گمشدہ ستارے

غلہ دار (اناج کا بیوپاری) کو کہتے ہیں۔ شہر خاص سری نگر کے رہنے والے محمد سلطان خان عرف سلہ غلہ دار ڈوگرہ شاہی کے لئے سیاسی خطرے کا استعارہ تھے۔ وہ واحدشخص تھے جن کو ڈوگرہ شاہی اور شیخ عبداللہ اور بخشی غلام محمد نے سیاسی وجوہ کی بنا پر پابند سلاسل کیا ۔ بخشی دور میں بھی اُنہیں مڈی ( کیچڑ سے لت پت ) شالی ایجی ٹیشن کی پاداش میںزینت ِ زنداں بنایا ۔ نیشنل کانفرنس کے دیرینہ کارکنان کا ماننا تھا کہ کشمیر چھوڑ دو تحریک کو  سلہ غلہ دار کے سبب عروج نصیب ہوا ۔ کشمیر چھوڑ دو تحریک کے دوران اُنہوں نے شیخ محمد عبداللہ کے اعلانچی کا رول بخوبی نبھایا۔ وہ ٹانگے پر سوار ہوکر پورے شہر کا چکر لگاتے اور عوام کو شیخ صاحب کے پروگراموں سے آگاہ کرتے۔ایک دن جلال میں آکر اُنہوں نے مہاراجہ کو  یہ کہہ کرکشمیر چھوڑنے کی دھمکی دی: ’’ اگر 24 گھنٹوںمیں کشمیر نہیں چھوڑاتومیں تمہاری کھال اُتار دوں گا‘‘۔ اسی جرم میں انہیں فوراً گرفتار کیا گیا۔ اُن کے ساتھ ساتھ شیخ محمد عبداللہ پر بھی مقدمہ چلا اور دونوں کو سزا سنائی گئی۔ 1947ء میں اُنہیں رہا کیا گیا۔ جب شیخ محمد عبداللہ  ریاست کے ناظم اعلیٰ بنے تو محمد سلطان اُن سے ملنے گئے مگر دروازے پر سنتری نے اُنہیں روکا۔ انہوں نے سنتری سے کہا جاؤ شیر کشمیر سے کہو کہ سلہ غلہ دار آیا ہے۔ سنتری اندر گیا تو شیخ نے سنتری سے کہلوایا:’ ’ انہوں نے کہا کل دفتر آجانا۔‘‘ سلہ غلہ دار اپنے محبوب لیڈر کو ناظم اعلیٰ بننے پر مبارک باد دینا  چاہتے تھے اور یہ سن کر سکتے میں آگئے۔ اپنے آپ کو بہت کوساا ور پھولوں کا وہ ہار حقارت سے پھینک دیا جو شیخ کے گلے کی زینت بننے والا تھا اور اپنے آپ کو اس غلطی کے لئے کبھی معاف نہیں کیا۔1953 میںوہ پولٹکل کانفرنس میں شامل ہوئے اور ایک بار پھر گرفتار ہوئے۔اسی سال 9؍ اگست کو جب شیخ عبدااللہ گرفتار ہوئے تو تھوڑی دیر کے لئے انہیں اُدھم پور جیل میں ٹھہرایا گیا جہاں سلہ غلہ دار اور پولٹکل کانفرنس کے باقی لیڈران نظر بند تھے۔ سلہ غلہ دار بے چینی سے کچھ تلاش کر رہے تھے۔ محی الدین قرہ نے اُن سے بے چینی کی وجہ پوچھی تو کہا میں ایک لاٹھی تلاش کررہا ہوں جس سے شیر کشمیر کی پٹائی کر سکوں۔ انہیں جوش کے اس عالم میں بڑی مشکل سے اپنے ساتھیوں نے سنبھالا لیکن اُن کاغصہ تب اُترا جب شیخ کو وہاں سے نکالا گیا۔ 
 سلہ غلہ دار کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق نے 1983 میں رام باغ کا نیا پُل اُن سے منسوب کیا اور سرکاری طور اس نئے پُل کو سلہ غلہ دار پُل کہا جانے لگا لیکن شاید اس بے باک مرد مجاہد کو یہ ’’اعزاز‘‘  راس نہیں آیا ۔1990میں عساکر کی طرف سے چلایا گیا ایک راکٹ ٹھیک اُسی جگہ جا لگا جہاں سنگ مر مر کی ایک تختی پر سلہ غلہ دار  پُل کندہ کیاگیاتھا۔ وہ دن اور آج کادن  حکام نے وہاںنئی تختی نصب کرنا ضروری نہ سمجھا اور اس جگہ کو سیمنٹ سے بند کیا گیا۔ بہر حال سلہ غلہ دار ایک انتہائی نیک، بے باک اور مخلص سیاسی کارکن تھے۔ اُنہوں نے اپنی زندگی انتہائی مفلسی میں گزاری لیکن  اپنے موقف سے کبھی انحراف نہ کیا۔ ایک دن دوپہر کو مسجد گئے اور سجدے میں دائی اجل کو لبیک کہا۔ 
فون نمبر9419009648