عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن (KTMF)کے ایک وفد نے صدرمحمد یاسین خان کی قیادت میںجمعہ کو جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور تاجروں، روایتی دستکاروں اور مزدوروں کو درپیش طویل عرصے سے زیر التوا مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔وفد میں کے ٹی ایم ایف کے سینئر عہدیدار’قاضی توصیف‘، گاندربل ٹریڈرز فیڈریشن کے صدرغلام حسن پرہ، نائب صدرمعراج الدین شیخ، کشمیر کاپر ورکرز ٹریڈ یونین کے چیئرمین جان محمد مسگراور صدرارشد احمد خان بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران گاندربل ٹریڈرز فیڈریشن نے ترقیاتی منصوبوں کے باعث متعدد دکانداروں کی ممکنہ بے دخلی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی تاجر کو روزگار سے محروم نہ ہونے دیا جائے۔ وفد نے بے دخلی سے قبل مناسب متبادل جگہ اور جامع بازآبادکاری پیکیج فراہم کرنے کی اپیل کی۔کشمیر کاپر ورکرز ٹریڈ یونین، جو تقریباً 50ہزارکارکنوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے وادی کی صدیوں پرانی تانبے کی دستکاری کو درپیش خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے مشین سے تیار کردہ تانبے کی مصنوعات پر فوری پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔ یونین کا کہنا تھا کہ ان مصنوعات کی وجہ سے ہزاروں مقامی دستکاروں اور کاریگروں کا روزگار شدید متاثر ہوا ہے۔
وفد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہاتھ سے تیار کردہ کشمیری تانبے کی مصنوعات کے تحفظ، روایتی صنعت کے فروغ اور اس شعبے سے وابستہ کاریگروں کے لیے پائیدار روزگار کو یقینی بنانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔ اس کے علاوہ تانبے کے کاریگروں کو ادارہ جاتی تعاون، منڈی کے تحفظ، مقامی ہنرمندی کے فروغ اور روایتی صنعت کی بحالی کے لیے پالیسی اقدامات پر بھی زور دیا گیا۔کے ٹی ایم ایف نے ہاسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ محکمہ کے تحت تاجروں کے کرایہ سے متعلق طویل عرصے سے زیر التوا تنازعات کا معاملہ بھی وزیر اعلی کے سامنے اٹھایا اور متعلقہ حکام کو ان مسائل کے فوری حل کی ہدایت دینے کی درخواست کی۔ملاقات کے بعد محمد یاسین خان نے کہا کہ تاجر برادری، روایتی دستکار اور مزدور کئی برسوں سے مختلف حقیقی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے بے دخل ہونے والے تاجروں کی بازآبادکاری، تانبے کی روایتی صنعت کے تحفظ اور کرایہ سے متعلق تنازعات کے فوری حل کا مطالبہ کیا، کیونکہ ان مسائل سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے وفد کے تمام مطالبات کو غور سے سنا اور یقین دلایا کہ حکومت تاجروں، دستکاروں اور مزدوروں کے جائز مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کرے گی اور تمام معاملات کا ہمدردانہ جائزہ لے کر جلد مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