کورونا وائرس؛23نئے کیس،تعداد 207تک جا پہنچی

 سرینگر //جموں و کشمیر میں جمعہ کو مزید 23مشتبہ مریضوں کی رپورٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی کل تعداد 207ہوگئی ہے جن میں 39جموں جبکہ کشمیرکے 162 متاثرین شامل ہیں۔ابھی تک جموں کشمیر میں 4افراد کی موت واقع ہوچکی ہے جبکہ 6افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔جموں کشمیر میں پچھلے 3روز کے دوران70مریضوں کے نمونے مثبت قرار دیئے گئے ہیں۔ ریاستی سرکار کے ترجمان روہت کنسل نے اپنے ٹیوٹ میں لکھا’’جموں و کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں کی تعداد 207ہوگئی جن میں 39جموں اور 162کا تعلق کشمیر سے ہے ‘‘۔جمعہ کو جن 23افراد کے کووونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ، ان میں سے 7جموں،9 سکمز صورہ اورای ڈی آئی پانپور کے انتظامی قرنطینہ میں رکھے گئے 8افراد بھی شامل ہیں ۔

سرینگر

ڈپٹی کمشنر سرینگر شاہد اقبال چودھری نے اپنے ایک ٹیوٹ میں کہا’’ سرینگر میں 8مشتبہ مریضوں کی رپورٹیں مثبت آنے سے صورتحال سنگین لگ رہی ہے لیکن ایسا نہیں ہے، یہ اصل میں کامیاب تلاشی کاروائی کی کہانی ہے،ہم نے غیر ریاستی باشندوں کے ایک گروپ کو دیکھا، جلد کارروائی کرکے انتظامی قرنطینہ میں بھیج دیا ‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا ’’8میں سے 7غیرریاستی جبکہ ایک مقامی رابطہ ہے‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا’’مہربانی کرکے پتہ لگانے میں ہماری مدد کریں‘‘۔مثبت مریضوں کے خون کے نمونے تشخیص کیلئے رعناواری اسپتال کی جانب سے سی ڈی اسپتال میں قائم لیبارٹری بھیجے گئے تھے۔

رعناواری اسپتال

 رعناواری اسپتال میں کورونا وائرس کی نوڈل آفیسر ڈاکٹر بلقیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ یہ سبھی ای ڈی آئی پانپور میں انتظامی قرنطینہ میں رکھے گئے تھے اور ہم نے انکے خون کے نمونے تشخیص کیلئے بدھ کو بھیجے تھے اور جمعہ کو انکی رپورٹ مثبت قرار دی گئی ‘‘۔ سی ڈی اسپتال میں قائم لیبارٹری میں جمعہ کو رعناواری اسپتال سے موصول کئے گئے 97نمونوں کی تشخیص ہوئی جن میں یہی8مثبت قرار دئے گئے ۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے ترجمان ڈاکٹر محمد سلیم خان نے بتایا ’’  89کی رپورٹ منفی قرار دی گئی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ جن 8افراد کی رپورٹ مثبت قرار دی گئی ہے وہ سبھی سرینگر سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ان میں 7کا تعلق کیرالا سے ہے جبکہ ایک سرینگر سے تعلق رکھتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’  یہ سبھی تبلیغی جماعت کے ساتھ جڑے تھے اور کشمیر  میںتبلیغ کے سلسلے میں آئے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اسپتالوں کے 26نمونے زیر تشخیص ہیں جبکہ مختلف اسپتالوں سے مزید 90نمونے موصول ہوئے ہیں۔ 

سی ڈی اسپتال

 سی ڈی اسپتال ڈلگیٹ میں جمعہ کو مزید 4مشتبہ مریضوں کا داخلہ ہوا ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹرمحمد سلیم ٹاک نے بتایا ’’ 4مشتبہ مریضوں کے داخلے کے ساتھ ہی اسپتال میں زیر نگرانی افراد کی تعداد 32ہوگئی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ  جمعرات کو داخل کئے گئے 3مشتبہ مریضوں کی رپورٹ منفی قرار دی گئی ہے۔ 

