گریٹر اسرائیل!

اسرائیل کا قیام امت مسلمہ کے قلب میں خنجر گھونپ کر کیا گیا۔1947 میں فلسطین کے مسلمانوں سمیت تمام عالم اسلام پر شب خون مار کر فلسطینی سر زمین پر اسرائیل کو ایک الگ ریاست کے طور پر قبول کیا گیا اور اس صیہونی ریاست کو مضبوط کرنے کے لئے تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر اسے فلسطینیوں کا قتل عام کرنے کے کھلی چھوٹ دے دی گئی۔جہاں تک اسرائیل کے قیام کی بات ہے تو یہ بالکل عیاں ہے کہ اس کے قیام کا آغاز صدیوں پہلے کیا گیا تھا۔1492 میں امریکہ کی دریافت کے ساتھ ہی اسرائیل کے قیام کی خاطر کوششوں کا آغاز ہوا مگر اس وقت چونکہ خلافت عثمانیہ کا دور چل رہا تھا،لہٰذا اسرائیل کا قیام اتنا آسان نہ تھا۔اسی لئے قیام اسرائیل کے لئے سب سے پہلے خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ضروری سمجھا گیا۔اس کی خاطر درونِ خانہ سازشیں کی گئیں۔یہاں تک کہ سلطان سلیم اول کی جو بیوی تھی وہ بھی ایک یہودی تھی جسے خاص طور سے اس مقصد کے لئے تیار کیا گیا تھا کہ وہ خلافت کی دیواروں میں دراڑیں ڈال دے۔سلطان سلیم کی بیوی نے،جو کہ اصل میں یہودن تھی، سلطان سلیم کو شراب اور شباب میں گم رکھا یہاں تک کہ چھے سو سالہ خلافت کی دیواریں عورت،موسیقی اور شراب کی وجہ سے زنگ آلود ہوگئیں۔پھر سلطان خلیفہ عبد الحمید ثانی کے دور خلافت میں یہودیوں کا ایک وفد تھیوڈر ہرٹزل کی قیادت میں خلیفہ کے پاس گیا اور یہ شرط رکھی کہ اگر خلیفہ عبد الحمید ہمیں فلسطین میں یہودی ریاست بنانے کے لئے زمین دے دیتے ہیں تو ہم ان کو دولت کے خزانوں سے مالا مال کر دیں گے۔یہ اس دور کی بات ہے جب جنگ عظیم اول کے بعد برطانیہ ترکی مسلمانوں کی زندگی اجیرن کئے بیٹھا تھا اور خلافت عثمانیہ بھی زوال کا شکار ہوگئی تھی،مگر اس وقت بھی خلیفہ عبد الحمید نے یہ گوارہ نہ کیا کہ وہ صیہونی ریاست کو تسلیم کرتے اور اس کے قیام کے لئے زمین دے دیتے تھے۔اس کے بعد پھر خلیفہ کو مع ان کے اہل و عیال کے رات کی تنہائی میں گھر سے جلا ء وطن کیا گیا اور یوں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ 1923 میں کیا گیا۔اس کے بعد پھر ہٹلر کی طرف سے جو یہودیوں کا قتل عام ہوا ،اُسے زیادہ ہوا دے کر یہودیوں کو پوری دنیا میں مظلوم بنا کر پیش کیا گیا اور انہیں اپنی ایک الگ ریاست بنانے کی حمایت کی گئی۔اس وقت چونکہ تاج برطانیہ کے ڈنکا بجتا تھا ،لہٰذا 1947 میں بالفورڈ ڈیکلریشن کے ساتھ ہی اسرائیل کو ایک الگ ریاست کے طور پر قبول کیا گیا ۔ یوں مسلمانوں پر شب خون مار کر فلسطین کو چیر کر اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
