ٹی ای این
سرینگر// مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی شعبے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر مالی سال 2025-26 کے دوران کھاد کی مجموعی ضرورت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم پیشگی منصوبہ بندی، مقامی پیداوار اور درآمدی معاہدوں کی بدولت کسانوں کو کھاد کی فراہمی مستحکم رکھی گئی ہے۔پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق محکمہ زراعت و کسانوں کی بہبود ہر فصلی موسم سے قبل ریاستی حکومتوں کے ساتھ مشاورت کے بعد کھاد کی ضرورت کا تخمینہ لگاتا ہے، جس کی بنیاد پر محکمہ کھاد مقامی پیداوار، درآمدات اور تقسیم کا منصوبہ تیار کرتا ہے تاکہ کسانوں کو بروقت کھاد دستیاب ہو سکے۔
حکومت کے مطابق 2025-26 کے لیے ملک میں کھاد کی مجموعی ضرورت 677.18 لاکھ میٹرک ٹن مقرر کی گئی، جبکہ 2024-25 میں یہ ضرورت 649.43 لاکھ میٹرک ٹن تھی، یعنی تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت نے ان خبروں کو بھی مسترد کیا جن میں کھاد کی طلب میں 41 فیصد اضافے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔حکام نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی ضرورت کے باوجود مقامی پیداوار اور حکمت عملی کے تحت کی گئی درآمدات کی وجہ سے ملک میں کھاد کی دستیابی تسلی بخش رہی ہے۔حکومت نے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کیے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت سعودی عرب سے 31 لاکھ میٹرک ٹن ڈائی امونیم فاسفیٹ (DAP)، اردن سے 2.5 لاکھ میٹرک ٹن میوریٹ آف پوٹاش (MOP)، مراکش سے 25 لاکھ میٹرک ٹن DAP اور ٹرپل سپر فاسفیٹ (TSP)،اور روس سے 30.10 لاکھ میٹرک ٹن DAP اور NPK کھاد کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں سے عالمی جغرافیائی کشیدگی، تجارتی رکاوٹوں اور بین الاقوامی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باوجود کھاد کی سپلائی محفوظ بنانے میں مدد ملی ہے۔