کووِڈ۔19 | متاثرین کی تعداد میں خاطر خواہ کمی | ویکسین محفوظ ، وَبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کیلئے لازمی آلہ

سرینگر+کپوارہ+کولگام+اننت ناگ//سرینگر، کپوارہ، کولگام اور اننت ناگ کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے کورونا سے نمٹنے کیلئے کئے جارہے اقدامات کی ذرائع ابلاغ کو جانکاری دی۔ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمد اعجاز اسد نے کہاکہ سری نگر ضلع میں کووِڈ ۔19 وَبائی بیماری کے مثبت معاملات اور کووِڈ سے متعلقہ ہسپتالوں میںگزشتہ دِنوں داخلوں میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔اِن باتوں کا اِظہار ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے ضلع میں کووِڈ ۔19 کے تازہ ترین منظرنامے کے بارے میںایک میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگرمحمد اعجاز اسدنے تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ضلع میں27؍ مئی 2021ء کوکووِڈ کے مثبت معاملات کی شرح مئی کے وسط میں 36 فیصد سے کم ہو کر 8.7 ہوگئی ہے جبکہ شفایابی اور صحتیابی کی شرح میں 83فیصد اِضافہ ہوا ہے۔ اُنہوں نے ضلع میں کووِڈ ۔19 میں 5,800 معاملات سرگرم ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں مسلسل ٹیسٹنگ اور ویکسی نیشن مہمات کی وجہ سے کووِڈ کے معاملات میںمجموعی طور پر کمی واقع ہوئی ہے ۔ تاہم کووِڈ ۔19 کے مناسب طرز عمل پر ہر سطح پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اِضافی محتاط رہنے کی ضرور ت ہے۔ڈی سی سری نگر نے کووِڈ ۔19 میں جاری ویکسی نیشن کی جاری مہمات کے حوالے سے کہا کہ آجتک ضلع میںزائد اَز 2.80 لاکھ ٹارگٹ گروپوں کو کووِڈ ویکسین کی پہلے ٹیکے فراہم کئے گئے۔ اُنہوںنے کہاکہ باقی اہداف کی آبادی کو پورر کرنے کے لئے پورے شہر میںکووِڈ حفاظتی ٹیکوں کے مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ جلد سے جلد کووِڈ ۔19 کو روکنے کے لئے کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے کہا کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ہدایت پر ضلعی اِنتظامیہ سری نگر نے ضلع کی تمام 21 پنچایتوں میں کووِڈ کیئر سینٹر قائم کئے ہیں جس میں تمام طبی سازو سامان ، آکسی میٹر س دستیاب ہیں ۔ اس کے علاوہ طبی اور نیم طبی عملہ دیہی علاقوں میں کووِڈ ۔19 کو مؤثر اَنداز میں سنبھالنے اور اس پر قابوپانے کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ مختلف سوشل سیکورٹی سکیموں کے تحت 5,222 مستفید اَفر اد میں 5.60 کروڑ روپے کی مالی اِمداد فراہم کی گئی ہے اور تعمیراتی کارکنوں کو 2.19 کروڑ روپے بھی فراہم کئے گئے ہیں ۔ ادھر ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ امام الدین نے کہاکہ کووِ ڈ چین کو توڑنے کے لئے مثبت معاملات کی شناخت اورالگ تھلگ کرنے کے لئے ضلع کپواڑہ میں نمونے لینے کا عمل تیز کیا گیا ہے۔اِن باتوں کا اِظہار آج ضلع ترقیاتی کمشنر کپواڑہ نے میڈیا اَفراد کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔اُنہوںنے میڈیا اَفراد کو کووِڈ ۔19 وَبائی بیماری پرقابو پانے کے لئے ضلع میں اُٹھائے گئے تخفیفی اِقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔اُنہوںنے کہا کہ ضلع میں مثبت معاملات کی شرح کم ہوکر 10.1 فیصد ہوگئی ہے اوراُنہوںنے مزید کہاکہ کووِڈ معاملات کے مثبت رجحان کو جاننے کے لئے نمونے لینے میں مسلسل اِضافہ کیاجارہا ہے ۔اُنہوںنے بتایا کہ اِس وقت ضلع میں 1,718 مریض گھریلو آئیسولیشن میںہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے کووِڈ ویکسین کے بارے میں غلط تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگالیتے ہیں وہ کووِڈ سے محفوظ رہتے ہیں ۔اُنہوںنے عوام سے اپیل کی کہ وہ ماسک پہن کر ، معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھنے اور سینی ٹائزر کا استعمال کر کے کووِڈ رہنما اصولوں پر عمل کرنا جاری رکھیں۔