گورنر کے مشیر کا جموں میں عوامی دربار ، 26وفود اور 400افراد نے مطالبات و مسائل سے آگاہ کیا

جموں//گورنر انتظامیہ ریاست کے دُور درا ز علاقوں میں بیداری پروگراموں کا انعقاد کرے گی تاکہ کاشت کار طبقے مرکزی اور ریاستی حکومت کی طرف سے زرعی شعبے میں شروع کی گئی بہبودی سکیموں اور جدید ٹیکنالوجی سے روشنا س کرایا جاسکے۔گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی نے آج اس طرح کے بیداری پروگراموں کی اہمیت کو اُجاگر کیا تاکہ مقررہ اہداف حاصل کئے جاسکیں اور کسانوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوسکے۔خورشید گنائی نے ان باتوں کا اظہار آج جموںمیں جے کے گورنرس گریوینس سیل کے تحت منعقدہ ایک عوامی رابطہ پروگرام کے دوران آر ایس پورہ کے باسمتی اُگانے والے کسانوں کے ایک وفد کے ساتھ بات کرتے ہوئے کیا۔ اس دوران 400 سے زائد لوگوں اور 26وفود نے جموں کے مختلف علاقوں سے آکر اپنے مطالبات اور مسائل مشیر موصوف کے سامنے رکھے۔ مشیر نے مزید کہا کہ حکومت نئی دلی میں منعقد ہونے والے تجارتی میلے کے دوران کسانوں کی پیداوار کی عکاسی کرنے کے لئے باضابطہ طور پر سٹال نصب کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس موقعہ پر راجما ، باسمتی چاول ،اخروٹ ، شہد ، مشروم ، زعفران اور دیگر پیداوار کی مارکیٹنگ اور فروخت کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ اس بائیر سیلف میٹ سے آر ایس پورہ میں پیدا ہونے والی باسمتی چاول کو عالمی مارکیٹ دلانے میں کافی مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس عمل سے بین الاقوامی تاجروں اور کسانوں کے درمیان دُوریوں کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ باسمتی چاول کا ریاست کی اقتصادیات کو بڑھاوا دینے میں ایک اہم رول ہے ۔سکاسٹ جموں کے نمائندوں نے اودھمپور ، رام بن اور کشتواڑ میں نئے کرشی وگیان کیندر قائم کرنے کا مطالبہ کیا جیسا کہ پہلے ہی آئی سی اے آر نئی دلی نے اس کی منظوری دی ہے۔ریاسی کے کنڈرا سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے پونی میں ڈگری کالج کے قیام اور ہائی سکول کنڈرا کو بڑھاوا دینے کا مطالبہ کیا ۔خورشیداحمد گنائی نے کہا کہ سول سوسائٹی کو لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے میں ایک اہم رول ادا کرنا چاہیئے تاکہ یہ لڑکیاں بھی سماج اور قوم کی ترقی میں اپنا رول اد ا کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں اور گائوں دیہات میں لڑکیوں کی تعلیم کو بڑھاواد دیا جانا چاہیئے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوسکے۔سوارن وِہار ویلفیئر ایسوسی ایشن نے منی بس سروس شروع کرنے اور دُرگا نگر میں بجلی کھمبے لگانے کا مطالبہ کیا۔ اس موقعہ پر جو دیگر وفود خورشید احمد گنائی سے ملاقی ہوئے ان میں مختلف پالی ٹیکنیکل کالجوں میں اکیڈیمک انتظامات پر کام کر رہے لیکچرر اور ڈیمانسٹریٹروں کا وفد ، آبپاشی محکمہ میں کام کر رہے کنٹریکچول بنیادکے پٹواری اور گیج ریڈر س، جے اینڈ پرنٹ میڈیا ویلفیئر ایسوسی ایشن ، جموں ہیرٹیج سوسائٹی،سابق ایم ایل اے بلونت سنگھ منکوٹیہ، گارگھنی سناسر سے تعلق رکھنے والے لوگوں ، گجر بستی بڑی برہمنا ، ہیرا نگر کٹھوعہ کے لوگوں ،دانسل سے تعلق رکھنے والے ایک وفد ، گول گلاب گڈھ کے ایک وفد ، جاگرت سماج بسوہلی کا ایک وفد ، بھگوان شری لکشمی نارائن دھام جموں ، گرام ویلفیئر اینڈ ڈیولپمنٹ سوسائٹی آر ایس پورہ ، شری سادھو گنگا ٹرسٹ ہندوا رہ ، سکھرالا سٹون کریشر بلاور ، نان گزیٹیڈ ایگریکلچر گریجویٹ ایسو سی ایشن جموں ، ویٹرنری ڈاکٹرس ایسو سی ایشن ، ہارٹیکلچر آفیسرس ایسو سی ایشن اور کئی دیگر وفود شامل ہیں ۔ ان وفود نے اپنی اپنی انفرادی اور اجتماعی مسائل خورشید احمد گنائی کی نوٹس میں لائے ۔ خورشید احمد گنائی نے وفود کے مسائل غور سے سنے اور یقین دلایا کہ جائز مطالبات پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا۔انہوں نے کئی مسائل کو موقعہ پر ہی حل کرنے کی ہدایات دیں ۔ انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ مطالبات کو متعلقہ افسروں تک پہنچایا جائے گا۔