گزشتہ ایک سال سے بے کار ٹرانسپورٹرمالی بدحالی کاشکار

حکومت نے مالی پیکیج دینے کے بجائے30فیصد کرایہ بڑھا کر عام آدمی پر ہی مزید بوجھ ڈال دیا

 
 سرینگر //وادی کشمیرمیںلاک ڈائون کے بعد لاک ڈائون کی وجہ سے ٹرانسپورٹ شعبہ کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہوا،اورحکومت نے اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کی راحت کیلئے کسی مالی پیکیج کااعلان نہیں کیا،بلکہ کرایہ میں 30فیصد اضافہ کرکے عوام کی جیب کو ہی کاٹا گیا۔ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افرادکا کہنا ہے کہ گزشتہ برس5اگست کے بعدآج تک ٹرانسپورٹروں نے کوئی کام نہیں کیا بلکہ گاڑیاں ایک ہی جگہ کھڑی ہیں اوران گاڑیوں کے ساتھ وابستہ ڈرائیوراورکنڈیکٹرفاقہ کشی کاشکار ہیںکیوں کہ ان کے پاس انہیں تنخواہ دینے کیلئے ایک پائی بھی نہیں ہے۔ اس شعبے سے وابستہ افراد نے کہا کہ گزشتہ برس انہوں نے گاڑیوں کے انشورنس اورپولیشن وغیر کے لئے ہزاروں روپے اداکئے لیکن گاڑیاں جب ایک قدم بھی نہیں چلیں ،تووہ نیاانشورنس اور دیگر لوازمات کہاں سے پورا کرپائیں گے۔ان کا کہناتھا کہ ایک بڑی گاڑی کاانشورنس اورٹول ٹیکس تیس ہزار روپے سے ایک لاکھ روپے تک اداکیاجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس اگست کے مہینے سے گاڑیاں ایک بھی فرلانگ نہیں چلیں ،توا یسے میں ٹرانسپورٹرگاڑیوں کے انشورنس،تول ٹیکس ،پولیوشن ودیگر لوازمات پورا کرنے کیلئے کہاں سے پیسے لائیں گے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹرانسپورٹروں کوانشورنس،ٹول ٹیکس اور دیگر لوازمات پورا کرنے کیلئے کسی راحت کااعلان کرے تاکہ لاک ڈائون ختم ہونے کے بعدٹریفک اہلکارٹرانسپورٹروں سے اس کا تقاضہ نہ کریں ۔ قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں کمشنرسیکریٹری ٹرانسپورٹ ہردیش کمارنے ایک حکم جاری کرکے مسافرگاڑیوں کے کرایہ میں 30فیصداضافہ کئے جانے کااعلان کیا۔حکومت کے اس اعلان کا فائدہ کچھ ایک چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کوہی ہوا،اورحکومت کے اس فیصلے سے بھی کوروناوائرس کی مارجھیل رہے لوگوں کو ہی نقصان سے دوچار ہوناپڑرہا ہے کیوں کہ جس علاقے کیلئے پہلے سوموگاڑیاں 300روپے کا کرایہ لیتی تھی وہاں کیلئے اب کرایہ میں اٖاجہ کرکے 500روپے کیا گیااوراس طرح بغیر کسی قاعدے کے چھوٹی گاڑیوں کے مالکان مسافروں سے کرایہ وصول کرتے ہیں کیوں کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے کسی بھی جگہ کیلئے کرایہ کے نرخ نامے جاری نہیں کئے ۔  آل کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری محمد یوسف نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ، ’’ ٹرانسپوٹر 10 کنبوں کو پالتے تھے لیکن سرکار کی سردمہری کے نتیجے میں آج خود دانے دانے کے محتاج ہیں‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ بڑی بسوں اور منی بسوں کے کرایہ میں 30فیصد اضافہ کیا گیا لیکن اس کا فائدہ بھی انہیںنہیں ملا ،کیونکہ ایک دن بھی گاڑیاں نہیں چل سکی۔ انہوں نے کہا صرف کچھ ہی دنوں کیلئے کچھ ایک گاڑیاں چلیں تو دوبارہ لاک ڈائون کر کے انہیں محصور رکھا گیا ۔انہوں نے کہا کہ حکام سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بنے بیٹھے ہیں اورٹرانسپورٹرمار جھیل رہے ہیں۔ آل کشمیر ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسویسی ایشن کے چیئرمین مٹ شبیر احمد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہر طرف سے عام لوگ اور ٹرانسپوٹر ہی پس رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بیرون ریاستوں کی گاڑیاں کشمیرآرہی ہیں ،ان کو چلنے میں کوئی بھی پریشانی نہیں لیکن سرکار یہاں کی گاڑیوں کو بند کر کے کورونا کی روکتھام ممکن بنانا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس کے حق میں نہیں کہ کورونا سے لوگوں کی جانیں چلی جائیں لیکن سرکار کو اس کیلئے کوئی پالیسی بنانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حالت ایسی ہے کہ ہم لوگ اپنے کنبے کو پالنے کیلئے گاڑیاں کوڑیوں کے دام کباڑیوں کوبیچنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کیلئے حکومت کو فوری طور کسی راحت پیکیج کااعلان کرناچاہیے۔