نئی دہلی//دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا ک کورونا انفیکشن کے بڑھتے معاملوں کے پیش نظر اب دہلی حکومت کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں صرف دہلی کے عوام کا علاج کیا جائیگا جبکہ مرکزی حکومت کے اسپتال پہلے کی طرح سبھی لوگوں کیلئے کھلے رہیں گے اور یہ انتظام کورونا انفیکشن تک جاری رہے گا۔دہلی حکومت نے اتوار کو کابینہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا ہے ۔ کیجریوال نے بتایا کہ دہلی حکومت کے تحت آنے والے اسپتالوں اور دہلی کے نجی اسپتالوں میں صرف دہلی کے لوگوں کا علاج ہوگا۔وہیں مرکزی حکومت کے اسپتال جیسے ایمس،صفدرجنگ اور رام منوہر لوہیا(آر ایم ایل)میں سبھی لوگوں کا علاج ہوسکے گا،جیسا اب تک ہوتا آیا ہے حالانکہ ،کچھ اسپتال جو خاص سرجری کرتے ہیں،جو کہیں اور نہیں ہوتی،ان کو کروانے کے لئے ملک بھر سے کوئی بھی دہلی آسکتا ہے ،اس پر روک نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پہلے 60 سے 70 فیصد باہر کے لوگ یہاں کے اسپتالوں میں داخل ہوتے رہے ہیں لیکن اس وقت دہلی میں مسئلہ ہے ،کورونا کے معاملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ایسی حالت میں پورے ملک کے لئے اسپتال کھول دئے تو دہلی کے لوگ کہاں جائیں گے ۔ کیجریوال نے بتایا کہ پانچ ڈاکٹروں کی کمیٹی بنائی گئی تھی جنہوں نے مانا کہ فی الحال باہر کے مریضوں کو روکنا ہوگا۔کیجریوال کے مطابق،کمیٹی نے کہا ہے کہ دہلی کو جون کے آخر تک 15 ہزار کوویڈ بیڈ چاہئے ہوں گے ۔فی الحال دہلی کے پاس 9 ہزار بیڈ ہیں اور اگر اسپتال سب کے لئے کھول دئے تو یہ نو ہزار تین دن میں بھر جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ 7.5 لاکھ لوگوں نے انہیں مشورے دئے ،جس میں سے 90 فیصد نے کہا کہ فی الحال کورونا بحران تک دہلی کے اسپتال صرف دہلی والوں کے لئے ہونے چاہئے ۔ وزیراعلی نے کہا کہ8 جون سے دہلی سیل بارڈر کو کھول رہی ہے ۔اس سے غازی آباد،نوئیڈا ،گروگرام اور فریدآباد کے لوگ آسانی سے دہلی آسکیں گے ۔اس کے ساتھ ہی دہلی میں ریستراں ،مال اور مذہبی مقام کھولے جائیں گے ۔اس دوران مرکزی حکومت کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔ہوٹل اور بینکٹ ہال کو ابھی نہیں کھولا جائے گا۔ہوسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں ہوٹلوں کو اسپتالوں کے ساتھ اٹیچ کرنا پڑے ،اس لئے انہیں نہیں کھولا جائے گا۔ کیجریوال نے بزرگوں سے اپیل کی کہوہ باہر یا گھر کے اندر بھی کسی سے رابطے میں نہ آنے کی کوشش کریں۔اس کے ساتھ ہی جسے پہلے ذیابیطس ،بلڈ پریشر یا کسی دیگر قسم کی بیماری ہے ،وہ مزید احتیاط برتیں اور گھروں سے کم سے کم نکلیں۔