کوویڈ علاج میں سٹرائیڈ کا استعمال بند کرنیکی ضرورت

نئی دہلی // مرکزی  حکومت نے کہا ہے کہ کوویڈ۔19 کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچنے میں (Steriod)طاقت بخشنے والی ادویات مدد کرتے ہیں اور یہ ایک ’حیرت انگیز دوائی‘ ہے لیکن غیر معقول طریقے سے اسکا استعمال لوگوں میں’سیاہ فنگس‘ کے خطرے کو مدعو کرتی ہیں۔وزارت صحت نے ہفتے کے روز اپنے روزانہ کورونا وائرس بریفنگ میں کہا کہ اگر اسٹیرائڈز کے غیر معقول استعمال کو روکا گیا تو کالے فنگس کے معاملات کو روکا جاسکتا ہے۔نیتی آیوگ (صحت) کے رکن وی کے پال نے کہاکہ ہمیں سیاہ فنگس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس بیماری نے اب وبائی شکل اختیار کرلی ہے کیونکہ اس سے کوویڈ -19 کے مریض متاثر ہورہے ہیں۔کالے فنگس ( mucormycosis )میں سٹیرائڈز کے کردار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ پہلے ہی اسٹیرائڈز کا زیادہ مقدار میںاستعمال اور طویل عرصے تک اسٹیرائڈز دینا غیر معقول ہے ۔"کوویڈ۔19 ذیابیطس کے مریضوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے اور اس کے علاوہ mucormycosis کی اضافی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔ ریاستیں پہلے ہی اس بیماری پر قابو پانے کے اقدامات کا اعلان کر چکی ہیں اور متعدد ریاستوں نے اس کو وبا کا اعلان کردیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بیماری پر قابو پانے کے لئے تمام اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