کیا یہی میری محبت کا صلہ ہے؟

امریکی صدر ٹرمپ جی اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی جی کا یارانہ کوئی نیا نہیں، کچھ پرانا ہی نظر آرہا ہے۔ وہ وقت آج بھی ہم اہلیانِ ہندکوبالکل یاد ہے جب امریکہ میں انتخابِ عام ہونے والا تھا اور ٹرمپ جی کی حمایت میں وزیر اعظم مودی جی ،جنھیں میں بہت پیار سے صاحب جی لکھا کرتا ہوں امریکہ تک پہونچ گئے اور اُن کے ہمنواؤں نے ٹرمپ جی کی انتخابی کامیابی کے لیے ہندوستان میں بھی پوجا پاٹ تک کرڈالا تھا، سوشل میڈیا کی سرخیوں میں تو یہ بات تک آگئی تھی کہ ٹرمپ جی وہ انتخاب جیتتے ہی نہیں مگرصاحب جی کے ہی مشوروں سے انہوں انتخاب ِعام میں کامیابی حاصل کر کےاقتدار کی کرسی پائی ہے۔ شایدان دونوں اصحاب کے مابین یارانے کا آغاز اسی وقت ہوا تھا جب کرونا نامی وائرس نے چین میں جنم لے لیا تھااور توانا ہوکر کرونا نےجب اپنا جال پھیلانا شروع کیا تھاتو اکثر ممالک نے اپنی سرحدوں کو سیل کرنا شروع کردیا تھا،بعینہ اُسی وقت اسی وقت امریکی صدر ٹرمپ جی دورہ ہند پر تھے اور صاحب جی نے اپنے اس یار کی آؤ بھگت میں پانچ،دس کروڑ نہیں بلکہ تقریبا ایک سو بیس کروڑ تک خرچ کر ڈالے اور اس کے معا بعد جب کرونا نے پوری دنیا کو اپنی جال میں لے لیا تو ہر طرف مہا ماری کا دور دورہ ہوگیا ۔ کورونا نامی قدرت کے قہر سے جو صورت حال پیدا ہوگئی ہے اُس سے اس وقت ساری دنیاجوجھ رہی ہے۔چنانچہ جب اپنے ملک میںبھی کرونا کی مہاماری کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہوا، تب ہمارے صاحب جی کو عوام سے ہی چندہ تک مانگنا پڑا۔ اپنے ملک کی مہمان نوازی شاید پہلے اتنی مشہور نہ رہی ہو جتنی صاحب جی نے اپنےیارانے کو نبھانے کے لئےاپنے اس طرز عمل سے کر دکھائی ہے۔جبکہ قابل غور بات تو یہ ہے کہ دہلی سے لے کر آگرہ تک صاحب نے جن مقامات کی زیارت ٹرمپ جی کو کرائی ،وہ وہی مقامات تھے جنھیں ہر موقع پر دہشت گرد کہے جانے والی قومِ مسلم کے سابقہ حکمرانوں نے بنوائے تھے۔ خیر  پوری دنیا جانتی ہے انھیں مقامات کی زیارت سے ملنے والی خطیر رقم حکومتوں کی گاڑیوں کا ایک پہیہ چلاتی ہے۔ مگر تعجب اس وقت ہوا جب امریکی صدر کے اس دورہ ہند میں کئی ایک غیر ملکی صحافیوں اور سفیروں نے بھی شرکت کی تو ان میںبالخصوص چینی بھی تھے جبکہ پوری دنیا جان چکی تھی کہ کورونا وائرس جیسی مہلک وبا کی پیدائش چین ہی میں ہوئی ہے اور جس طرح ہندوستانی میڈیا نے مرکز کے معاملہ کو لے کر چھوا چھوت کی حد پار کردی تھی، اُس کے تناظر میں یہ کہنا بلکہ ہی ناروا نہیں ہوگا کہ شاید انھیں غیر ملکیوں کی اس شمولت سے ہی اپنے عزیز ترین ملک ہندوستان میں کورونا نے قدم رکھا۔ خیر ملک کے وزیر اعظم اور ان کے ہمنواؤں نے ٹرمپ جی کی یاری میں آخر کیا کمی کردی کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود جب دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ    ؎
کیا کیا نہ کیا یار نے دل دار کے لیے
تبھی اس دل دار نے ایسا زخم دیا کہ پوچھئے مت! اس مصیبت کی گھڑی میں ہی اُس نےاپنا پانسا بدلا،یہاں تک کہ اپنے یار کو دھمکی تک دے ڈالی کہ اگر انھوں نے ملیریا کی دوا امریکہ نہیں بھیجی تو یار کو دل دار کے حسین جلووں کانہیں کڑوے عتابوں کا شکار ہونا پڑے گا۔ اور تعجب کی بات تو یہ بھی ہے کہ چوکی دار کے نام سے مشہور چھپپن(۵۶) انچ کے سینے والے ہمارے ملک کے وزیر اعظم جناب مودی جی نے اس دھمکی کے آگے سر تسلیم خم کردیا۔ اب اس دھمکی کو لے کر صاحب جی کے کیا تاثرات ہیں یہ تو من کی بات ہے۔ پردے میں ہے اور شاید آگے بھی ایک معمہ بن کر رہ جائے، مگر اہلیان ِہند کی دلی صدا یہی ہے۔ کیا یہی میری محبت کا صلہ ہے؟
(کالم نگار ’’ہماری آواز‘‘گولا بازار،گورکھپور کےایڈیٹرہیں)
 
 
 
 
9792125987