اسرائیل کے بانی کار روز اول سے ہی’’ گریٹر اسرائیل ‘‘کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ گریٹر اسرائیل دراصل یہودیوں کا وہ خواب کہ ایک عظیم سلطنت کا قیام عمل میں لایا جا سکے جس میں یہ مردودقوم موجودہ اردن،شام،لبنان سمیت مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لئے اگر کسی بھی حد سے گزرنا پڑے تو گزرا جائے گا۔اسرائیل کو مضبوط سے مضبوط بنانے کے لئے امریکہ اس کا ہم پیالہ ہم نوالہ بنا ہوا ہے،اس لئے اہل نظر اسرائیل کے امریکہ کی ناجائز اولاد کے نام سے پکارتے ہیں۔اسرائیل کا تحفظ امریکہ کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ عراق کو کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹا بہانہ کرکے تباہ و برباد باد کر دیا گیا۔شام کو داعش کے نام پر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا۔مصر کو تہِ تیغ کیا گیا۔وہاں کے اسلام پسندوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا۔بہت سارے لوگوں کو پھانسیوں پر چڑھایا گیا۔2012 میں صدر مرسی کا تختہ جو اُلٹ دیا گیا وہ کوئی اتفاق نہیں ہے، بلکہ سب امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ سازش سے کیا گیا۔اسرائیل کی ایک خفیہ دستاویز جو کہ افشا ہوئی تھی ،اس میں یہ بات صاف صاف درج تھی کہ کب مصر میں انتخابات ہوں،کب اخوان المسلمون مصر میں حکومت بناتی ہے اور ہم صرف ایک سال کے اندر اس کا تختہ اُلٹ دیں گے۔ان حالات کا ہمیں بہ خوبی اندازہ بھی ہو چکا اور ہم گزشتہ پانچ سالوں سے انہیں دیکھ بھی رہے ہیں۔اسرائیل کی من مانیاں اب رُکنے میں ہی نہیں آ رہی ہیں۔اب تو اسرائیل بے لگام گھوڑا بنا بیٹھا ہے۔اگر کوئی ملک اسے کبھی تنقید کا نشانہ بناتا بھی ہے تو اسے امریکہ کے عتاب کا شکار ہونا پڑتا ہے اور پھر اس پر معاشی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔اس سب چیزوں کا فائدہ اسرائیل بہت اچھی طرح سے لے رہا ہے۔نہتے فلسطینیوں پر آئے روز بمباری کی جاتی ہے۔ان دنوں چونکہ اسرائیل میں الیکشن کا ماحول ہے اور اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم  نتین یاہو کے مد مقابل ایک سابق فوجی جرنیل کھڑے ہوا ہے جو بیگم نیتن یاہو پر کرپشن کا الزام لگاتے پھر رہا ہے۔نیتن یاہو کے پاس بھی اب کھیلنے کےلئے چونکہ کوئی کارڈ نہیں ہے ،لہٰذا اب وہ روایتی سیاست دانوں کی طرح حُب الوطنی کے جذبات کو بھڑکا رہے ہیں اور اس ضمن میں ان کا آسان ہدف فلسطین کے مظلوم اور نہتے مسلمان بنتے ہیں۔گزشتہ ہفتہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی تنظیم حماس پر اسرائیل نے راکٹ داغنے کا الزام لگایا اور اس کے بدلے غزہ پر وحشیانہ بمباری کر دی۔جبکہ حماس نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسرائیل کی اپنی کارستانی ہے تاکہ وہ اپنے لوگوں کو بے وقوف بنا کر ووٹ بٹور سکے۔
فلسطینی صرف اپنی ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔مسجد اقصٰی کی حفاظت صرف فلسطینیوں کی ہی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ پورے عالم اسلام کی ذمہ داری ہے۔گزشتہ ستر سالوں سے فلسطینی مسلمان پُر امن طریقے سے اپنی جدوجہد آزاری کو جاری رکھے ہوئے ہیں جب کہ اسرائیل امریکہ کی مدد سے نہتے فلسطینیوں کو قتل کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ہے۔گذشتہ سال امریکہ نے بیت المقدس جو کہ مسلمانوں کی میراث ہے،کو اسرائیل کے دارالحکومت تسلیم کیا۔ پچیس مارچ کو امریکہ نے شام کے پہاڑی سلسلے گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کیا اور اس کی خاطر با ضابطہ طور پر احکامات جاری کئے،جب کہ اقوام متحدہ کی قرارداد 242 میں یہ صاف صاف کہا گیا ہے کہ گولان شام کا حصہ ہے۔گولان ایک پہاڑی سلسلہ ہے جس کے جنوب میں دریائے یرموک بہتا ہے جو شام اور اردن کے لئے آبنوشی کے ذریعہ ہے، اس کے مغرب میں بحر طبری واقع ہے جو دنیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی نہر ہے۔گولان کی دو تہائی حصے پر 1967 کی جنگ کے دوران اسرائیل نے قبضہ کیا تھا اور پھر 1981 میں مقبوضہ گولان کو اسرائیل میں ضم کر لیا گیا۔تاہم اقوام متحدہ نے اسے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب تک یہ شام کا ہی حصہ تھا۔گولان پہاڑی سلسلہ پر قبضہ اسرائیل کے لئے نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں سے اردن،شام اور لبنان پر اسرائیلی نظر رکھ سکتا ہے۔
گریٹر اسرائیل کا جو خواب اسرائیلی بانیوں نے دیکھا تھا اسے پورا کرنے کے لئے سازشوں کا جال بنا جا رہا ہے۔اسرائیل کو کوئی ٹکر نہ دے سکے ،اس کے لئے پورے مشرق وسطیٰ کو خانہ جنگی کی آگ میں جھونک دیا گیا جب کہ جنوبی ایشیا پر بھی نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔فلسطین کے مسلمانوں کا قافیہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے۔گزشتہ سال فلسطینیوں نے جو واپسی مارچ شروع کیا تھا، اس میں اب تک اسرائیل کی بربریت کی وجہ سے 266 شہید اور 30398 زخمی ہو چکے ہیں،جب کہ کئی ایمبولینس گاڑیاں بھی نشانہ بنائی گئی ہیں۔یہاں تک کہ صحافیوں کو بھی بخشا نہیں گیامگر افسوس امت مسلمہ کے کچھ نا عاقبت اندیش حکمران خواب خرگوش میں ہیں اور ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں۔المیہ تو یہ ہے کہ اب تو بہت سارے مسلم حکمران دبے لفظوں میں اسرائیل کو ایک الگ ریاست تسلیم کر چکے ہیں جس کی زندہ مثال اُردن ہے جہاں گزشتہ سال اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سرکاری دورے پر مع اپنے اہل عیال گیا تھا۔وہاں جب نیتن یاہو نے اسرائیل کے جھنڈے کو اُردن کے پرچم کے رو برو دیکھا تو وہ فرط جذبات سے آبدیدہ ہوگیا اور یہ کہنے پر مجبور ہواکہ پہلی بار اپنے جھنڈے کو کسی مسلمان جھنڈے کے ساتھ دیکھ کر میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔آج دنیا اسرائیل کی حیثیت کو قبول کر رہا ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اسرائیل کی وزیر کھیل جب سرکاری دورے پر اردن پہنچی تو وہاں کے حکمرانوں نے اُنہیں مسجد میں پہنچایا اور ان کی خاطر و مدارت کی۔یہ سب باتیں کس چیز کی طرف اشارہ کرتی ہیں؟خود سوچئے اور فیصلہ کیجئے۔کیا مسلمان اسرائیل کو تسلیم کرنے لگے ہیں؟کیا مسلمان گریٹر اسرائیل کا خواب شر مندہ ٔتعبیر کر نے کا موقع فراہم کر رہے ہیں؟ کیا مسلمان ممالک اب بھی باہمی دست و گریباں رہیں گے؟کیا مسلمان اب بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولیں گے؟کیا گریٹر اسرائیل کا خواب مسلمانوں کے چند نا عاقبت اندیش حکمرانوں کی وجہ سے پایہ ٔ  تکمیل کو پہنچے گا؟