علم و دولت نظم کار ملت است
علم و دولت اعتبار ملت است
آن یکے از سینۂ احرار گیر
و دگر از سینۂ کہسار گیر
اقبالؒ
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’سنریھم آیاتنا فی الآفاق و فی انفسھم ‘‘یعنی ہم عنقریب ان کو آفاق و نفس میں چھپی ہماری نشانیوں کا مشاہدہ کرائیں گے۔ ( سورہ حم السجدہ آیت35)
ریاض دہر میں ملت مرحومہ کی زبوں حالی کی متعدد وجوہات میں کشمکش حیات اور تنازع للبقاء سے بیگانی دو بڑی وجوہات ہیں۔قوائے دماغی سے جب تذکر،تدبر،تفکر،تعقل اور تفقہہ کی حس مفقود ہو جائے تو حسرتوں کی یلغار کے سوا کسی خیر کی توقع ہماری نادانی کی دلیل بھی اور سبیل بھی ہے۔تلوار چلانا کوء ہنر نہیں،تلوار بنانا ایک اعزاز ہے۔مگر جب میدان عمل سے فرار اور عیاشی سے پیار،ہماری رگ و پے میں پیوست ہو جائے تو قوت بازؤ کا ضعف کسی ہتھیار کا سہارا لینے پے آمادہ کرتا ہے اور یہی مرض مہلک افراد و اقوام کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے اور فی الحال کئی صدیوں سے ملت مرحومہ کی تباہی اور تنزل کا یہ سلسلہ طوفان نوح کا منظر پیش کر رہا ہے۔فرق اتنا ہے کہ وہاں غرقاب ہوئے تو وہ ہوئے جنہیں اللہ کے وجود پے انکار تھا مگر یہاں ڈوبتے چلے جا رہے وہ جنہیں دنیا کی رہبری کے لئے،امن و خوشحالی کے لئے ،اپنے نفس اور حوالی کے لئے،ایک مستقل معجزے اور مکمل ضابطہ حیات کے ساتھ منتخب و معمور کیا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ علم و عمل کے زیور زریں سے آراستہ ایک قوم نے دنیا سے جبر و استبداد اور جورو جفا کی قبائیں چاک کرکے،زمانے کو اچھی طرح بتا دیا کہ روح و بدن کی حدود کیا ہیں اور عز و شرف کی معراج کن عادات سے متصل ہے۔عدل و انصاف اور حق گوئی و بیباکی کن امراض کی کیمیا ہے اور حیات مستعار کا حاصل کیا ہے؟
داستان طویل بھی ہے اور دلخراش بھی ۔اس لئے یہاں اسکا احاطہ نہ مطلوب ہے نہ ممکن ۔بس ایک عظمت رفتہ کی تصویر آنکھوں کے سامنے ابھر رہی ہے اور ایک سرود رفتہ کے ساز کی حسرت ہے۔اسی تڑپ اور اسی درد کے احساس کو جبین قرطاس پے ہدیہ ناظرین کر رہا ہوںشاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات اور تہذیب و تمدن کے خاکستر سے ایک نئے آدم اور اسکی پناہ کے لئے ایک نئی دنیا تعمیر ہو۔
قران مقدس کی ایک آیت ہے’’ان الللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم ‘‘یعنی اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک نہ وہ اپنی حالت آپ بدلے۔اس حالت کو بدلنے کے لئے ملت مرحومہ کی تربیت کا آغاز ہی "اقراء "سے ہوا۔ظاہر سی بات ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جسکی بدولت انسان انسانیت کے شفق پے بدر منیر کی طرح دنیا کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے اور اپنے صحن کا چراغ۔مگر ابلیسی ریشہ دوانیوں اور تخریب کے بھنور میں پھنس کر ہم نے یہ طے کر لیا کہ دنیا میں ہمارا حصہ نہیں بلکہ گوشہ نشینی میں تکبیر و تمہید اور تسبیح کے دانوں کا شمارجنت کے آٹھوں دروازے کھولنے کی ضمانت ہے۔یہ درس مدتوں غیروں نے نہیں بلکہ اپنوں نے دیا اور مساجد کی بہ نسبت خانقاہیں توجہ کا مر کز بنتی گئیں۔حاصل یہ ہوا کہ اس قوم کی اکثریت نے مذہب کی تجارت کو سہل بھی پایا اور جائز بھی گردانا۔اسی منظر سے دلبرداشتہ ہو کر شاعر مشرق نے بجا فرمایا تھا ؎
مست رکھو ذکر و فکر صبح گاہی میں اسے
پختہ تر کردو مزاج خانقاہی میں اسے
اور ہم بھول گئے "الدنیا مزار عتہ الآخرہ" کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ یہ قافلہ ہی اب نرم سیر،گرم گفتار،قبائے خسروی کا شیدائی ہے مگر شان درویشی کی اداؤں سے یکسرعاری۔اسے تغافل شعاری کہیں،کور چشمی کہیں یا خود فریبی !
