گداگر

میں بڑا آلسی سا لڑکا ہوں ۔ ہمیشہ اسکول دیر سے جانے پر روز ڈانٹ کھانے کا عادی ہوچکا ہوں ۔ ہمیشہ ماں سے لڑ کر اسکول جاتا ہوں کیونکہ وہ میری نیند خراب کرتی ہیں ۔ گھر سے لے کر اسکول تک میری آلسی کے قصے زبان زد عام تھے۔ آج بھی میں دیر سے اور  بے دل ہوکر اسکول کی طرف نکل گیا ۔ چہرے پر نیند کے نمایاں آثار لے کر ابھی کچھ ہی دور پہنچا تھا کہ سامنے ایک خوفناک چہرہ دیکھ کر ڈر گیا۔ کھلی آنکھ کے خواب سے باہر آکر ہوش و ہواس سنبھالے تو ایک ضعیف بزرگ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔ میں انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا ۔ گرد آلود چہرے کی جھریوں میں دہائیوں کا تجربہ جمع تھا ۔ سفید بالوں سے صاف جھلک رہا تھا کہ زندگی کے نشیب و فراز سے کیسے گزر آئے ہونگے ۔ میلے کپڑے اپنے وقت کے مہنگے ملبوسات میں سے رہے ہونگے۔ آنکھوں میں جیسے سمندر قید تھا مگر زمانے کے خوف سے باہر آنے سے ڈرتا ہو۔  وہ میرے سامنے ہاتھ پھیلائے ابھی بھی کھڑے تھے لیکن نہ جانے کیوں زبان سے ایک لفظ نہ نکالا شاید وہ گداگری نہیں جانتے تھے ۔ 
انہوں نے مجھے نظر اٹھا کر دیکھا تو میں کانپ سا گیا ۔ مجھ میں ان سے نظر ملانے کی ہمت نہیں تھی اور میں نے نظریں جھکا لی ۔ وہ آگے بڑھ گئے ۔ میں کچھ دیر انکی حالت پر سوچتا رہا پھر سنبھلا  اور ان کے پیچھے دوڑا ۔ جب ان کے قریب پہنچا تو وہ میری آہٹ بھانپ گئے اور پلٹ کر مجھے دیکھنے لگے جیسے وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہوں ۔۔ کچھ مانگنا چاہتے ہو۔ 
میں نے ان کی خاموشی میں چھپے الفاظ سمجھ لئے اور انہیں گھر آنے کو کہا ۔ مگر وہ نہیں مانے ۔ کافی ضد کے بعد انہوں نے حامی بھری ۔ 
گھر پہنچتے ہی وہ باہر کے دروازے کے پاس بیٹھ گئے ۔ انہیں معلوم تھا کہ ہمارے معاشرے میں گداگروں کیلئے یہی جگہ رکھی گئی ہیں ۔ مجھ سے یہ نہ دیکھا گیا کہ کسی کی جنت کا در میری دہلیز پر ہو اور میں انہیں اندر لے گیا ۔ ماں سے ان کیلئے کھانا لگانے کو کہا ۔ تب تک میں نے انہیں غسل خانے جانے کو کہا اور اپنے والد صاحب کے کپڑے دئے ۔ 
جب وہ باہر آئے تو ایسا لگا جیسے وہ کسی بڑے عہدے پر فائر رہے ہوں اور انہوں نے زندگی کی بھر پور بہاریں گزاری ہوں ۔ 
کھانے کے بعد میں نے ان سے انکی حالت کے بارے میں دریافت کیا ۔ 
"میرا نام مختار احمد ہے ۔۔ اپنے وقت کے بڑے تاجروں میں شمار کیا جاتا تھا ۔ "
' بیٹا ۔ ۔ باپ زندگی بھر اپنی اولاد کی ہر خوشی کا خیال رکھتا ہے ۔ اپنے بچوں کو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتا ۔ ہر سکھ ان کیلئے مہیا رکھتا ہے ۔ ۔۔ میرا ایک ہی بیٹا ہے جو ڈاکٹر ہے '
"ڈاکٹر۔؟ " میں نے حیرت سے پوچھا۔ 
'ہاں ۔ ڈاکٹر ۔ تم حیران مت ہو ۔ جب بچے بڑے ہوجاتے ہیں اور والدین بوڑھے تو انہیں بوڑھے عذاب لگتے ہیں، جیسے میرے بیٹے کو میں لگا تھا ۔ تم جانتے ہو میں گداگر کیوں  بنا ہوں ۔۔ کیونکہ میری کوئی بیٹی نہیں ہے ۔ یہ کون ہے جو بیٹیوں کو سردرد اور بوجھ سمجھتے ہیں ۔ ان سے کہو کہ بیٹی ہمیشہ بیٹی رہتی ہے اور بیٹا صرف تب تک بیٹا ہے جب تک وہ کسی کا شوہر نہیں بنتا ۔" 
میں انکی گفتگو غور سے سنتا رہا ۔ ان کی آنکھوں سے بہتے گرم گرم آنسو بے رحم اولاد پر جیسے بم برس رہے تھے ۔ جب میری نظر دور بیٹھی امی جو رو رہی تھی پر پڑی تو میں دوڑ کر ان سے لپٹ کر خوب رونے لگا ۔ 
وہ بزرگ خوب گریہ کرتے رہے لیکن اپنی اولاد پر نہیں بلکہ اپنے حالات پر اور اس سکون پر جو کسی باپ کو بڑھاپے میں نصیب ہوتا ہے ۔ میں انکی آنکھوں کو تکتا رہا ۔ وہ کچھ دیر یونہی اشک بہاتے رہے پھر آخر اپنے حالات پر ہلکا سا قہقہہ مارا " ہا ۔ ہا ۔ چلو بیٹا یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے ۔ قدرت کو میرے لئے گداگری منظور تھی تو یہی سہی ۔ یہ کوئی غم نہیں ہے جسے میں پال رہا ہوں بلکہ میرا نصیب ہے ۔" 
اور وہ چل دیئے ۔۔
رابطہ؛ہندوارہ ،کپوارہ
شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی
موبائل نمبر؛9596253135