پرویز احمد
سرینگر //پچھلے 10سال کے دوران جموں و کشمیر میں سرطان معاملات میں بے تحاشہ اضافہ کے بعد جموں و کشمیر سرکار،سرطان سے نپٹنے کیلئے نیتی آیوگ ، انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ اور محکمہ ہیلتھ ریسرچ کے ساتھ ملکر سرطان سے نپٹنے کیلئے ایک جامعہ اور موثر پالیسی ترتیب دینے جارہی ہے۔ اس بات کا فیصلہ نئی دلی میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران کیا گیا ۔ میٹنگ میںجموں و کشمیر میں کینسر پالیسی کو حتمی شکل دینے، بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور سٹیٹ کینسر رجسٹری کو وسعت دینے پر زور دیا گیا ۔ یہ مشاورتی اجلاس بھارت منداپم نامی تنظیم کی جانب سے بلایا گیا تھا، جس میںریاستی اور قومی سطح کی طبی ایجنسیاں کے افسران نے شرکت کی ۔
میٹنگ میں جموں و کشمیر میں سرطان کی ہیت، متحدہ کنٹرول سسٹم، موجودہ طبی اداروں میں بہتری ،ابتدائی طور پر سرطان کی پہچان کیلئے آبادی میںسکرینگ کے خصوصی پروگراموں کا انعقاداور موثر نتائج کے حصول کیلئے طبی سہولیات کے استعمال پر زور دیا گیا ۔ ماہرین نے جموں و کشمیر میں سرطان کی تشخیص کیلئے Centre for Implementation Research in Oncology کے قیام پر بھی زور دیا ، جس میں بیماری سے نپٹنے کیلئے مختلف حل کو تلاش کیا جائے گا اور سرطان کی وجہ سے پیدا ہونے والے درد سے نپٹنے کیلئے بھی سہولیات فراہم کرے گا۔ میٹنگ میں جموں و کشمیر میں سٹیٹ کینسر رجسٹری کا قیام اور بنیادی ڈھانچے میں بہترین لانے کا بھی مشورہ دیا گیا۔
بیماری کا پھیلائو
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر روز سرطان کے 38نئے معاملات کا اندراج ہورہا ہے اور پچھلے 5سال کے دوران 67ہزار معاملات کی تصدیق ہوئی ہے ۔ لوک سبھا میں مرکز وزارت صحت کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ پچھلے 10سال کے دوران جموں و کشمیر میں سرطان کے 1لاکھ 50ہزار سے زیادہ معاملات کا اندراج ہوا ہے۔ سال 2024کے دوران 14112، سال 2023میں 13,744، 2022میں 13395، 2021 میں 13060 ،2020میں 12726 ، 2019میں12396، 2018میں 17351، 2017میں 16480، 2016میں 15652اور سال 2015میں 14864معاملات سامنے آئے ہیں۔ اس طرح پچھلے 5سال کے دوران ہر دن اوسطاً 38نئے معاملات سامنے آئے ہیں۔ مرکزی وزارت صحت نے پچھلے 10سال کے دوران 1لاکھ 50ہزار سرطان معاملات سامنے آنے کی بھی تصدیق کی ہے۔