گورنر نے با اختیاری کو یقینی بنانے کیلئے تعلیم کے رول کو اُجاگرکیا

لیہہ//گورنر ستیہ پال ملک نے سٹوڈنٹس ایجوکیشنل مومنٹ آف لداخ( سیکمال) متبادل سکول کیمپس کا دورہ کر کے وہاںلڑکوں کے لئے شمسی توانائی سے لیس رہائشی عمارت کا افتتاح کیا۔اُن کے ہمراہ گیالپی وانگیال نائب چیئرمین ایل اے ایچ ڈی سی لیہہ، ڈی سی لیہہ اونی لواسہ، ایس ایس پی سرگن شکلا اور سیکمال کے بانی سونم وانگچک بھی تھے۔طُلباء سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ ہمارے سماج میں ناکامیوں کو اچھی سمت میں نہیں لیا جاتا ہے اس لئے ہمارے بچوں میں اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچے کافی خوش قسمت ہیں کیوں کہ انہیں سیکمال کا تصور ملا ہے جہاں تعلیمی اعتبار سے پسماندہ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا جاتا ہے تا کہ انہیں آگے بڑھنے کا موقعہ ملے۔انہوں نے سونم وانگچک کی کاوشوں کی سراہنا کی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ ہمالین انسٹی چیوٹ آلٹر نیٹوز لداخ یونیورسٹی کی طرف نہ صرف ملک بلکہ پوری دُنیا کے لوگ راغب ہوں گے۔گورنر نے با اختیاری کو یقینی بنانے کے لئے تعلیم کے رول کا اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ لداخ خطے میں تعلیم کے بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے کے لئے ایک کلسٹر یونیورسٹی منظور کی گئی ہے اور اس سیکٹر کو لوگوں کی توقعات کے عین مطابق آگے لے جانے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں گے۔گورنر نے آل لداخ وومنز ایسوسی ایشن کے ایک وفد کے ساتھ بھی ملاقات کی جنہوں نے ایل اے ایچ ڈی سی ایکٹ1995 میں ترمیم لانے سے متعلق ایک یاداشت بھی گورنر کو پیش کی تا کہ خواتین کو خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسلوں میں 33 فیصد نمائندگی مل سکے۔ڈسٹرکٹ پنچائت کوارڈی نیشن کمیٹی لیہہ کے ایک وفد نے بھی گورنر کے ساتھ ملاقات کی اور اپنے مطالبات کے بارے میں ایک میمورنڈم پیش کیا جن میں پہلے سے منظور کئے گئے پروجیکٹوں کی عمل آوری میں سرعت لانا، سڑک رابطوں کو بڑھاوا دینا بھی شامل ہے۔