کوچنگ مراکز کی اہمیت اور افادیت سے کسی کو انکار نہیں۔خاص کر سائنسی مضامین کی کوچنگ میں کوچنگ مراکز کا بہت ہی اہم کردار رہا ہے۔ڈاکٹر یا انجینئر بنانے کی آرزو میں والدین بچوں پر گنجائش سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کوچنگ سینٹروں کی مقبولیت حد سے زیادہ بڑھ رہی ہے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوچنگ سینٹر چلانے والے من مانیاں کریں اور لوگوں کو دھوکہ دے کر خوب مال کمائیں۔کوچنگ سینٹروں میں فیس کی مانگ آسمان چھو رہی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔سرمائی تعطیلات سے پہلے ہی گاؤں دیہات سے طلبہ و طالبات شہروں اور قصبوں کی طرف رخ کرتے ہیں۔ والدین بچوں کی فیس اور دوسرے اخراجات پورا کرنے کے لئے یا تو زمین بیچتے ہیں یا باغات گروی رکھتے ہیں۔ جو طلباء شہریا قصبے میںسائنس کی پڑھائی کیلئے آتے ہیں، ان کو کمرہ بھی کرایہ پر لینا پڑتا ہے اور پھر کھانے پینے کے اخراجات بھی ۔کل ملا کے یہ بہت بڑی رقم بنتی ہے جو غریب والدین کو مفلسی کے دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔کبھی کبھار یہ بوجھ اتنا بھاری ہوجاتا ہے کہ والدین کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ غریب طلباء کو ٹیوشن چھوڑ کر گھر لوٹنا پڑتا ہے۔اب سارے غریبوں کے پاس بی پی ایل کارڈ تو ہوتا نہیں ہے وہ بھی خاص لوگوں ملتا ہے۔کوچنگ سینٹر چلانے والوں کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔پانچ مہینے کا نصاب ایک سال میں بھی پورا نہیں ہوتا۔اساتذہ حضرات اتنی سست رفتار سے پڑھاتے ہیں کہ طلباو طالبات تنگ آکر خود ہی بھاگ جاتے ہیں۔فیس وصول کرنے کے بعد اساتذہ ٹال مٹول کرتے رہتے ہیں ۔حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہ اس بات کی طرف دھیان ہی نہیں دیتے ہیں کہ یہ طلبا کسی ادارے میں زیر تعلیم بھی ہوتے ہیں۔جہاں ان کی مسلسل غیر حاضری درد سر بن جاتی ہے نتیجتاً طلباء کو ٹیوشن چھوڑ کر اسکولوں میں حاضر ہونا پڑتا ہے پھر چاہیے سیلبس پورا کیا گیا ہو یا نہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ ان بچوں کا درد کوئی نہیں سمجھتا۔کوچنگ سینٹر والے بالکل بھی نہیں۔ بہتر یہی ہوتا اگر کوچنگ سینٹر چلانے والے وقت پر سیلبس پورا کرتے اور بچوں کو مختلف قسم کی پریشانیوں سے دور رکھتے۔اس کے بعد کوچنگ مراکز میں صرف وہ طلبا وطالبات رہ جاتے ہیں جو یا تو رئیس گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کو تعلیمی اداروں سے خصوصی رعایت ملی ہو۔ لیکن وہ طلبا بھی جب اکتوبر میں امتحان کے وقت گھر لوٹتے ہیں تو ان کی زبان پر بھی شکا یت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔کوئی فزیکس کی بات کرتا ہے تو کوئی کمسٹری یا بیالوجی کے ادھورے سیلبس کی بات کرتا ہے۔غرض سب پیسوں کا کھیل ہے۔خلوص ، حقوق، حلال اور حرام سے کسی کو کوئی مطلب نہیں۔اس معاملے میں گیارہویں جماعت کے طلبا وطالبات سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ان کی طرف بہت کم توجہ مبذول کی جاتی ہے۔
اب آپ ہی فیصلہ کیجئے کہ جوابدہی لازمی ہے کہ نہیں۔اگر پرائیویٹ سکولوں کے فیس پر انگلی اٹھائی جاتی ہے تو کوچنگ مراکز کے فیس پر کیوں نہیں۔کوچنگ مراکز میں تو سب سے زیادہ فیس وصول کیا جاتا ہے وہ بھی بغیر کسی خاص انتظام کے۔
اب آخر میں ایک اہم نقطہ۔پچھلے کئی برسوں سے نا مساعد حالات کی وجہ سے کوچنگ مراکز بند رہے اور کووڑ کی چھٹیوں میں بھی بچوں کو فیس ادا کرنے کے بعد گھر میں ہی رکنا پڑا کیونکہ کوچنگ مراکز کو بند کیا گیا۔ان حالات میں کیا کسی کوچنگ سینٹر نے غریب بچوں کو فیس واپس دیا؟۔نہیں نا! تو کیا یہ گھوٹالہ نہیں ہے ؟ یہ بہت بڑا دھوکہ ہے جس کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔رجسٹریشن کے وقت ہی ان کوچنگ مراکز کے قائدین سے ایک حلف نامہ لینا چاہیے تاکہ وہ بچوں کا سیلبس مخصوص وقت میں پورا کریں یا بچوں کا آدھا فیس واپس کریں۔تاکہ ان غریب اور پسماندہ والدین کو انصاف ملے جو بچوں کی تعلیم کے لئے غربت کے دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔۔کوچنگ سینٹروں میں حاضری کا باضابطہ انتظام ہو اور والدین کو بچوں کی کارکردگی کے بارے میں مطلع کیا جائے۔سیکشن بہت بڑے نہ ہوں۔الغرض سست رفتاری کو تیز رفتاری میں بدل دیا جائے ۔
پتہ۔ قصبہ کھْل،کولگام کشمیر