی اونچی پھینکی کہ وہ دو دن بعد واپس آئی اور اس کے ساتھ ایک پرچی بھی تھی۔ جس پر لکھا تھا کہ یہ فٹ بال آئندہ چاند پر نہ آئے۔
ڈاکٹر مریض سے
ڈاکٹر نے مریض سے پوچھا:’’میں نے آ پ کو ایک سال کے بچے کی ہلکی خوراک کھانے کو کہا تھا کیا آپ نے کھائی؟‘‘۔ مریض نے کہا:’’جی ہاں کھائی تھی‘‘۔ ڈاکٹر نے پوچھا:’’کیا کھایا تھا؟‘‘۔ مریض نے جواب دیا:’’نارنگی کے چھلکے ‘تھوڑی سی مٹی ایک شیشے کی گولی اور کچھ کاغذ کے ٹکڑے‘‘۔
نوجوان حسین
نوجوان حسین کا مرمریں ہاتھ پکڑ کر اس کی انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کو دیکھا اور بولا۔ ’’میری دی ہوئی اس انگوٹھی کو تمہاری سہیلیوں نے بھی پسند کیا ہے یا نہیں؟ حسینہ بولی۔ ’’دو لڑکیوں نے تو اس انگوٹھی کو فوراً پہچان لیا تھا اور کہا تھا۔ یہ انگوٹھی تو ہم دوبار اس کے منہ پر مار چکیں ہیں۔‘‘
شوہر بیوی سے
شوہر : میں نے ایک بندر منگوایا ہے اب یہ ہمارے ستاھ رہے گا۔ بیوی: کھائے گا کیا؟ شوہر: وہی جو ہم کھائیں گے۔ بیوی : اور سوئے گا کہاں؟ شوہر: ہمارے ساتھ ہی بیڈ پر اور کہاں؟ بیوی: لیکن بدبوکا کیا علاج کرو گے؟ شوہر: جیسے میں عادی ہو گیا ہوں وہ بھی ہو جائے گا۔
دوکاندار گاہک سے
گاہک (دکاندار سے) :’’بھائی ! کوئی اچھی خوشبووالی اگر بتی دینا‘‘۔ دکاندار:’’یہ لیجئے اس کی خوشبو بہت ہی اچھی ہے پڑوسی کے گھر بھی جائے گی‘‘۔ گاہک: ’’ پھر اسے اپنے پاس ہی رکھیں میں اپنے پڑوسی کو بھیجوں گا وہ خود ہی لے جائے گا‘‘۔
بوجھو تو جانیں…!
پھولوں میں دو پھول نرالے پاتے وہ قسمت والے
کوئی تو ایک یا دونوں پائے خالی ہاتھ کوئی رہ جائے
جواب : بیٹا ،بیٹی
۔۔۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑے اور مروڑے
جو بھی دیکھے اس کو توڑے
جواب : روٹی
۔۔۔۔۔۔
اٹھ نہیں سکتا ،کب اٹھ کے کہیں جاتا ہے وہ
رات دن بس ٹھوکریں ہی پائوں کی کھاتا ہے وہ
جواب : راستہ
۔۔۔۔۔۔
جانور ایک ایسابھی دیکھا پھٹ پھٹ کر تا جائے
کوئی اُس کی پیٹھ پہ بیٹھے تب وہ چال دکھائے
جواب: موٹر سائیکل
۔۔۔۔۔۔
ذرا تھپک کر اُسے اٹھایا پھر اس پر ڈنڈا برسایا
ڈنڈا کھا کر بھاگی جائے بھاگی بھاگی واپس آئے
جواب : گلی ڈنڈے کی گلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارسطو۔ جدید سائنس کابابا آدم
حور العین
384قبل مسیح میں مقدونیہ کے بادشاہ امنتاس کے درباری طبیب کے گھر پید اہوئے۔انہوںنے بیس برس تک افلاطون کی شاگردی کی ۔وہ ایک بہت حقیقت پسند فلسفی تھے۔انہوں نے تا حیات نفسیات اور کئی دوسرے موضوعات پر ایسی معلومات مہیا کیں جو آج تک قابل قدر خیال کی جاتی ہیں۔یہ نامور فلسفی 322قبل مسیح میں انتقال کرگئے۔
تعطیلات
مختصر کہانی
بریرہ شاہد
