کووڈ۔19 (پہلی بازی)

ناول نگار:ساگرسندیلو(پاکستان)
ضخامت:112 صفحات،اشاعت:جون 2020 
 
جدید دور میں انسانی زندگی جس شکست وریخت اور انقلاب سے ور چار ہے، اسکے اظہار کا سب سے بہتر وسیلہ بننے کی صلاحیت ناول میں ہے۔ناول معاشرہ ، فرد اور ذات کے نہ صرف خارجی عوامل وعناصر کو پیش کرتا ہے بلکہ داخلی تضاد وتصادم اور اس کے محرکات کو بھی اپنی گرفت میں لیتا ہے۔اس طرح یہ کسی قوم ،سماج یا معاشرے کی فکری ونظریاتی فضا کا اظہار ہوتا ہے۔اردو میں ناول نگاری کی تاریخ تقریبا ڈیڑھ صدی پر محیط ہے۔اس عرصے میں اس صنف نے ادب میں اپنا ایک دقیع اور نمایا ںمقام بنالیا ہے۔ 
زیر تبصرہ ناول’’کووڈ19 (پہلی بازی)عالمی وبا کے موضوع پر لکھاگیا ہے۔جس نے ہماری زندگی کا نقشہ ہی بدل ڈالا۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جسے ابھی تک کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کیا گیا۔ساگرسندیلو نے کووڈ۔19 وبا اور اسکے مسائل کا بڑی گہرائی سے مشاہدہ کیا ،جس کا بخوبی اندازہ ان کے ناول کے مطالعے سے لگایا جاسکتا ہے۔انھوں نے اپنے ناول کے صفحات پر وبا سے متاثر کن زندگی کی عکاسی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے۔ناول کا ابتدائی اقتباس ملاحظہ فرمائیں:’’دنیا بدل رہی ہے۔ان کی سوچ سے بھی پہلے اس کو بدلنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔فضا میں ایک عجیب سی اداسی چھائی ہوئی ہے،ویران سڑکیں،اور ہوکا عالم۔۔وبا پوری دینا کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔کیا شہر ،کیا دیہات ،کیا پنڈ، کیا ڈھوک ،،ہر طرف اک خوف ہے اور ناامیدی جو دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔پوری دنیا سے آنے والی خبریں دل دہلانے کے لئے کافی ہیں،کہ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ بیماری کے بستر پہ زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اموات کے اعداد دن بہ دن بڑھ رہے ہیں،اس دوران کہیںکہیں سے کوئی امید افزا خبر مل بھی جاتی ہے، لیکن مایوسی اتنے زور سے چیخ رہی ہے کہ امید کے پائوں سے ابھرنے والی ہلکی سی آہٹ اس میں کہیں دب سی جاتی ہے۔۔وبا آدھی دنیا میں پھیل کر اپنے پنجے گاڑچکی ہے۔۔۔یہ کراچی ہے۔۔روشنیوں کا شہر،،جہاں زندگی دن رات سڑکوں پر رواں دوان رہتی ہے۔وبا سے بے خبر لوگ اپنے کاموں میں مگن یہاں وہاں اپنے روزمزہ کے کاموں میں مشعول ہیں۔لیکن بہت دیر تک ایسا نہیں چلے گا۔’’(کووڈ 19 ص۔۔۔۳)