سکمز صورہ

ادھر شیر کشمیر انسٹیچوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ میں جمعہ کو 150نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 10مثبت قرار دئے گئے ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ سکمز میں 72نمونے تشخیص کیلئے بھیجے گئے تھے جو سبھی منفی قرار دئے گئے ہیں‘‘۔بارہمولہ کے ا عدادوشمار پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر جان نے کہا ’’ جی ایم سی بارہمولہ کے 39نمونوں میں سے7مثبت قرار دئے گئے ہیں جن میں 5افراد مقامی سطح پر کورونا وائرس مریضوں کے رابطے میں آئے ہیں جبکہ ایک نے دلی کا سفر کیا تھا اور ایک حالیہ دنوں بنگلہ دیش سے لوٹ کر آیا ہے‘‘ انہوں نے کہا کہ باقی 32نمونے منفی قرار دئے گئے ۔ ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ کپوارہ سے21نمونے آئے تھے جن میں سے 3مثبت جبکہ 18منفی قرار دئے گئے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ یہ تینوں تبلیغی جماعت کا حصہ رہے ہیں اور نظام الدین دلی سے واپس لوٹے ہیں‘‘۔ضلع گاندربل کے ا عدادوشمار دیتے ہوئے ڈاکٹر جان نے بتایا ’’ گاندربل سے ہمیں 18نمونے حاصل ہوئے ہیں جو سبھی منفی قرار دئے گئے ہیں۔ ادھر ادھمپور میں فوت ہونے والی 61سالہ خاتون کے اہلخانہ سے 12افراد کے نمونے تشخیص کیلئے حاصل کئے گئے ہیں جن میں  5مثبت قرار دئے گئے ہیں جبکہ فوت ہونے والی خاتون کے بیٹے اور شوہر کی تشخیصی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ 

حکومتی بیان

حکومت نے کہا ہے کہ آج تک کووِڈ ۔19 کے 207 مثبت معاملات کی تصدیق ہوئی ہیں ۔حکومت نے مزید کہا ہے کہ  اب تک ایسے 46,158 اَفراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا یا تو سفری پس منظر ہے یا وہ مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے 207 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے 197سرگرم معاملات ہیں ۔ 6مریض شفایاب ہوئے اور چار کی موت واقع ہوئی ہے ۔  اب تک7,726 اَفراد کو ہوم کورنٹین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے کورنٹین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ415 اَفراد کو ہسپتال کورنٹین میں رکھا گیا ہے۔197کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ 27,891 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق9,925اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق 10؍اپریل 2020ء کی شام تک 2754 نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔بلیٹن کے مطابق ضلع سری نگر میں اب تک کورونا وائر س کے 51 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے 49 سرگرم معاملات ہیں ۔ایک مریض صحتیاب ہوا ہے جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔اُدھر بانڈی پورہ میں اب تک 36 مثبت معاملات سامنے آئے ہی جن میں سے 33 سرگرم معاملات ہیں ، دو مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد 30 ہوئی ہیں جن میں سے 29سرگرم معاملات ہیں اور ایک مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔اِدھر بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 10ہوئی ہیں ۔پلوامہ ضلع میں کووِڈ ۔19کے تین معاملات کی تصدیق ہوئی ہے ۔ضلع شوپیان میں 13 مثبت معاملات سامنے آئے ہیں۔گاندربل ضلع میں کورونا وائرس سے متاثرہ اَفراد کی تعداد اب تک 2، کولگام ضلع میں تین جبکہ جموں ضلع میں 6 ہوئی ہیں۔اسی طرح اودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 17 ہوئی ہیں جن میں سے 16معاملات سرگرم ہیں جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔دریں اثنأ راجوری ضلع میں کورونا کے اب تک تین مریض پائے گئے ہیں جن کا علاج جاری ہے جبکہ کشتواڑ ضلع میں اب تک ایک معاملے کی تصدیق ہوئی ہے اور یہ مریض مکمل طور پر صحتیاب ہوا ہے۔جموں وکشمیر میں کورونا وائر س میں مبتلا پائے گئے غیر ریاستی باشندوں کی کل تعداد اب تک 19پہنچ گئی ہیں جن میں سے 17معاملات سرگرم ہیں جبکہ دو مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔
 

کچھ اچھی خبر بھی۔۔۔!

