گرنہ رکھ اُمید کسی سے مگر اپنے ربّ سے رکھ

        جمعہ کے دن ہم نے سال 2021کو وداع کردیا ہےاورآج سال ِ نوکے تیسرے دن کا طلوع ہونے والا سورج 2022کی سوغات لے کر نمودار ہوچکا ہے۔ گذرا ہوا سال اپنی ہیبت ناکی میں 2020سے کم نہیں رہا۔ کورونا کی دوسری لہر نے اِس سال بھی اپنی قہر سامانی کا وحشت ناک مظاہرہ کرتے ہوئے لاکھوں انسانوں کی جانیں لے لیں۔ مارچ 2020 کے اواخر سے ساری دنیا جس طرح کوویڈ۔19کی لپیٹ میں آ چکی تھی، یہی کچھ بدترین صورتِ حال مارچ 2021میں بھی پیدا ہوگئی۔ پھر لاک ڈاؤن کی نوبت آگئی، لوگوں کو گھروں میں محصور ہونا پڑا، غریب پھر سے دو وقت کی روٹی کے محتاج ہو گئے۔ اس مہلک وباء نے ساری دنیا کی حکومتوں کو بے بس کر کے رکھ دیا۔ اموات کا لامتناہی سلسلہ چل پڑا۔ روزگار کے مواقع ختم ہو گئے۔ ہمارے اپنے ملک میں غیر سائنسی اور فرسودہ روایات کے ذریعہ اس ناگہانی آفت کو ختم کرنے کے دعوے کئے گئے۔ کورونا کو بھگانے کے لئے تالی اور تھالی بجانے کا’زرین ‘مشورہ وزیراعظم کی جانب سے دیا گیا۔ لیکن ’جوں جوں دوا کی ، مرض بڑھتا گیا ‘کے مصداق ملک کی ایک بڑی آبادی کورونا کا شکار ہوکر موت کے منہ میں چلی گئی۔ حکومت کے بلند بانگ دعوے انسانوں کو اس وباء سے بچانے میں ناکام ہوگئے۔ طبی سہولتوں کے فقدان نے کورونا سے متاثر مریضوں کے حوصلے پست کردئے۔ کئی مریض محض وقت پر علاج نہ ہونے کے سبب دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مرنے والوں کی تعداد میں ہر روز اس قدر اضافہ ہوتا چلا گیا کہ شمشان گھاٹ اور قبرستانوں میں جگہ ملنا دشوار ہوگیا۔ مارچ2020 میں جب کورونا کی پہلی لہر سے ملک میں دہشت پھیل گئی تھی ،اُ س وقت حکومت کا ادعّا تھا کہ اس وباء پر جلد سے جلد قابو پالیا جائے گا۔ جب 2021میں کوویڈ۔19کا آ غاز ہوا تو  مرکزی حکومت کے سارے وزراء یہ بات بڑے زور و شور سےکہہ رہے تھے کہ حکومت نے اس پر قابو پانے کی ساری تیاری کرلی ہے، ملک کی عوام کو پریشان نہ ہونے کی تلقین بھی کی جا رہی تھی۔ لیکن جیسے جیسے کووِیڈ۔19نے اپنا اثر دکھانا شروع کیا ،حالات گزشتہ سال سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ اس میں حکومت کی ناقص کارکردگی اور انتظامیہ کی کوتاہی کا بھی بخوبی اندازہ ہوگیا۔ ملک کی ایک سو چالیس کروڑ آ بادی کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیا گیا۔ کہیں سے حکومت کی بروقت مدد کی امید باقی نہیں رہی۔ اُس دوسری لہر نے پھر سے غریبوں کو فقر و فاقہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کردیا۔ ہر طرف موت کے منڈلاتے سایوں نے اپنا ڈیرا جما لیا ، تعلیمی اداروں کو دوبارہ بند کر دینا پڑا۔ کورونا کی اس وباء سے زندگی کے سارے شعبے متا ثر ہوئے لیکن سب سے زیادہ تعلیمی شعبہ متاثر ہوا۔ طلباء اسکول اور کالج کی صورت نہیں دیکھ سکے۔ پورا تعلیمی سال ایک آزمائشی دور سے گذرا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھنٹوں آن لائن کلاسیس کے لئے کمپیوٹر کا سہارا لینا پڑا۔ اس سے بچوں میں کئی ایک نفسیاتی مسائل پیدا ہو گئے۔ کورونا کی وباء نے گھریلو تشدّد کے واقعات میں اضافہ کر دیا۔ بیروزگاری اور انجانے خوف سے لوگوں میں عدم برداشت کی کیفیت بڑھتی ہوئی دیکھی گئی۔ اس دوران کچھ انسانیت نواز مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے۔ بہت ساری رضاکارانہ تنظیموں نے مصیبت کی اس گھڑی میں اپنی جان ہتھیلی میں لے کر لوگوں کی امداد کی۔ مذہبی بھید بھاؤ کے بغیر پریشان حال افراد کو راحت پہنچانے کا جذبہ لوگوں میں دیکھا گیا۔ لیکن حکومت اپنے شہریوں کی خبر گیری کرنے اور انہیں سہولت پہنچانے میں ہر محاذ پر ناکام دکھائی دی ۔ 2021  کے ختم ہوتے ایک اور نئی وباء ’’اومی کرون ویریئنٹ ‘‘ کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں۔  
سال 2021کورونا کے حوالے سے جہاں ایک خوفناک سال رہا۔ وہیں ملک میں ہونے والے دیگر واقعات نے بھی سال 2021کی یادوں کو مزید غمگین بنا دیا۔ ملک کے لاکھوں کسانوں کے لئے یہ سال بڑا کٹھن رہا۔ موجودہ مرکزی حکومت نے ستمبر 2020میں تین زرعی قوانین کو منظور کر کے کسانوں کے جذبات کو اس قدر ٹھیس پہنچائی کہ کسان احتجاج پر اُ تر آئے۔ ان کا یہ احتجاج ایک سال دو مہینوں تک جاری رہا۔ حکو مت نے ان کے جائز مطالبات کو قبول کر نے سے انکار کر دیا۔ لیکن کسان بھی اپنی مانگیں لے کر ڈٹے رہے۔ حکومت کو کسانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ پارلیمنٹ کے حالیہ سرمائی سیشن میں بی جے پی حکومت نے ان تینوں قوانین سے دستبرار ہونے کا ہونے اعلان کیا۔ قبل ازیں وزیر اعظم نریندرمودی نے گرو نانک جینتی کے موقع پر ان قوانین کو نہ صرف منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا بلکہ کسانوں سے انہوں نے معافی بھی مانگی تھی۔ کسانوں کو اپنے مطالبات منوانے کے لئے 380 دن تک احتجاج کرنا پڑا۔ کسانوں کا یہ احتجاج اس حیثیت سے تاریخی بن گیا کہ یہ آزاد ہندوستان کا سب سے طویل احتجاج تھا، جس نے حکومت کو اپنے بنائے ہوئے قوانین کو واپس لینے پر مجبور کردیا، حکومت اگر پہلے ہی کسانوں کو اعتماد میں لے کر قوانین بناتی تو شاید حکومت کو یہ ہزیمت نہ اٹھانی پڑتی۔ اس طرح سال2021کسانوں کی جیت کے طور پر ہندوستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ کسانوں نے اپنی اس کامیابی کی قیمت بھی چکائی ہے۔ 700سے زائد کسانوں نے اپنا بلیدان دیا ہے تب کہیں جا کر حکومت کا غصّہ کم ہوا ہے۔ دورانِ احتجاج ایک مرکزی وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو اپنی جیپ سے روند دیا ،جس میں آٹھ لوگوں کی جانیں چلی گئیں ، جن میں چار کسان تھے۔ 2021کی تاریخ میں لکھیم پور کے اس سانحہ کو بھی یاد رکھا جائے گا۔ مورخ یہ بھی لکھے گا کہ کس طرح جمہوری ملک میں انصاف کے لئے اٹھنے والوں کو کچل دیا جاتا ہے۔ آج تک ان خاطیوںکے خلاف کوئی کڑی کاروائی نہیں ہوئی۔ البتہ مرکزی وزیر سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے صحافیوں سے جھگڑا کر دیا۔ اس سے ہمارے ملک کی جمہوریت کے حال ، احوال کا پتہ چلتا ہے۔ سال 2021میں جہاں تک حکومت کی کارگردگی کا سوال رہا۔ یہ سال بھی حکمران کی جملہ بازیوں کا نذر ہو گیا۔ دعوے تو بہت کئے گئے لیکن عمل ندارد ۔