کوویڈ سے یتیم بچوں کے نام پر فنڈ جمع کرنے پر پابندی

ئی دہلی// سپریم کورٹ نے منگل کو ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹیز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ غیر سرکاری رضاکار تنظیموں(NGO) کو کوویڈ سے یتیم ہونے والے بچوں کے نام پر کسی طرح کا فنڈ جمع کرنے کی اجازت نہ دے یا ایسے بچوں کی شناخت ظاہر کرکے دلچسپی رکھنے والوں کو گود لینے پر مدعو نہ کرے۔جسٹس ایل ناگیشورراؤ اور جسٹس انیرودھا بوس کی بینچ نے حکومتوں کو ہدایت کی کہ غیر سرکاری تنظیموں یا افراد کے خلاف کارروائی کریں جو غیر قانونی طور پر یتیم بچوں کو اپنانے میں ملوث ہیں۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے"ریاستی حکومتوں / یونین علاقوں کو ان غیر سرکاری تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے جو غیر قانونی طور پر کوویڈ سے یتیم اپنانے میں ملوث ہیں‘‘۔ عدالت نے کہا ہے کہ جونائل جسٹس ایکٹ، 2015 کے دفعات کے برعکس اس طرح کی کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔’ قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال‘نے نجی ا فراد اور تنظیموں کے ذریعہ Covid-19 کی وجہ سے یتیم بچوں کو غیر قانونی طور پر اپنانے کے بارے میں شکایات کے بارے میں الزام لگایا ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ انہیں بہت سی شکایات موصول ہوئی ہیں کہ نجی افراد اور تنظیمیں فعال طور پر بڑے پیمانے پر رقومات جمع کررہے ہیں کہ وہ کوویڈ سے یتیم ہوئے بچوں کی کفالت کررہے ہیں۔ کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق یکم اپریل سے5جون تک3 ہزار،621 بچے یتیم ہوئے۔ 26 ہزار،176 بچوں کے والدین فوت ہوئے اور 274 بچوں کو بے سروسانی کی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ متاثرہ بچوں کو مرکزی  و ریاستی سکیموں کے تحت بلا تاخیر مالی امداد فراہم کیا جانا چاہئے۔سپریم کورٹ بینچ نے ریاستی حکومتوں اور یونین ٹریٹیز کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ مارچ 2020کے بعد ان بچوں کی  نشاندہی کا عمل جاری رکھیں جو کوویڈ کی وجہ سے والدین سے محروم ہوگئے ہیں یا کسی اور وجہ سے یتیم ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال کی وئب سائٹ کو اعدادوشمار پیش کریں۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ متاثرہ بچوں کی شناخت بچے لائن (1098)، صحت کے حکام، پنچائی راج اداروں، پولیس حکام، این جی اوز، وغیرہ کے ذریعہ کیا جا سکتا ہے۔ضلع چائلڈ تحفظ یونٹ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ متاثرہ بچے اور گارڈین کو فوری طور پر والدین / والدین کی موت کے بارے میں معلومات کی وصولی پر فوری طور پر رابطہ کریں۔عدالت نے کہا ہے کہ متاثرہ بچوں کی دیکھ بھال، انکی تعلیم ، تعلیمی اخراجات اور مختلف سکیموں کے تحت جائز مالی فوائد کی تقسیم کاری کے بارے میں سبھی اضلاع کے منتظمین ذمہ وار ہونگے۔