ایک دفعہ کا ذکر ہے ، ایک اسکول تھا۔ یہ اسکول شہر کا سب سے اچھا اسکول تھا۔ اس کی فیس اتنی تھی کہ ہر کوئی اس کو افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اس اسکول میں تین ایسی لڑکیاں تھیں جو بہت ذہین تھیں مگروہ اسکول میں کبھی پوزیشن نہیں لا سکیں تھیں۔ ایک کا نام بینش، دوسری کا نام سوہا اور تیسری کا نام صبیہہ تھا، وہ آپس میں بہت اچھی دوست بھی تھیں۔ سب ان کو کہتے تھے کہ وہ کبھی پوزیشن نہیں لے سکتیں یہ بات سچ نہیں، دراصل ان کے اسکول کے قوانین بہت سخت تھے، اس اسکول میں ایک بھی چھٹی نہیں تھی۔ اسی لیے وہ مسلسل مطالعے سے تنگ آچکے تھے۔
اس اسکول میں ایک اور لڑکی تھی، اس کا نام مریم تھا۔ وہ بھی بہت ذہین تھی، اس کو کتابیں پڑھنے اور ناول / کہانی لکھنے کا بہت شوق تھا۔ وہ اکثر ناول / کہانی لکھتء رہتی تھی جس میں سالگرہ ، اچھی دوست، وغیرہ شامل ہیں۔
ایک دفعہ مریم نے سوچا کہ وہ HOLIDAYS پر ناول / کہانی لکھے۔ یہ بہت خاص کہانی تھی جس میں مریم نے چھٹیوں کی اہمیت اور فوائد کا ذکر کیا تھا۔ جب مریم نے کھانی لکھ لی تو اس نے فیصلہ کیا کہ یہ ناول وہ اپنی اسکول کی پرنسپل کو ان کی سالگرہ کے موقعے پر تحفہ میں دے گی۔
کچھ دنوں بعد جب مریم کی پرنسپل کی سالگرہ آئی تو اس نے وہ ناول / کہانی تحفہ میں دیا۔ مریم کی پرنسپل کو تحفہ بہت پسند آیا۔ کیونکہ یہ مریم نے خود لکھی تھی۔
جب مریم کی پرنسپل نے ناول پڑھا توانہیں چھٹیوں کی اہمیت کا احساس ہوا۔ اوراپنے اسکول کیاتنے سخت قوانین پر نادم بھی ہوئیں۔ اگلے دن پرنسپل نے مریم کو اپنے آفس میں بلایا اور اْس کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا کہ مریم کے اس ناول HOLIDAY نے انہیں چھٹیوں کی اہمیت کا احساس دلایا۔
کچھ عرصے بعد اسکول میں مریم کے لیے ایک تقریب رکھی جس میں اس کی قابلیت اور ذہانت پر ایورڈ دیا۔ اور پھر اسکول میں تین مہینے کی چھٹیوں کا اعلان بھی کیا۔ سب بہت حیران تھے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ مریم کی یہ کہانی پرنسپل اور اس کے اسکول کو بدل دے گا۔ سب مریم کی بہت تعریف کر تھے۔اس دن مریم کو WRITER FIRST کا ٹائیٹل بھی ملا۔ یہ اسکول کی پہلی چھٹیاں تھیں، اسی لیے سب بہت خوش تھے۔
پریشے کے ہار کی کہانی
کہانی
ساعد حمزہ مظہر
سات سمندروں میں سے ایک سمندر کے بیچوں بیچ ایک ایسی چھپی دنیا تھی جہاں ہر طرف خوشی ہی خوشی پھلی تھی جہاںسرسبز باغ تھے جن میں پھولوں کی لڑیاں سجی تھی جہاں تتلیاں ہواؤں میں ناچا کرتی تھی جہاں شفاف نیلے پانی کی نہریں بہاکرتی تھی جہاں رسیلے پھلوں کے درخت لگے تھے جہاں رہنے والا ہر اک انسان خوش و خوشحال تھا۔اس جگہ کا نام حورستان تھا۔کہاجاتا تھا کہ یہاں بہت سال پہلے ایک ایسا ہار تھا جس کو پہن کر پریاں بلا ئی جاتی تھی۔اس ہار کا نام پریشے کا ہار تھا۔پر ایک دن کالی شکتیوں کے سا ئے نے حورستان کو اس قدرگھیر دیا کہ وہ ہار ہمیشہ کے لئے غایب ہوگیا۔اس دن سے حورستان میں کو ئی خوش نہیں رہ سکھا۔ وہاں سب کچھ جیسے بدل سا گیا،وہاں کچھ بھی کرنے میں لوگوں کا اب دل نہیں لگتا تھا۔بادشاہِ حورستان نے بہت کوششیںکی پر وہ اس ہار کو واپس نہ لا سکھے وہ ہار کالی شکتیوں نے اپنے کالے سائے سے ایک پہاڑ میں چھپا دیا تھا۔ کہتے ہے کہ اس کی رکھوالی کرنے والا جن بہت طاقتور اور بہت ہی خطرناک تھا۔بادشاہِ حورستان اپنے حورستان کو ایسے نہیں دیکھ سکتے تھے تو انہوںنے یہ اعلان کیا کہ جو بھی پریشے کا ہار اس پہاڑ سے لے آ ئے گا اور اسکو میری بیٹی شہزادی حوریا کو پہنائے گا اسکی شادی میںشہزادی سے کروا دوں گا۔شہزادی حوریا خوبصورت، عقلمند اور ایماندار ہونے کے ساتھ ساتھ طاقتور بھی تھی۔وہ بالکل اک پری جیسی تھی پر اگر انہیں کوئی کچھ کہہ دے تو اسے اچھے سے سبک سکھانا بھی جانتی تھی لیکن بادشاہ نے ہمیشہ سے ہی ان کواپنی پیاری بیٹی بناکر رکھا تھا۔تو جب بادشاہِ حورستان نے اعلان کیا بہت سے لوگون نے ہار کو ڈھونڈنے کی کوشش کی پر کو ئی بھی وہ ہار واپس نہیں لا سکھا۔اب بادشاہ نے سونچا کہ یہ خبر آس پاس کہ راجیوں میں پھیلادینی چاہئے۔ان کے اس بلاوے پر تین شہزادے ہار کو واپس لانے کے لئے حورستان کے محل آ پہنچے۔ان میں سے ایک بہت ہی طاقتور تھا۔کہتے ہے اس نے بہت بڑے بڑے کالے جنّوں کواپنی طاقت سے ہرایا تھا وہ بجیستان کا شہزادہ پرتاب تھا۔ دوسرا شہزادہ خردستان کا شہزادہ عقیل تھا وہ بہت ہی زیادہ عقلمندتھا اور اپنے تیز دماغ سے اسنے کئی مقابلوں کو جیتا تھا۔تیسرا شہزادہ صدقستان کا شہزادہ صادق تھا وہ بہت ہی نیک اور ایماندارتھا،اس نے اپنی نیکی سے سب کا دل جیتا تھا اور کئی بار مشکل حالات کا ڈٹ کر سامنہ کیا تھا۔تینوں شہزادے پریشے کے ہار کوواپس لانا چاہتے تھے اور شہزادی حوریا سے شادی کرنا چاہتے تھے۔تینوں شہزادوں کو سب نے بولا کہ اس پہاڑ تک کا راستہ کالی شکتیوں سے گھراہوا ہے اور وہاں سے واپس آنا بہت ہی زیادہ مشکل ہے پر تینوں میں سے ایک بھی پیچھے ہٹ نے والوں میں سے نہیںتھا۔شہزادے پرتاب کو اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا اور شہزادے عقیل کو اپنے دماغ پر۔شہزادے صادق تو بس اپنی ایمانداری پر بھروسہ رکھتے تھے اور وہ پوری ایمانداری سے اس ہار کو شہزادی حوریا کے گلے میں پہنانا چاہتے تھے۔بادشاہِ حورستان نے یہ اعلان کیا کہ کل صبح ہوتے ہی تینوں شہزادے پہاڑ کی طرف روانہ ہو جائینگے۔ صبح ہوتے ہی تینوں شہزادے ہار کو واپس لانے کے لئے نکل پڑے۔تینوںنے تین الگ الگ راستے چنے اور پہاڑ کو تلاش کرنے جا نکلے۔شہزادے پرتاب جس راستے نکلے تھے وہ راستہ کالے راکشسوںسے بھرا پڑا تھا۔ وہ کالے جنگلوں سے جاکر گرم ریگستانوں تک ان راکشسوں سے کئی دنوں تک لڑتے رہے اور ہر جیت پر انہیں پہاڑقریب نظر آتا گیا۔ آخر کار انہیں پہاڑ کا دامن دکھ گیا اور وہ اس پر چڑائی کرنے لگے۔کئی دن تک پہاڑ پر چڑا ئی کرتے کرتے اور ہر جگہ پریشے کے ہار کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے انہیں ایک غار دکھ گیا اور وہ اس میں داخل ہوگئے۔یہ غار کالے پشاچوں اور کالے سایوں سے گھراہوا تھا۔کچھ قدم چلتے ہی ان کے سامنے ایک بڑا جن ہاضر ہوگیا۔۔