جبکہ کڑوا سچ یہی ہے کہ ملک کے کسی طبقہ کے لئے فلاح و بہبود کا کوئی قابل ِ ذکر کام نہیں ہوا۔ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ پٹرول اورڈیزل کے مہنگا ہونے سے اشیاء ضروریہ کی  قیمتوں نے آسمان کو چھو لیا۔ شہری بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کرنے سے بھی قاصر رہے۔ ایک طرف کورونا کی مار اور دوسری طرف مہنگائی سے شہری جاں بلب ہو گئے۔ لیکن حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ عوام کو جذباتی نعروں میں اُلجھا کر رکھ دیا گیا۔ اصل مسائل سے توجہ ہٹاکر متنازعہ موضوعات کو گودی میڈیا کے ذریعہ اس انداز میں پھیلاگیا کہ عوام اسی میں گھِر کر رہ گئی۔ ملک میں ایسے قوانین لاگو کرنے کی کوشش کی گئی جو نہ ملک کی ضرورت تھے اور نہ عوام نے اس کا مطالبہ کیا تھا۔ ان میں ایک شہریت ترمیمی قانون ہے۔ ملک کے انصاف پسندوں کی جانب سے اس قانون کی مخالفت کے باوجود بی جے پی حکومت اس قانون کو بنانے پر مُصر ہے۔ اس کے خلاف 2019میں احتجاج شروع ہوا تھا۔ دہلی کے شاہین باغ کے احتجاج نے ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ کوویڈ۔19کے بڑھتے ہوئے قہر کو دیکھتے ہوئے مارچ 2020میں شاہین باغ کے احتجاج کو ختم کیا گیا تھا۔ لیکن حکومت اب بھی شہریت ترمیمی قانون کو بنانے اور ملک کی عوام پر مسلّط کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔        
    2021کے ختم ہوتے ہوتے ملک میں فرقہ واریت کی عُفریت نے پھر اپنا سَر اٹھایا۔ گز شتہ ہفتہ اُتر کھنڈ کے ہری دوار میں منافرہندو ئوں نے مسلمانوں کے خلاف جو زہر افشانی کی، اس کی ساری تفصیلات آچکی ہیں۔ دھرم سنسد کے نام پر بھیڑ کو جمع کرکے ہندو دھرم کے نام نہادٹھیکداروں نے ملک کے دستور اور قانون کی دھجیاں اُ ڑاتے ہوئے جو زہر اُگلا ہے ،اس سے پورے ملک کا وقار داؤ پر لگ چکا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ہندوستان پر لعنت ملامت کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ لیکن یہ سب دیکھتے ہوئے بھی مرکزی اور ریاستی حکومت خاطیوں کے خلاف قانونی شکنجہ کسنے کے لئے اب بھی تیار نہیں ہے۔ دھرم سنسد میں نام نہاد سادھوں نے مسلمانوں کی نسل کُشی کرنے کی کھلی وارننگ دی ہے۔ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار چلانے کی تاکید کی گئی۔ اس شرانگیزی کے خلاف سپریم کورٹ کے 70سے زائد وکیلوں نے چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این۔ وی۔ رمنا سے درخواست کی کہ اس قسم کے نفرت انگیز بیانات دینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔ مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اس قسم کی شرپسندی میں ملّوث افراد کے خلاف کوئی کاروائی ہوتی ہے،وثوق کے ساتھ کچھ کہانہیں جاسکتا،کیونکہ اترپردیش کا الیکشن سَر پر آ چکا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ اپنی حکومت کے پانچ سال پورے کر رہے ہیں ۔ ان پانچ سالوں کے دوران ملک کی سب بڑی اور اہم ریاست میں ترقی کا کوئی کام ہوا ہے ،عوام اس کی نفی کررہے ہیںبلکہ یہی کہا جارہا ہے کہ صرف فرقہ پرستی کو ہوَا دے کرریاستی حکومت نے اپنے اقتدار کے دن پورے کئےہیں۔ ماب لینچنگ کے نام پر مسلمانوں کو گھیر کر مارا پیٹا گیا۔ کئی مسلمانوں کی جانیں ہجومی تشدد کی وجہ سے چلی گئیں۔ جو شر پسند اِن بہیمانہ حرکتوں کے ذ مہ دار رہے، اُن پر کوئی مقدمہ دائر نہیں ہوا۔ البتہ ان کی گُل پوشی اور شال پوشی ہوئی اور انہیں پارلیمنٹ اور اسمبلی کی رکنیت سے نوازا گیا۔ لوگ یہی کہہ رہے ہیں کہ یوگی جی، جان بوجھ کر ریاست میںمنافرت کا کھیل کھیل رہے ہیں، سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرکے وہ دوبارہ مسندِ اقتدار پر فائز رہنا چاہتے ہیں۔ گزشتہ دو سال سے ان کی کوئی قابل ِذکرکارگردگی نہیںرہی ہے،سوائے اس کے کہ فرقہ وارانہ جذبات کو اُبھار کر ماحول کو کشیدہ بنایا جا سکے۔ ہری دوار کی زہریلی تقریروں کے بعد بھی انتظامیہ حرکت میں نہیں آتا ہے اور یوپی پولیس مجرموں کو لگام دینے میں ناکام ثابت ہوجاتی ہے ۔اس سے یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ دھرم سنسد میں زہر افشانی کرنے والوں کو حکمرانوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ بات اب صرف مسلمانوں تک نہیں رہی بلکہ بابائے قوم گاندھی جی کے قتل کو بھی فرقہ پرست طاقتیں اپنا ’’تاریخی کارنامہ ‘‘قرار دے رہی ہیں۔ ببانگ دُہل کہا جارہا ہے کہ گاندھی ، ہندوؤں کے دشمن تھے اور ان کا جو بھی انجام ہوا ،ملک کے مفاد میں بہتر ہوا۔ شرپسندوں کی اس قدر اشتعال انگیزی کے باوجود یوگی جی یا مودی جی کی کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ اب ملک میں قانون کی حکمرانی کا تصور ناپید ہوتا جارہا ہے۔گودی میڈیا اگرچہ اس بارے میں خاموش ہے تاہم بیرون ممالک کی میڈیا اس بارے میں بہت کچھ کہہ رہی ہے ،نیویارک ٹائمز اور الجزائر ی میڈیا نے بھارت میں مسلمانوں کی نسل کُشی کرنے کی باتیں کرنے والے لوگوں کے خلاف وزیر اعظم ہند کی خاموشی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔گویا یہاں نفرت کی زبان استعمال کرتے ہوئے شعلے بھڑکانے والوں کو حکومت تحفظ فراہم کرتی ہے اور جو لوگ قانون اور دستور میں رہتے ہوئے حکومت سے سوال کر تے ہیں تو انہیں پابندِ سلاسِل کر دیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کتنے ہی صحافی، وکیل، سماجی جہد کار اور اپنے لئے انصاف طلب کرنے والے جیلوں میں بند کر دئے گئے۔ صرف ایک سال کے دوران نہ جانے کتنے ہی محبانِ وطن پر ملک سے غداری کا مقدمہ درج کر کے کال کوٹھریوں میں بھیج دیا گیا۔ ملک کے دستور نے آزادی ٔ اظہارِ رائے کا جو حق دیا ہے، وہ اب برائے نام ہوکر رہ گیا ہے۔ حالات کی اس سنگینی میں ساری دنیا کے ساتھ ہندوستانی قوم ایک اور نئے سال میں داخل ہو رہی ہے۔ ان ساری محرومیوں اور ناانصافیوں کے علی الرغم سال 2021کو الوداع کہہ کر ہم نے 2022کا استقبال کرلیا ہےکہ دنیا اُمید پر قائم ہے۔قرآن مجید کہتا ہے :’’اللہ کی رحمت سے نااُمید ہونا کفر ہے‘‘ ۔ظاہر ہے کہ پُر امید ہوکر سفر شروع کرنے سے ہی منزلیں ملتی ہیںاوراُمید کا سہارا چھوڑ دینے سے انسانی کشتی گہرے پانی میں ڈوب جاتی ہے۔اس لئے ’’پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ بہار رکھ ‘‘۔
(رابطہ۔ 91+9885210770 )