جموں //لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے سنیچر کو 272 کلو میٹر طویل اودھمپور ۔ سرینگر ۔ بارہمولہ ریلوے لائن پر جاری کام کی پیش رفت کا سول سیکرٹریٹ جموں میں منعقدہ ایک میٹنگ میں جائیزہ لیا ۔ یہ ریلوے لائن 27,949 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر کو بتایا گیا کہ 161 کلو میٹر طویل پروجیکٹ پر کام شروع کیا گیا ہے ۔ انہوں نے ریلوے حکام کو کٹرہ سے بانہال تک کا باقی ماندہ حصہ 15 اگست 2022 تک مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تعمیراتی ایجنسی کو پروجیکٹ کی بروقت تکمیل کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا یقین دلایا ۔ واضح رہے کہ دُنیا کا سب سے اونچا پُل جس کی اونچائی 359 میٹر ہو گی پروجیکٹ کے تحت دریائے چناب پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اسی طرح بھارت کا پہلا کیبل ریلوے پُل ریاسی میں انجی نالے پر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ لفٹینٹ گورنر نے ریلوے حکام کو ریل لنک کو راجوری ۔ پونچھ اور کپواڑہ خطے کے غیر منسلک علاقوں تک توسیع دینے کیلئے کہا ۔ اس ضمن میں ریلوے افسروں نے لفٹینٹ گورنر کو جانکاری دی کہ 223 کلو میٹر طویل جموں پونچھ ریلوے لنک جس پر22768 کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے اور جس کا منصوبہ 2017 میں پیش کیا گیا تھا اور 39 کلو میٹر طویل بارہمولہ کپواڑہ ریل لنک جس پر تخمیناً 3843 کروڑ روپے کی لاگت آنے کا تخمینہ ہے کا سروے بھی مکمل کر کے ریلوے بورڈ کو جولائی 2020 میں بھیج دیا گیا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ریلوے حکام کو دونوں پروجیکٹوں کیلئے مفصل پروجیکٹ رپورٹ تیار کرنے کیلئے کہا تا کہ معاملہ وزارتِ خزانہ کے ساتھ اٹھاکر پروجیکٹوں کیلئے منظوری حاصل کی جائے ۔ ریلوے حکام نے لیفٹیننٹ گورنر سے درخواست کی کہ وہ ضلع رام بن میں مدنیاتی صغیرہ کی عدم دستیابی کے مسئلے کا ازالہ کریں ۔ ایل جی نے موقعہ پر ہی ڈائریکٹر جیالوجی اینڈ مائیننگ اور ڈپٹی کمشنر رام بن کو قلیل مدتی پرمٹ جاری کرنے کی ہدایت دی تا کہ ریلوے حکام بلا رکاوٹ لازمی تعمیراتی مواد حاصل کر سکیں ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ریلوے حکام کو کشمیر میں ڈسٹا ڈوم کوچ چلانے کیلئے کہا تا کہ کووڈ صورتحال میں بہتری آتے ہی سیاحوں کو راغب کیا جا سکے اور انہیں وادی کشمیر کے قدرتی نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقعہ فراہم کیا جا سکے ۔ گورنر کی مداخلت پر ریلوے حکام نے کٹھوعہ اور اودھمپور کے درمیان مقامی مسافروں کیلئے لوکل ٹرین سروس چلانے کو منظور کیا ۔ یہ لوکل ٹرین سروس کووڈ وباء کی صورتحال میں بہتری آتے ہی شروع کی جائے گی ۔ انہیں مزید بتایا گیا کہ یوٹی حکومت کی درخواست پر ریلوے نے اپنی لاگت پر مادھو پور کے نزدیک پُل تعمیر کرنے کی حامی بھر لی ہے تا کہ پٹھانکوٹ اور لکھن پور کے مابین ٹریفک دباؤ کم ہو سکے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے ریلوے حکام اور جے کے ایس آر ٹی سی کو سنگل ٹکٹ سفر سہولیت شروع کرنے کیلئے کہا تا کہ مسافروں کو کشمیر سے کنیا کماری تک بذریعہ ریل اور بس سفر کرنے کا موقعہ فراہم کیا جا سکے ۔