کیمپوں کی چوکسی بڑھانے اور الارم نصب کرنے کی ہدایات

سرینگر//فورسز کیمپوں کے باہر پہرے کو مزید سخت کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے داخلہ سیکریٹری راجیوگوبانے کہا کہ وزارت داخلہ سلامتی اقدامات بہتر بنانے کیلئے بھر پور معاونت فرہم کرے گی۔داخلہ سیکریٹری نے اس دوران ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کی،جس کے دوران ریاست میںمجموعی سیکورٹی اور امن و قانون کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی سیکری داخلہ راجیو گوبا نے وادی کے 2روزہ دورے کو سمیٹتے ہوئے پانپور کے لیتہ پورہ فورسز کیمپ کا دورہ کیا،جہاں گزشتہ برس کے آخری روز جنگجوئوں کے فدائین حملے میں5اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ سیکریٹری داخلہ کے ہمراہ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید،سی آر پی ایف ڈائریکٹر جنرل اور پولیس کے صوبائی سربراہ ایس پی پانی بھی موجود تھے۔ذرائع کے مطابق داخلہ سیکریٹری نے مذکورہ کیمپ کا دورہ کرنے کے دوران فورسز کے اعلیٰ افسران پر زور دیا کہ فورسز کیمپوں کے باہر پہرے کو مزید سخت کیا جائے،جبکہ باہری دیواروں کو مضبو ط بنانے کے علاوہ ان میں آگاہی کیلئے الارم بھی نصب کئے جائیں۔ذرائع نے مزید کہا کہ داخلہ سیکریٹری نے معیاری ضوابط طریقہ کار(ایس او پی) پر عمل کرنے اور انہیں اپنانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ جنگجویانہ حملوں یا کارروائیوں کے دوران جانی نقصانات سے بچنے کی کوششوں کو تیز کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق کیمپوں کے ارد گر چوکسی بڑھانے،خفیہ نیٹ ورکوں کو تیز کرنے اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کو مزید بہتر بنانے پر بھی افسران پر زور دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق داخلہ سیکریٹری نے کہا کہ فورسز کیمپوں کو مستحکم کرنے اور انکی سیکورٹی کیلئے بھر پور اقدامات اٹھانے کے حوالے سے معقول مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق  لیتہ پورہ کادورہ کے دوران اسبات پرزوردیا گیاکہ جنگجوئوں کے خطرناک منصوبوں کوناکام بنانے کیلئے موشرحکمت عملی مرتب کی جائے ۔ اس دوران منگل کی صبح سری نگرمیں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کیساتھ اہم میٹنگ کے بعدمرکزی داخلہ سیکرٹری راجیوگوبانے اپنادورہ کشمیرمکمل کرلیا۔وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سرکاری رہائش گاہ واقع گپکارروڑپرہوئی اس میٹنگ کے دوران جموں وکشمیربالخصوص وادی میں امن وقانون کی صورتحال کااحاطہ کیاگیا۔سرکاری ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وزیراعلیٰ اورمرکزی داخلہ سیکرٹری کے درمیان ہوئی میٹنگ کے دوران ریاست کی مجموعی سیکورٹی صورتحال پرغوروخوض کیاگیا۔