سرینگر// کورونا کرفیو کے 11ویں روز پیر کو جموں کشمیرکے سبھی 20اضلاع میں عام دنوں کے مقابلے میں لاک ڈاﺅن میں قدرے سختی برتی گئی لیکن شام ہوتے ہی مارکیٹ بھر گئے اور کورونا کرفیو کی خلاف ورزی کی گئی۔یہ صورتحال شہر سرینگر کے کئی علاقوں میں دیکھی گئی جبکہ جموں شہر میں بھی اس طرح کے مناظر دیکھنے میں آئے۔سبھی اضلاع میں دن بھر روزمرہ زندگی بدستور مفلوج رہی۔سرینگر و جموں شہروں کے علاوہ سبھی ضلع و تحاصیل صدر مقامات پر ہر طرح کے کاروباری و تجارتی مراکز بند رہے،جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی مکمل طور پر غائب رہا۔اسکے علاوہ جموں کشمیر میں قریب 150سے زائد علاقوں میں پہلے سے ہی محدود بندشیں عائد ہیں۔ان میں سے زیادہ تر وادی کشمیر میں موجود ہیں جن کی تعد ا د95 ہے۔پیر کوگیارہویںروزسبھی اضلاع میں سختی سے لاک ڈاﺅن نافذ رہا۔سکول، کالجز، یونیورسٹیاں، کوچنگ مراکز اور دیگر پیشہ ورانہ تعلیمی ادارے پہلے ہی بند کردیئے ہیں۔اسکے علاوہ پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔البتہ پیر کو جموں شہر اور سرینگر میں کہیں کہیں آٹو رکھشا دیکھے گئے۔پورے یوٹی میں بھیڑ بھاڑ والے علاقے ویران ہیں۔جموں کشمیر کے مختلف شہروں و قصبوں میں صرف سبزیوں، دودھ اور ادویات کی دکانہیں کھلی ہوئی ہیں۔رستوران ، ہوٹل اورگیسٹ ہاو س بھی تالہ بندہیں ۔۔ پورے جموں کشمیر میں کورونا لاک ڈاﺅن سے سرکاری دفاتر میں برائے نام حاضری رہ گئی ہے جبکہ دیگر پرائیوٹ ادارے تقریباً بند پڑے ہیں۔جموں اور کشمیر میں صرف نجی گاڑیاں ہی سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں اورعام لوگوں کی نقل و حرکت بھی بہت حد تک محدود ہوگئی ہے ۔ پولیس و انتظامیہ کی جانب سے کورونا سے متعلق معیاری عملیاتی طریقہ کار اور رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری ہے۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ، پولیس نے 30 افراد کو گرفتار کیا ہے ، 22 ایف آئی آر درج کی ہیں اور 699 افراد سے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 95ہزار600روپے جرمانے کا بھی وصول کیا گیا۔پولیس نے بتایا نقل و حمل میں ملوث ہونے پر 64 گاڑیاں ضبط کیں گئیں۔