جس فرد یا قوم میں یہ عقیدۂ باطل جاگزیں ہو جائے کہ وجود انسانی سالمات مادی کا مجموعہ ہے وہ فرد یا قوم جنت الحمقاء کے قعر ذلت میں زندگی کی بازی ہارنے میں لذت محسوس کرتی ہے اور مجوسیت،رہبانیت،زندیقیت اور عجمیت جیسی سوچ و عمل کو شہ ملتی ہے۔اس دلدل سے نجات کی واحد رہ گزر تعلیم ہے جسکی بدولت انفس و آفاق کے اسرار سے آگاہی ہو سکتی ہے۔جس قوم نے مطالعہ کو اپنا حرز جاں بنایا،اس قوم نے چاند تاروں پے کمندیں ڈالی اور ساری دنیا کو اپنا زیرنگیں بنایا۔
کبھی غرناطہ اور قرطبہ کے دانش کدوں سے یورپ کے طلبہ،سائنس اور فلسفہ حاصل کرکے اپنی اپنی قوم کی خوشحالی کے لئے کارنامے انجام دیتے تھے لیکن رفتہ رفتہ تن پروری اور عیاشی نے اس قوم کے معلمین کے جمود اور بے حسی نے انہیں اپنے منصب سے گرا کرآوارہ اور اوباش کرداروں کا ہم نشیں بنا دیا۔اب ہماری تجوری میں سوائے جذبات کے کچھ بچا ہی نہی ہے۔اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کے اندر تخلیقی مزاج اور سائنسی سوچ پیدا کریں اور تیر چلانے کی بجائے ڈھال بنانے کا ہنر سیکھیں اور ہمارا دستور حیات ہمیں اسی کی ببانگ دہل آواز دیتا ہے۔
"من یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا "…(القرآن)۔یعنی جسے حکمت عطا کی گئی اسے بہت بڑی بھلائی مل گئی۔
گفت حکمت را خدا خیر کثیر
ہر کجا ایں خیر را بینی بگیر
اقبالؒ
اس مضمون کے محرک،جذبات پے بادل نا خواستہ لگام کسنے سے قبل اس تحریر کے شروع میں فارسی اشعار کا اجمالی خلاصہ یوں ہے کہ علوم و فنون کا حصول اور سائنیسی مزاج ہی کہسار کے سینے یعنی زیر زمین دفن خزانوں اور گنجینوں کو دردست لانے کی کلید اور مالی خوشحالی اور اخلاقی برتری کی ضمانت ہے۔لہٰذا بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب نئی نسل کو تخریب سے بھی اور تخریبی عناصر سے بھی کنارہ کش رہ کر قوم و ملت کی اجتماعی تعمیر کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے حصول علم کے لئے اپنے قیمتی وقت کو وقف کرنا چاہئے تا کہ رزائل و خرافات اور فسادات سے پاک معاشرہ معرض وجود میں آئے۔
رابطہ۔نیل چدوس،بانہال ،رام بن ،جموںوکشمیر
فون نمبر۔ 8493990216