ڈپٹی کمشنر یہ بھی کہاکہ ضلع میں 385کووِڈ کیئر سینٹر قائم کئے جارہے ہیں ۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ ضلع میں آج 12بجے تک 85 ایسے مراکز کو فعال بنایا گیا ہے ۔اُنہوں نے بتایا کہ کووِڈ کیئر کے باقی مراکز دو دن میں قائم ہوجائیں گے۔اس دوران کووِڈ۔19 وَبائی بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے ویکسی نیشن ایک محفوظ اور لازمی ہے اور لوگوں کو اَفواہوں اور غلط خبروں پر دھیان نہیں دینا چاہیئے بلکہ کووِڈ حفاظتی ٹیکے جلد از جلد لگانے چاہئیں۔ اِن باتوں کا اِظہار آج ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ نے آج یہاںمیڈیا کو بریف دیتے ہوئے کیا۔ ضلع ترقیاتی کمشنر نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مربوط کوششیں مثبت نتائج دکھا رہی ہیں اور ضلع بھر میںمثبت معاملات کی شرح اور بستروں کی سہولیت کی صورتحال دن بدن بہتر ہو رہی ہے۔اُنہوںنے کہا کہ ضلع میں 45برس سے زیادہ عمر کی 65 فیصد آبادی کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیںاور باقی ٹارگٹ گروپ کو کور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اُنہوں نے مزیدکہا کہ 18 برس کی عمر سے 44 برس عمر تک کے لوگوں کو کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کا کام شروع کیا جائے گا۔ضلع ترقیاتی کمشنر نے ضلعمیں آکسیجن کی دستیابی کے حوالے سے بتایا کہ ضلع ہسپتال میں 1000 ایل ایم پی آکسیجن جنریشن پلانٹ ٹھیک طرح سے کام کر رہا ہے اور ضلع میں کافی مقدار میں بفر سلنڈر دستیاب ہیں۔اُنہوں نے کہاکہ دیہی علاقوں میں کووِڈ کیئر کو مضبوط اور مستحکم بنانے کے لئے پانچ بستروں کی گنجائش والے کووِیڈ کیئر سینٹروں کو 150 پنچایتوں میں کو فعال بنایا گیا ہے اور آکسیجن کو کانسٹریٹرس اور دیگر مطلوبہ آرات سے لیس ہیں۔اِس کے علاوہ کووِڈ سے متعلق بنیادی اَدویات کو دستیاب کیا گیا۔اُنہوں نے کہاکہ باقی پنچایتوں میں کووِڈ کیئر سینٹروں کے قیام کا کام آئندہ چند روزمیں مکمل کیاجائے گا۔دریں اثناضلع ترقیاتی کمشنر نے لوگوں سے کووِڈ حفاظتی ٹیکے لگانے کی اپیل کی ۔ اس کے علاوہ کووِڈایس او پیز اور رہنما خطوط پر من و عن عمل کیا جائے تاکہ اِس بیماری کے پھیلائو کو مزید کم کیا جاسکے۔دریں اثناء ڈپٹی کمشنر اننت ناگ ڈاکٹر پیوش سنگلا نے  ضلع میں کووڈ 19 وبائی بیماری کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کیلئے اٹھائے گئے کووڈ تخفیف اقدامات اور اب تک حاصل کی گئی کامیابیوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ کووڈ 19 کے منظر نامے کے بارے میں ایک مختصر بیان دیتے ہوئے ڈی سی کہا کہ اس وقت 3960 مثبت معاملات ہیں جن میں کووڈ کٹس ، آکسمیٹر اور ضروری دوائیں بروقت مثبت افراد میں تقسیم کی جا رہی ہیں ۔ ڈی سی نے بتایا کہ 255 پنچائتوں میں 5 بستروں پر مشتمل کووڈ کئیر سنٹرز قائم ہو چکے ہیں اور باقی کام جاری ہیں ۔ ڈاکٹر سنگلا نے یہ بھی بتایا کہ 45 سال سے اوپر افراد اور 18 سے 45 سال کے اعلیٰ خطرے والے اور کمزور گروپوں کیلئے ویکسی نیشن مہم آسانی سے چل رہی ہے ۔ انہوں نے اہل افراد سے اپیل کی کہ وہ اپنے قریبی ویکسی نیشن سنٹر میں جا کر ٹیکے لگائیں ۔صحتیابی کی شرح کے بارے میں ڈی سی نے بتایا کہ اب تک 9803 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں اور موجودہ صحتیابی کی شرح 70 فیصد سے اوپر ہے ۔ دریں اثنا مثبت شرح اور اموات کی شرح بھی کم ہو کر بالترتیب 10 فیصد اور 1.12 فیصد رہ گئی ہے اور علاوہ جانچ بھی کی جا رہی ہے جس کیلئے روزانہ 2400 سے زیادہ ٹیسٹ کئے جاتے ہیں ۔ ڈی سی نے کووڈ تخفیف کیلئے تمام محکمہ جات کی کاوشوں کو سراہا اور پی آر آئی ، یو ایل بی ، اوقاف ممبران ، نوجوانوں اور رضاکاروں سمیت انتظامیہ کی موجودہ صورتحال کو کم کرنے کیلئے تعاون کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ۔ انہون نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کووڈ ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا رہیں ۔