پرویز احمد
سرینگر //بڑھتی ہوئی گرمی سے نپٹنے کیلئے ہائیڈریٹ رہنا جسم کے درجہ حرارت کو منظم کرنے، توانائی کی سطح برقرار رکھنے اور ہاضمے میں مدد کے لیے ضروری ہے۔ جب آپ کو پیاس لگے تو پی لیں، لیکن دن بھر مسلسل گھونٹ گھونٹ کر پینے کا ارادہ کریں۔
گرم موسم میں یا شدید جسمانی سرگرمی کے دوران آپ کی ضروریات بڑھ جاتی ہیں کیونکہ گرمی کی وجہ سے آنے والے پسینہ کے ساتھ ساتھ جسمانی حیاتیات بھی کم ہوجاتے ہیں۔ جسم میں پانی اور ضروری معدنیات کی کمی بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے سردرد، پٹھوں کا در،بے ہوشی اور تھکاوٹ ہوتی ہے۔ماہرن صحت کا لوگوں کو مشورہ ہے کہ وہ گرمی سے نپٹنے اور ہیٹ سٹروک سے بچنے کیلئے سادہ پانی کے ساتھ آو آر ایس ، ہلکے نمک کے ساتھ نیمبو پانی اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔ موسم گرما کے آتے ہی جسم سے نکلنے والے پسینہ سے نہ صرف جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ جسم میں موجود ضروری معدنیات جیسے سوڈیم ، پوٹاشم، کیلشیم اور میگنشیم بھی خارج ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے جسم میں ان ضروری معدنیات کی کمی ہوجاتی ہے جو نہ صرف اعصابی نظام اور پٹھوں بلکہ دیگر اعضاء کیلئے ضروری ہوتی ہیں۔ کشمیر نرسنگ ہوم میں شعبہ میڈیسن کے سینئر ڈاکٹر مبشر احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پانی میں پہلے سے موجود معدنیات پسینہ کے ساتھ باہر آنے کی وجہ سے جسمانی کمزوری ہوجاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شدید گرمی یا ہیٹ سٹروک سے نپٹنے کیلئے آو آر ایس ، ہلکے نمک کے ساتھ نیمو یاناریل پانی اور متوازن غذا کافی لازمی ہے۔ ڈاکٹر مبشر نے بتایا ’’شدید گرمی میں انسانی جسم کو سورج کی گرمی سے بچانا چاہیے کیونکہ 60سال سے زائد عمر کے لوگوں میں غشی طاری ہونے کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پانی اور معدنیات کی کمی شدت اختیار کرے تو متاثرہ شخص بے ہوش یا صورتحال اس سے زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔ شدید گرمی کے دوران عمر رسیدہ افراد ، بچوں ، بلڈ شوگر ، امراض قلب اور گردوں کے مرض میں مبتلا افراد کو زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ ڈاکٹر مبشر کہتے ہیں کہ ان مریضوں میں یہ ہیٹ سٹروک، بیہوشی طاری کرنے کے علاوہ دیگر علامتوں کو مزید تشویشناک بناتی ہے۔