گنگا جمنی تہذیب کدھر ہے؟

 
 ہندستان کی سر زمین دنیا میں واحد ایسی سر زمین ہے جہاںبرسوںسے مختلف مذاہب ، ثقافتیں اور زبانیں بولنے والی قومیں شاد و آباد ہیں ۔ یہاں زمانہ ٔ قدیم سے مختلف مذاہب اورادیان ماننے والے لوگ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ رہتے بستے آر ہے ہیں ۔ کثرت میں وحدت کی مثال پیش کر تے ہوئے ہندستان صدیوں سے اتحاد اور بھائی چارگی کا بے مثال چمن بنارہا ہے، یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو دنیا قدر واحترام کی نظرسے دیکھتی ہے لیکن کچھ سال سے سیاست کے سوداگروں کی خود غرضی سے یہاں کی معطرفضا ئیںبدلی بدلی نظرآرہی ہیں ۔آج سے چند سال پہلے تک یہ کسی کے سان و گمان میں بھی نہ تھا کہ ملک کے اتنے برے دن کبھی آ نے والے ہیں کہ تعصب و نفرت کاماحول کھلے عام پروان چڑھا یا جائے گا، مسلمان ہونے کی وجہ سے بے قصور اور امن پسند لوگوں کو دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دے کر انہیںسزائیں دی جائیں گی ۔ شمالی ہند کی ریاستوں میںمسلمان عدم تحفظ اورتعصب ونفرت کے شکار بنا ئے جارہے ہیں۔یہ تعصب خواہ قوم ونسل کی بنیاد پر برتا جارہا ہو یا دین و مذہب کے نام پریا پھر تہذیب وتمدن کے تنوع کی وجہ سے، یہ چیز ملکی سالمیت ، وحدت ، اُخوت اور جمہوریت کے حق میں زبردست نقصان کا باعث ہوگا۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب یا دھرم اس کی اجازت نہیں دیتا کہ انسانوں کے ساتھ خدا واسطے بیر رکھا جائے اورنہ کوئی تہذیب اسے پسند کرتی ہے کہ اس کے سائے میں رہنے والوں کا جیناا پنے ہی ہم وطن دشوار کر نے لگیں ۔ یہ دشمنانہ طرز عمل کھلے عام جمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے ۔  ہمارے آئین نے ہمیں مساوات ، قانون کی بالادستی، یکساں معاشی حقوق ، آزادیٔ مذہب ، بھائی چارے اور امن سے رہنے کے بلند وبالا تصورات دئے ہیں ۔ یہاں ملک کے ہر شہری کو آزادی ٔمذہب اور عبادت وریاضت کا مکمل حق حاصل ہے لیکن آئین کی دئے ہوئے ان آدرشوں کے باوجود اگر ملک میں حکومتی سطح پر فرقہ وارانہ بنیادوں پر شہر یوں کے درمیان امتیاز برتا جائے تو قوم کا کیابنے گا ؟ جو لوگ قانون و آئین کے محافظ کہلاتے ہیں، اگر وہیں مذہب و دھرم کے نام پر ان آدرشوں کی دھجیاں بکھیر دیں تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا؟ آئین ہند کے معماروں کے ذہن میں بھی نہ آیا ہو گا کہ ہمارا بنایا جمہوری آئین تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رکھا جائے گا ۔ افسوس کہ۔مودی حکومت اقلیتوں کو درپیش دل سوز واقعات کی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جب کہ ملک کی موجودہ سنگین صورت حال اور مسلمانوں میں عدم تحفظ کی لہر دیکھ کر سابق نائب صدر جمہوریہ ڈاکٹر حامد انصاری کو اپنی الوداعی تقریب میں بحالت مجبوری کہنا پڑا تھا :’’ ملک کے مسلمانوں میں بے چینی کا احساس جا گزیں ہے‘‘ ڈاکٹر حامد انصاری کے اس اظہار تشویش کے جواب میں مرکزی حکومت کوچاہئے تھا کہ مسلمانوں کو تحفظ کا یقین دلاتی لیکن اس کے بجائے حامد انصاری پر بے جا تنقیدیں اور تبصرے  کئے گئے ۔ ملک کے ناگفتہ بہ حالات پر اگر سابق نائب صدر جمہوریہ عدم تحفظ اور عدم رواداری کو لے کر اظہا ر تشویش کرنے لگے تو عقل ودانش کاتقاضا ہے کہ ملک میں ان اسباب کا فوری سدباب کیا جائے جن سے لوگ ہراساں وپر یشاں ہورہے ہوں ۔ اس کے برعکس اگرحکومت تین طلاق جیسا شرعی مسئلہ اُچھال کر اپنے تعصب اورنفرت کو ہوا دینے میں لگ جائے تو ملک کا خدا ہی حافظ ہے ۔ ملک کا اصل مسئلہ معاشی بدحالی اور بے روز گاری ہے جو ملکی عوام کوبلا تمیز مذہب وملت پسماندگی اور غربت کے اندھے کنوئیں کی طرف دھکیل رہی ہے لیکن حکومت اس اہم مسئلے سے بے فکرہو کر اپنی فرقہ وارانہ سیاست کا ایجنڈا چلا نے میں مشغول ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ الیکشن کا زمانہ قریب آتے ہی مذہبی جذبات کو دانستہ طوربر انگیخت کیا جارہاہے اور حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کے لئے انہی جذبات کو ہوا دے رہی ہے ۔افسوس یہ کہ بکاؤ میڈیا اس ناہنجار کام میں برابر کا حصہ ادا کرر ہا ہے۔ ایسے وقت میں مسلم ا قلیتوںکو ہوش وگوش سے کام لینے کی ضرورت ہے اور ان کا ا ﷲہی  حامی ومدد گار ہے ۔
فون نمبر 6005625723 
ای میل[email protected]