 17کورونا مریض کی رپورٹیں منفی 

پرویز احمد 
 
 سرینگر // وادی کشمیر میں کورونا وائرس مریضوں میں اضافہ کے ساتھ جہاں تعداد 162تک پہنچ گئی ہے وہیں ابتک پہلے سے مثبت قرار دیئے گئے 17افراد کی رپورٹیں منفی آئی ہیں اور انہیں صحتیاب ہونے کے بعد قرنطینہ منتقل کیا گیا ۔ اسپتالوں میں زیر علاج رہنے والے مریضوں میں سے 14سی ڈی اسپتال میں صحتیاب ہورہے ہیں جبکہ صورہ میں 3افراد ٹھیک ہوکر گھر چلے گئے ہیں۔  سی ڈی اسپتال کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ جمعہ کو مزید 6مریضوں کی رپورٹیں منفی آئی ہیں جو پہلے مثبت قرار دئے گئے تھے‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ کورونا وائرس میں مبتلا 28مریض دال کئے گئے تھے جن میں 2کی موت ہوئی جبکہ اسپتال میں باقی رہنے والے 26میں سے 14کی دوسری تشخیصی رپورٹ بھی منفی آئی ہے اور انہیں قرنطینہ کیلئے کشمیر ویلی نرسنگ ہوم منتقل کیا گیا ہے۔  انہوں نے کہا ’’ آئیسولیشن وارڈ میں اب صرف 12کورونا وائرس مریض زیر علاج ہیں اور وہ بھی آہستہ آہستہ صحتیاب ہورہے ہیں‘‘۔ سکمز صورہ میں کل 86مشتبہ مریضوں کے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر فاروق احمد جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’آئی سولیشن وارڈ میں کل 42مریض تھے جن میں 12کو ہم نے جے وی سی اسپتال بمنہ منتقل کیا جبکہ باقی  30ابھی بھی زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ 86میں سے  44مریضوں میں سے چند ضلع اسپتالوں میں زیر علاج ہیں جبکہ 3سکمز صورہ میں صحتیاب ہونے کے بعد  گھر واپس لوٹ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’’ کچھ اور مریضوں کی رپورٹیں اب منفی آئی ہیں لیکن انہیں بھی انتظامی قرنطینہ میں رکھا گیا ہے کیونکہ اب سکمز صورہ میں صرف مثبت آنے والے مریضوں کا ہی علاج ہوتا ہے جبکہ منفی قرار دئے جانے والے مریضوں کو واپس متعلقہ قرنطینہ مراکز میں منتقل کیا جاتا ہے۔ 
 

گنڈ جہانگیر ، ٹنگمرگ ، اوڑی ،عیدگاہ اور چھتہ بل

۔5خاندانوں کے 36اہل خانہ متاثر

پرویز احمد
 
سرینگر //وادی میں کئی خاندان مکمل طور پر کورونا وائرس میں مبتلا ہوگئے ہیں۔جمعرات کو جو 24 افراد مبتلا پائے گئے ان میں 11 افراد گنڈ جہانگیر بانڈی پورہ کے ایک ہی خاندان سے ہیں جن کا ایک اہل خانہ 7 اپریل کو کورونا سے انتقال کر گیا۔گنڈ جہانگیر کے ایک ہی خاندان کے11 افراد میں 7خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔ٹنگمرگ علاقہ کے ایک گاؤں کی صورتحال بھی کچھ ایسی ہی ہے۔یہاں سے بھی ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جمعرات کو مثبت پائے گئے۔ان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔یہ پانچوں افراد اس شخص کے رشتہ دار بتائے جارہے ہیں جو 29 مارچ کو کورونا وائرس سے فوت ہوا تھا۔ابھی تک محکمہ صحت یہ پتہ نہیں لگاپایا ہے کہ اسے انفیکشن کب اور کیسے ہوا جو ایک پریشان کن معاملہ ہے۔ جمعرات کے متاثرین سے پہلے اس شخص کے تین قریبی رشتہ دار کورونا میں مثبت پائے گئے تھے۔ کل ملا کے اس شخص کی موت کے بعد اس سے جڑے 12 افراد متاثر پائے گئے ہیں۔اُن میں فوت ہوئے شخص کا بیٹا، اسکی اہلیہ اور ایک چھوٹا بچہ بھی شامل ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مذکورہ گاؤں میں جو لوگ جمعرات کو مثبت پائے گئے انہیں 7 اپریل تک کورنٹاین نہیں کیا گیا تھا۔اس دوران 10 دن تک ان لوگوں نے کتنے لوگوں میں انفیکشن پھیلایا ہوگا یہ آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا۔ ڈورواننت ناگ میں جمعرات کو جو پہلا معاملہ سامنے آیا اس کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ اسے صرف 3 دن تک کورنٹاین مرکز میں رکھا گیا ، پھر اسے گھر قرنطینہ میں رہنے کا مشورہ دیا گیا، لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ بیرون ریاست سے آیا ہے اسے تین دن کے بعد انفیکشن پھیلانے کیلئے کھلا چھوڑ ا گیا۔اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔کشمیر میں اور بھی کئی ایسے خاندان ہیں جوکورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔  چھتہ بل سرینگر میں ایک ہی کنبے کے 4 افراد متاثر ہوئے، جن میں میاں بیوی اور انکے دو بچے شامل ہیں۔عیدگاہ سرینگر میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد اس انفیکشن سے متاثر ہوئے جبکہ اوڑی بارہمولہ میں والد کے بعد اسکی تین بیٹیاں کورونا مثبت پائی گئیں ۔
 