ناول نگار کو کوئی نجات نظر نہیں آرہی ہے،کوئی علاج نہیں مل رہا ہے،کوئی دوا ہاتھ نہیں لگ رہی ہے۔ بس افراتفری ہے،کہرام ہے،سوال ہیں مگر جواب نہیں،دعوے ہیں مگر کھوکھلے۔کون کیا کرے؟ترقی یافتہ ممالک بھی پریشان؟ابھی وبا کا کوئی حل نہیں ہے۔اب دنیا کے سامنے معاشی بحران ہے۔سب لڑکھڑا رہے ہیں۔کپکپا رہے ہیں۔آنے والے دنوں میں کیا ہوگاکوئی نہیں جانتا ۔بس اندازے لگائے جارہے ہیں۔اثرات کی بنیاد پر مستقبل کی پیشن گوئیاں ہو رہی ہیں،دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں لرز گئی۔کوئی معاشی بنیاد پر بے حال ،کوئی آرام واطمینان پر بے حال،کوئی صحت کی بنیاد پر بے حال ۔کوئی زندگی کی جنگ لڑرہا ہے اور کوئی پیٹ کے لئے جدوجہد کر رہا ہے۔کہیں سیاست چل رہی ہے تو کہیں ریلیف ۔حقیقت یہ ہے کہ کووڈ 19 نے دنیا کو گھٹنے پر لادیا۔
کوئی دوا کی تلاش میں ہے کوئی انتظار میں۔بقول ساگرسندیلو :’’کسی کو معلوم نہ تھا کہ صورت حال کہاں جائے گی،لیکن اعدادو شمار بتارہے تھے زندگی ویسی نہیں رہی گی،جیسی پہلی تھی۔ بھوک بھی بڑی عجیب چیز ہے۔کھانے کی ہو ،دولت کی ہو یا پھر ریٹنگ کی،اس کے آگے سارے قاعدے پھیکے،سارے اصول بے کاراور ساری انسان دوستی کھوکھلی سی نظر آتی ہے۔اب چینلزپہ امید کی خبریں کم اور خوف کی خبریں زیادہ آنے لگیں،جیسے کوئی ریس شروع ہوگئی ہو۔۔آج اتنے لوگوں کا ٹیسٹ پازیٹو آگیا۔۔آج اتنے لوگ وباسے جان کی بازی ہار گئے۔۔ماہرین کہتے ہیں لاکھوں جانیں جائیں گی۔۔۔ماہرین کہتے ہیں ہسپتال کم پڑجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔۔۔لاک ڈائون کو ایک ہفتہ ہو چلا تھا،حکومت لوگوں تک راشن پہچانے کے پلان بنارہی تھی اور کچھ فلاحی تنظیمیں اور مخیر حضرات لوگوں تک راشن بھی پہچا رہے تھے،لیکن دینے والے ہاتھ کم اور لینے والے زیادہ تھے۔شاہ جب رپوٹنگ کے لئے فیلڈ میں جاتا تو لوگ اس سے یہ پوچھتے کہ لاک ڈائون کب ختم ہوگا۔کیا سر کار بجلی ،گیس کے بل معاف کر رہی ہے! گھر گھر راشن دیا جائے گا اور ایسے کئی سوال ،جن کے جواب اس کے پاس نہ ہوتے۔‘‘(کووڈ19۔۔ص۔۔۲۰۔۔۲۱)
 کووڈ19 میں ناول نگار نے دنیا کے پست ہونے کا ثبوت پیش کیا ہے کہ اب دنیا کے تمام لوگوں نے یہ مان لیا ہے کہ کووڈ19 کے ساتھ ہی جینا پڑے گا،اب گھر میں بند ہونے سے مسئلہ کا حل نہیں ہوگا۔پھر بھی دنیا محتاط ہے۔ہر قدم سنبھل سنبھل کر اٹھانے پرمجبور ہے۔جذبات اور خدشات کا توازن بنانے کی کوشش جاری ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک کے تمام ادارے بند پڑے ہیں۔یہ کووڈ 19 ہی ہے جس نے دنیاکوبدل دیا ہے۔حکومتیں اپنے ملکوں میں کووڈ19 کے پھیلائو کو روکنے کے لئے ہاتھ پیر مارہی ہیں۔صورت حال کی سنگینی کم کرنے کے لئے ایسے دور رس اقدامات کیے جارہے ہیں جن سے روز مرہ کی زندگی کے معاملات میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔اس مہلک وبا کے بارے میں ہماری سوجھ بوجھ میں آہستگی کے ساتھ تبدیلی آئی ہے۔