ہا ہاہا تو تم آ ئے ہو پہلے۔تم یہاں سے کبھی بھی پریشے کا ہار نہیںلے پاؤگے!جلد ہی پورے حورستان پر کالی شکتیوں کا راج ہوگا ہا ہا ہا۔نہیں میں لونگا تم سے وہ ہار پرتاب ہے میرا نام تمہیں میری طاقت کا اندازہ توہو ہی گیا ہوگا۔پہلی بار تم تک کوئی جوپہنچا ہے۔۔ ہا ہا ہا ایسا ہے تو چلو میرے تین سوالوں کا جواب دو۔تم نے اگر تین صحیح جواب د ئے تو ہار کے تیخانے کا دروازہ خود بہ خود کھل جا ئے گا اور کالے سا ئے ہمیشہ کے لئے حورستان کو چھوڑ دیں گے۔ تم تیارہو؟۔۔۔ہاں بولو تم جو بھی سوال ہے شہزادے نے اکڑ کے ساتھ جواب دیا۔پہلا سوال کالے راکشسوں کا خاتمہ ایک بار میں کہاں وار کرنے سے کیا جا سکتا ہے؟۔شہزادے نے اس بارے میں ذرا بھی نہ سونچا کیونکہ انہوں نے تو کالے راستے میں کئی راکشسوں کا خاتمہ کیاتھا، وہ جھٹ سے بولے 'ٹانگ کی نیچے والی نس پر'۔۔ہا ہاصحیح جواب۔دوسرا سوال کالی نہر کے جن کے سوال کاجواب کیا ہے؟شہزادے نے بہت سونچا پر اسے یاد نہیں آیا کہ کالی نہر کے جن سے اس کا سامنہ کب ہوا اب وہ بہت گہبرانے لگا پر اسے لگا کہ یہ سوال اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ہیں اس نے تو کالے راستے میں کئی جنّوں و راکشسوں کو ہرایا ہے تو اس نے اپنی تلوار اٹھا ئی اوربڑے جن کی ٹانگ پر حملہ کر دیا۔جیسے ہی اسکی تلوار جن کی ٹانگ چھو دی شہزادہ ایک دم سے ذور دار دھکا لگے غار سے باہرہوکر نیچے گر گیا اور بے ہوش ہو گیا۔جن زور سے ہنسنے لگا ہا ہا ہا میں کوئی عام راکشس نہیں ہوں پریشے کے ہار کا نگران ہوں ہا ہاہا۔
وہاں شہزادے عقیل بھی کئی دنوں تک اپنے راستے پر چلے اور اس راستے پر چلتے چلتے انہوں نے کئی چھوٹے قد کے جنّوں کی پہیلیاںبجائی اور اپنی عقل سے کئی جنّوں کو بے وقوف بھی بنایا۔انہوں نے تو اس راستے پر اپنی زہانت کا خوب استعمال کیا اور آخر کار ایک مہینے کے بعد وہ بھی بڑے جن کے پاس جا پہنچے۔ہا ہا تم بھی آ گئے! دوسرے شہزادے ہو جو آج تک یہاں پہنچا ہے۔پہلا کوں تھا شہزادے عقیل نے پوچھا۔پرتاب بڑے جن نے ہنستے ہنستے بولا۔تو اب وہ کہاں ہے؟ ہاہاہا ہار گیا مجھ سے بہت گھمنڈ تھا اپنی طاقت پراسے۔کوئی بات نہیں میں ہراؤں گا تمہیں اور وہ ہار بھی میں ہی لے جاؤں گا شہزادے عقیل نے بولا۔ہا ہا ہا تم ہراؤگے۔۔تم سے بھی تیں سوال کروں گا جیسے اس سے کئے تھے تیار ہو؟۔۔۔ہاں تیار ہوں۔شہزادے عقیل تو بہت خوش ہوئے کہ یہاں بھی سوال جواب ہونگے انہیںاپنے دماغ پر پورا بھروسہ تھا۔پہلا سوال کالی نہر کے جن کے سوال کا جواب کیا ہے؟۔۔شہزادے عقیل نے اپنا راستہ کاٹتے ہوئے کالی نہر کے جن کو بھی ہرایا تھا پر انہیں یاد نہیں آ رہا تھا کہ اس جن نے ان سے کیا سوال کیا تھا۔ آخر کار شہزادے کو وہ جواب یاد آہی گیا اور وہ بولے’’تین سو موتی’’۔۔صحیح جواب۔۔دوسرا سوال کالے راکشسوں کا خاتمہ ایک بار میں کہاں وار کرنے سے کیا جاسکتا ہے؟۔(بقیہ گوشہ اطفال کے اگلے شمارے میں)