ایران سے راجستھان بھارتی شہری

مزید 6 مثبت،کل تعداد48

یو این آئی 
 
جیسلمیر//اجستھان میں جیسلمیر کے ملٹری اسٹیشن میں ایران سے لائے گئے ہندوستانی شہریوں میں سے جمعہ کو چھ اور شہریوں کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے ۔جمعرات کو بھی چار شہریوں کی رپورٹ پازیٹو آئی تھی۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ان کو ملاکر اب تک جیسلمیر میں کل 27شہری پازیٹو پائے جاچکے ہیں۔اس کے ساتھ ہی اب تک جودھپور اور جیسلمیر میں ایران سے لائے گئے 48ہندوستانی شہریوں کی رپورٹ پازیٹو آئی ہے ۔ان چھ شہریوں کو جودھپور کے ایمس میں بھیجا جارہا ہے ۔
 

سرینگر کا سبزی فروش بھی متاثر

ضلع ترقیاتی کمشنر کی سماجی رابطہ گاہ پر اطلاع 

پر ویز احمد
 
سرینگر // ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے کہا ہے کہ حال ہی میں سرینگر میں ایک سبزی فروش میں کورونا وائرس میں مبتلا پایا گیا۔ضلع مجسٹریٹ نے جمعہ کی صبح اپنے ٹیوٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے تحریر کیا’’حال ہی میں سرینگر میں ایک سبزی فروش کو وائرس میں مبتلا پایا گیا اور انتظامیہ ابھی تک اسکے رابطے میں آنے والے لوگوں کے بارے میں تفصیلات جمع کررہی ہے‘‘۔انہوں نے مزید لکھا’’ خیال کیجئے کہ ان لوگوں پر کیا اثر پڑا ہوگا جو صارفین اسکے ساتھ نزدیکی رابطے میں آئے ہونگے‘‘۔ انہوں نے مزید لکھا’’ہم اب بھی انے قریبی راطبے تلاش کرنے میں لگے ہیں تاہم  ذرا تصور کیجئے کہ اس کے ہاتھوں فروخت کی گئیں سبزیاں کتنے گھروں تک پہنچی ہونگی، کتنے گھر متاثر ہوئے ہونگے جو ابھی تک نگرانی کے عمل سے باہر ہیں‘‘۔ایک شخص نے ضلع مجسٹریٹ سے پوچھا کہ پھر کیا ہوگا لوگ سبزیاں کیسے خریدیں، اور کیا کھائیں گے، اس پر ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا’’ 23مارچ سے میں نے مرغ اور سبزیاں نہیں کھائیں، میں جو چاہتا، کھا سکتا تھا میرے لئے کوئی مشکل نہیں تھا، لیکن اپنی اور اہل خانہ کی حفاظت اہم تھی اس لئے میں نے تب سے صرف دال چاول پر اکتفا کیا‘‘۔دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ سبزی فروش بمنہ میں سبزیاں فروخت کرتا تھا اور کورونا سے متاثر ہونے کے بعد وہ صدر اسپتال سے بھاگ گیا اور دوسرے دن سبزیاں فروخت کرنے لگا، جس کے دوران پولیس نے اسے حراست میں لیا۔