نئی دہلی // وزیر اعظم نریندر مودی نے یکم مئی سے 18سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو ویکسین دینے کی منظوری دی ہے۔اتوار کو وارانسی اور پیر کو وزیر اعظم آفس میں ورچول موڑ پر متواتر میٹنگوں کے بعد کورونا کی ملک بھر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے دوران وزیر اعظم نے ویکسین دینے کی عمر میں کم کر کے اسے 18سال کرنے کو ہری جھنڈی دی۔وزیر اعظم نے پیر کی صبح پہلے کورونا ویکسن بنانے والی کمپنیوں کے مالکان اور بعد میں ماہر ڈاکٹروں کیساتھ تفصیلی بات چیت کی۔وزیر اعظم کی صدارت میںسوموار کی شام کورونا سے متعلق ایک جائزہ میٹنگ ہوئی جس میں دنیا کی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم کے تیسرے مرحلے میں نرمی لانے کیلئے کئی اہم فیصلہ لئے گئے۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے ویکسین کی قیمت، خریدو فروخت، ٹیکہ لینے کی اہلیت اور ٹیکہ لگانے کے قوائد و ضوابط میں نرمی لانی کی ہدایت دی ۔ وزیر اعظم نے تمام فریقوں کو مقامی سطح کی ضروریات پوری کرنے کی مکمل چھوٹ دی ۔ میٹنگ کے دوران وزیر اعظم نے ٹیکہ لگانے کیلئے وضع قوائد و ضوابط میں نرمی لاتے ہوئے ٹیکہ لگوانے کی اوپری حد 45سال سے کم کرکے 18سال کردی ۔انکا کہنا تھا کہ یکم مئی سے اسکا آغاز کیا جائے۔ میٹنگ کے دوران ویکسین بنانے والی کمپنیوں کوویکسین کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے علاوہ مزید قومی اور بین الاقوامی فریقین کو شامل کرنے کی کوششوں میں تیزی لانے کی ہدایت بھی دی گئی۔ وزیر اعظم نے ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو پیداوار کا 50فیصد ریاستوں اور کھلے بازاروں میں پہلے سے طے شدہ قیمتوں پر فراہم کرنے پر زور دیا ۔ وزیر اعظم نے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوںکو ویکسین کے اضافی ڈوز حاصل کرنے کا مجاز بنایا اور تمام ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 18سال کے او پر کے تمام لوگوں کو کورونا مخالف ویکسین لگوائیں۔ وزیر اعظم نے ملک میں ٹیکہ کاری مہم پہلے کی طرح جاری رکھنے اور ترجیحاتی گروپوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کی ہدایت دی جن میں 45سال کی اوپر کی عمر کے علاوہ مختلف بیماریوں میںمبتلا لوگ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں ٹیکہ کاری کا آغاز16جنوری کو ہوا تھا جس میں 60 سال سے اوپر عمر والے افراد کو ویکسین لگانے کی پہم شروع کی گئی۔ یکم اپریل سے 45سال سے اوپر عمر کے لوگوں کو ویکسین لگانے کی مہم کا آغاز کیا گیا اور اب 18سال سے اوپر عمر کے سبھی لوگوں کو اس مہم کا حصہ بنایا جارہا ہے۔جائزہ میٹنگ میں وزیر اعظم نے کہا کہ پچھلے ایک سال سے وہ اس کوشش میں ہیں کہ لوگوں کو ویکسین دی جائے کیونکہ ویکسین وائرس کیخلاف واحد ہتھیار ہے۔
ملک میں قریب 2لاکھ 74ہزار مثبت
ایک ہفتہ میں 15لاکھ متاثر، 12کروڑ کو ویکسین دی گئی
یو این آئی
نئی دہلی// ملک میں کورونا وائرس سے حالات دن بہ بدن بد ابتر ہوتے جارہے ہیں۔سوموار کو ملک میں 2لاکھ 73ہزار 810نئے معاملات سامنے آئے ہیں اور متاثرین کی مجموعی تعداد 1کروڑ 50لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارت میں کورونا وائرس سے15لاکھ 34ہزار افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ پیر کو ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1کروڑ 35لاکھ تھی جو سوموار کو 1کروڑ 50لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ پیر کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 2لاکھ73ہزار810 نئے معاملات درج ہوئے جس سے ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 50 لاکھ 16 ہزار 919 ہوگئی۔ اسی مدت کے دوران ریکارڈ 1کروڑ 44ہزار 178مریض صحت مند ہوئے جس سے ملک میں اب تک 1کروڑ29لاکھ53ہزار821 مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔ ملک میں کورونا کے سرگرم معاملات کی تعداد 19 لاکھ کو عبور کرکے 19لاکھ29ہزار329 ہوچکے ہیں۔ اس دوران مزید 1619 مریضوں کی موت کے ساتھ ملک میں ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد 1لاکھ78ہزار769 تک پہنچ گئی ہے ۔اب تک ملک میں 12کروڑ38لاکھ52ہزار566 افراد کو کورونا وائرس کی ویکسین دی جاچکی ہے ۔ملک میں کورونا سے شفایابی کی شرح 86.00 فیصد، سرگرم معاملات کی شرح 12.81 فیصد ،اموات کی شرح 1.19 فیصد ہوگئی ہے ۔دہلی میں کوروناوائرس کے سرگرم معاملات کی تعداد 5ہزار142 سے بڑھ کر 74ہزار941 ہوگئے ہیں۔ اب تک 12ہزار121 افراد ہلاک جبکہ 7لاکھ66ہزار398 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے ۔
سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی مثبت
نیوز ڈیسک
نئی دلی //سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد انہیں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کیا گیا ہے۔ 88سالہ منموہن سنگھ کو ایمز کے ٹروما سینٹر میں داخل کیا گیا ہے جہاں انکی حالت مستحکم بنی ہوئی ہے۔ سابق زیر اعظم نے سوموار کی صبح بخار ہونے کی شکایت کی اور بعد میں انکی رپورٹ مثبت آئی۔ ڈاکٹر انکی صورتحال پر نظر بنائے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم نے ویکسین کے دونوں ڈوز لئے ہیں۔ کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا ’’انکی جلد صحتیابی کا خواہشمند ہوں، بھارت کو مشکل وقت میں انکے صلح اور مشورے کی ضرورت ہے۔