عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر میں گزشتہ سیزن کے دوران کولڈ اسٹوروں میں محفوظ کیے گئے سیبوں کا تقریباً تمام ذخیرہ فروخت ہو چکا ہے، تاہم منڈیوں میں زائد رسد اور پھل کے کمزور معیار کے باعث باغبانوں کو توقعات کے مطابق بہتر قیمتیں حاصل نہیں ہو سکیں۔یو این ایس کے مطابق گزشتہ سیزن میں وادی بھر کے باغبانوں نے لاکھوں ٹن سیب بہتر داموں فروخت کرنے کی امید میں مختلف کنٹرولڈ ایٹماسفیئر اسٹوریج مراکز میں محفوظ کیے تھے تاکہ آف سیزن کے دوران بتدریج فروخت کرکے زیادہ منافع حاصل کیا جا سکے، مگر یہ حکمت عملی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکی۔رپورٹ کے مطابق اپریل کے دوران سی اے اسٹوریج سے نکالے گئے سیب جموں و کشمیر سے باہر کی منڈیوں میں تقریباً 75 سے 80 روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوئے۔ باغبانوں کو امید تھی کہ تازہ فصل کی آمد کم ہونے کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوگا، لیکن منڈیوں میں مسلسل زیادہ رسد اور محدود طلب کے باعث نرخ تقریباً جمود کا شکار رہے۔جموں و کشمیر پرائیویٹ انٹیگریٹڈ کنٹرولڈ ایٹماسفیئر ایسوسی ایشن کے ترجمان اور فروٹ ماسٹر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اعجاز جاوید نے بتایا کہ گزشتہ سیزن میں کشمیر کی سی اے اسٹوریج سہولیات میں تقریباً پانچ لاکھ میٹرک ٹن سیب محفوظ کیے گئے تھے، جن میں سے تقریباً 95 فیصد فروخت ہو چکے ہیں جبکہ صرف پانچ فیصد ذخیرہ باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ پورے سیزن کے دوران قیمتیں اوسط درجے کی رہیں کیونکہ تھوک منڈیوں میں مسلسل بڑی مقدار میں سیب کی آمد جاری رہی، جس کے باعث نرخوں میں نمایاں اضافہ ممکن نہ ہو سکا۔