زندگی پر ویرانیت کا سایہ پڑ گیا ہے،آہستہ آہستہ یہ دائرہ وسیع ہو رہا ہے،جوقیامت چین تک محدود تھی ،جوخوف صرف چین کے پیچھے قید تھا ،جو دہشت دنیاکو دور سے ڈرارہی تھی،اب’’کووڈ19 ‘‘ کی شکل میں منڈ لارہی ہے اور ہر کسی کی دہلیز پر اس کی آہٹ ہے اور ہر کسی کے دروازے پر دستک ہے،دنیا بھر میں سیاحت ٹھپ ہوگئی ہے،ہوٹل بند ہوگئے ہیں،سکولوں کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں،سرکاری اداروںکے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں۔کووڈ19  میں کسی قسم کا تعصب نہیں ہے،کیا امیراور کیا غریب ،کیا شہرت یافتہ اور کیا گمنام ۔سب اس کے شکار ہیں۔بقول ناول نگار:’’جیسے جیسے دن گزرتے جارہے تھے،لاک ڈائون کی صورت حال بھی بگڑ تی جارہی تھی۔کہیں تو پورے پورے بازار کھلے ہوئے تھے اور کہیں پہ کرفیو جیسی صورت حال تھی۔کیسز میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا تھا،ساتھ ساتھ بڑے سیٹھوں ،بیوپاریوںکی طرف سے لاک ڈائون ختم کرنے کے مطالبے بھی زور پکڑتے جارہے تھے،کہیں تو پورے پورے محلے بھوک کے مارے نڈھال ہو رہے تھے تو کہیں پر آن لائن فوڈسپلائرز کی طرف سے پیزے اور بر گر پہنچائے جارہے تھے۔ایک طرف لاک ڈائون عذاب کی طرح اترا تھاتو دوسرے طبقے کے لئے جیسے وہ گرمیوں کی چھٹیوں جیسا تھا۔بس فرق یہ تھا کہ پہلے وہ چھٹیاں باہر منانے نکل جاتے تھے اور اب گھر پر ہی سارے پرواگرام ترتیب دئے جا رہے تھے۔۔۔۔۔شہباز کے گھر میں دوبارہ فاقوں جیسی صورت حال پیدا ہوگئی تھی ،جو تھوڑا بہت راشن شاہ نے لا کردیا تھا وہ ختم ہو اچاہتا تھا۔ادھر مہران کی حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی تھی،گھر میں پیسے ہی نہیں تھے جس سے اس کی دوائی خرید لی جاتی ۔اور پھر ایک رات اس کا درد شدید ہوگیا،شہبار دوڑ کرشاہ کے پاس پہنچا۔‘‘(کووڈ19 ۔۔ص۔۔۶۶،۶۷)
دنیاکووڈ19 میں جکڑی ہوئی ہے اور ہر کوئی احتیاط برتنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس خوفناک صورت حال کی عکاسی ناول نگار نے موثر طریقے سے کرنے کی کا میاب سعی کی ہے۔ناول بہت متاثر کن ہے اور ہمیں اور آپ کو ایک نئی دنیا سے روشناس کرانے والا ہے۔اس کے مطالعے سے ہمیں کووڈ19 کی وبا اور اس وبا سے جنم لینے والے مسائل کا علم بھی حاصل ہوتا ہے۔جزئیات نگاری کا استعمال خوب کیا گیا ہے۔مکالمے برجستہ اور بر محل ہیں۔دلچسپی کا عنصر اس قدر ہے کہ آپ ناول کو شروع کرکے ختم کرنے کے بعد ہی دم لیں گے۔کچھ تو اس موضوع کی جدت اور کچھ ان کے اسلوب کی وجہ سے۔اردو ادب میں کووڈ 19 (پہلی بازی )شائدکوروناوائرس پرلکھا گیاپہلا ناول ہے۔امیدی قوی ہے کہ ساگرسندیلو کا یہ ناول کو وڈ 19 (پہلی بازی )فکشن کے حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
 رابطہ :  رعناواری سرینگر۔9103654553