سرینگر //ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرنے اُن لوگوں جنہیں کووِڈ ٹیکہ کے کسی جُزسے الرجی ہوتی ہو،کوصلاح دی ہے کہ وہ کووِڈ کا ٹیکہ لینے سے احتراز کریں۔ایک بیان میں ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیرکے صدر ڈاکٹر نثارالحسن نے کہا کہ جن لوگوں کو کووِڈ ویکسین کے کسی جزسے الرجی ہوتی ہو،کو یہ ویکسین نہیں لیناچاہیے۔تاہم انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو کووِڈ ویکسین کے اجزاء سے نہیں،بلکہ کسی کھانے،دوائی ،کیڑوں اورماحولیاتی وجوہات سے الرجی ہوتی ہو،وہ اس ویکسین کو لے سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا کہ کشمیرمیں کووِڈ – 19کے دوٹیکے استعمال کئے جاتے ہیں CovaxinاورCovishield،جوبازوکے تکونے عضلہ پر لگائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوویکسین میں غیر فعال/ مردہ کوروناجراثیم پائے جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ اس میں المیونیم ہائیڈرو آکسائیڈ جیل،ٹی ایل آر 7/8 ،2 فیناکسیایتھنال اور فاسفورس ہوتے ہیں۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ کووِشیلڈ میں کووِڈ- 19کی نوکدارپروٹین استعمال کی جاتی ہے جبکہ اس میں ایل۔ ہسٹڈین، ایل۔ ہسٹڈین ہائیدرو کلورائیڈ مانو ہائیڈریٹ، میگنیشیم کلورائڈ ہیکس اہائیڈریٹ، پالی ساربیٹ 80، ایتھنال سکروس،سوڈیم کلورائیڈ،ڈائی سوڈیم ایڈیٹیٹ ڈائی ہائیڈریٹ اور پانی ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو درج بالا کسی بھی جز سے الرجی ہوتی ہو ،توآپ کو یہ ویکسین لینے سے احترازکرنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو پہلے معلوم نہیں تھا کہ آ پ کواس ویکسین کے کسی جزسے الرجی ہوتی ہے اور آپ نے پہلی خوراک لی ہے اور آپ کوالرجی ہوئی ہے توآپ کو اُس ویکسین کی دوسری خوراک نہیں لینی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو ویکسین کی پہلی خوراک سے الرجی ہوئی ہے انہیں دوسری خوراک کسی دوسرے ویکسین کی لینی چاہیے۔ڈاکٹر نثار نے تاہم انہوں نے کہا کہ ایسے لوگوں کو اُس جگہ ویکسین لگانے جاناچاہیے جہاںاستہداف کاعلاج کرنے کی سہولیات میسر ہواورانہیں ویکسین لینے کے آدھے گھنٹے تک مشاہدہ میں رکھنا چاہیے تاکہ ان میں شدیدالرجی ہونے کی نگرانی کی جائے۔ڈاکٹر نثار نے کہا کہ الرجی ہونے سے خراش،ورم ،جلدپر پھنسیا ں پیداہونااور بے چینی پیداہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ شدیدالرجی کوصورت میں بلڈ پریشرکم ہوتا ہے،گلا متورم ہوتا ہے اور سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