نظم
نظم
ہنستے گاتے آئی تتلی
گھر میں خوشبو لائی تتلی
گھر کی کھڑکی پر بیٹھی ہے
اُڑتے اُڑتے آئی تتلی
سارا کمرہ مہکا مہکا
کتنی خوشبو لائی تتلی
میرے سر پر بیٹھے بیٹھے
لیتی ہے انگڑائی تتلی
نیلی نیلی، پیلی یپلی
آئی تتلی آئی تتلی
کتنے پھولوں کا رس پیکر
دھیرے دھیرے آئی تتلی
سہمے سہمے جب پر دیکھے
گل کو خون رلائی تتلی
گلشن میں جب طائر آیا
چپکے سے بلکھائی تتلی
دیکھا جو گل کو گلشن میں
خوشبو سے شرمائی تتلی
پھولوں پر دیکھا شبنم کو
اک دھوکا سا کھائی تتلی
کاپی پر پنسل سے میں نے
راتوں رات بنائی تتلی
گہرے گہرے دریاؤں سے
اتری دھوپ چلائی تتلی
گلشن میں جب دھوپ کھلی تھی
بنتی تھی پرچھائی تتلی
من آنگن میں خوشبو پھیلی
میرے دل پر چھائی تتلی
گھر گھر میں بچوں کی عادلؔ
دور کرے تنہائی تتلی
���������
اشرف عادلؔ، کشمیر یونیورسٹی حضرت بل سرینگر
رابطہ:ـ9906540315
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انمول موتی
علم سے بڑا کوئی خزانہ نہیں،بری عادت سے زیادہ کوئی دشمن نہیںاور شرم سے بہتر کوئی لباس نہیں
آرزو نصف زندگی ہے اور بے حسی نصف موت
روشنی کی امید رکھو پر امیدوں پر زندگی مت گزارو
خاموشی دانا کا زیوراور احمق کا بھرم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے ترتیب جملوں کو ترتیب دیں
ہے بڑی کی ریاست سب اترپردیش سے ہندوستان
رنگ کا لال گلاب ہے
میں جموںوکشمیر ہوں رہتا میں
موسم یہ گرمی ہے کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محاورے مکمل کریں
1۔اپنے منہ میاں………
2۔کھودا پہاڑ نکلا………
3۔مگرمچھ کے………
4۔دھوبی کا کتا گھر کا نہ……
5۔آسمان سے گرا،کھجور میں……
نظم
نظم
بچہ مزدور کے خلاف
عالمی دن کی مناسبت سے
تحفۂ قدرت ہیں بچے ، ننھے اور معصوم ہیں
بادشاہ بھی ان کے خادم اور وہ مخدوم ہیں
ایک بچہ سے ہی آنگن میں مچی کلکاریاں
ہر طرف نغمے خوشی کے ہر طرف گلکاریاں
چاہے غم ہو ، پھول سا بچہ ملا ، دل خوش ہوا
چند لمحے کے لیے کافور غم کو کردیا
پھول ہیں وہ جنتی ، تسلیم یہ کرتے ہیں ہم
دامنِ دل ، ان کی خوشبو سے بہت بھرتے ہیں ہم
ان کا یہ پیدائشی حق ہے کہ وہ پڑھتے رہیں
علم کے میدان میں آگے ہی وہ بڑھتے رہیں
علم کے فیضان سے محروم بچہ رہ نہ جائے
بہہ رہا ہے علم کا دریا ، وہ پیاسا رہ نہ جائے
کس کو بچے سے محبت اور پیار ہوتا نہیں؟
’’بچہ عالم ہو مرا‘‘ کس دل میں یہ جذبہ نہیں؟
اس سے الفت کا تقاضہ ہے ، کہ اس کو پڑھنے دیں
راستے جو کامیابی کے ہیں ، اس پہ چلنے دیں
ایک دن پڑھ لکھ کے بچہ ، آپ کے کام آئے گا
خرچ جو اس پر ہوا ہے ، ایک دن لوٹائے گا
عمر ہے جو پڑھنے اور لکھنے کی ، ضائع نہ کریں
اچھی وہ تعلیم پائے ، بس مدد کرتے رہیں
گھر کے ، یا باہر کے کاموں میں ، نہ اس کو جھونکیے
مال کے چکر میں ، خنجر پیٹ میں نہ بھونکیے
’’بچہ مزدوری‘‘ غلط ہے ، کام یہ لعنت کا ہے
آپ بچے سے کرائیں کام یہ ذلت کا ہے
انصار احمد معروفی ؔ مئو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہیلیاں
دیکھا ہم نے ایک گدھا پیٹھ پہ جس کی بوجھ لدھا
کوئی دُم ہے اور نہ ٹانگ مارے جب وہ ایک چھلانگ
اوپر نیچے آتا ہے چھت پر بھی چڑھ جاتا ہے
٭…٭…٭
سر کے بل چلتا ہے فرفر سب نے اس کو دیکھا گھر گھر
دائیں بائیں چلتا جائے اوپر سے نیچے کو آئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لطیفے
چور
ایک صاحب کے گھر میں چور گھس آیا۔ ان صاحب نے بہت ہمت اور ہوشیاری سے کام لے کر چور کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اس کے ہاتھ اوپر کرادئے اور اس کا منہ دیوار کی طرف کر دیا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ اب کیا کیا جائے کہ ان کا بیٹا پانی کا ایک گلاس لے کر آیا تو بولا۔ ’’ابو! پستول میں پانی بھر لیں یہ پانی کے بغیر نہیں چلتا‘‘۔
٭…٭…٭
ریلوے سٹیشن
ریلوے سٹیشن گاؤں سے پانچ میل دور تھا۔ ایک مسافر سٹیشن تک جانے کے لئے بس میں سوار ہو گیا اور دوران سفر کنڈیکٹر سے پوچھنے لگا۔ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا سٹیشن انہوں نے گاؤں سے اتنی دور کیوں بنا رکھا ہے۔‘‘ ’’وہ پٹری کے نزدیک بنانا چاہتے تھے۔‘‘ کنڈیکٹر بولا۔