کورونا بحرام کے دوران خواتین کی خدمات بے مثال

 گاندربل//ارشاد احمد//سنٹرل یونیورسٹی کشمیر کے شعبہ خواتین ایمپاورنمنٹ سیل اور شعبہ اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے باہمی اشتراک سے ایک روزہ سیمینار"خواتین میں قائدانہ قیادت: کوویڈ 19 دنیا میں ایک مساوی مستقبل کے حصول کے لئے"موضوع پر گرین کیمپس میں منعقد کیا گیا.سیمینار ’خواتین کے عالمی دن‘ کی یاد میں منانے کے لئے منعقد ہوا تھا اور اس میں مختلف شعبوں کے زیر تعلیم طلباء نے شرکت کی۔ سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے رجسٹرار پروفیسر ایم افضل زرگر نے کہا کہ خواتین نے ہر پیشے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو نبھاتے ہوئے اپنے کردار اور فرائض کو نبھا رہی ہیں۔انہوں نے کہا "کوڈ 19 وبائی بیماری کے سبب لاک ڈاؤن کے دوران  وہ خواتین تھیں جنہوں نے گھروں پر پوری ذمہ داری نبھاتے ہوئے ملک بھر میں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے کے ممبروں نے علاج معالجے اور انتظام میں قابل ستائش کام کیا۔انہوں نے کہا کہ نرسوں سمیت متعدد خواتین صحت کی دیکھ بھال کرنے والی کارکنان نے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی.سمینارسے خطاب کرتے ہوئے کنٹرولر امتحانات اور چیئرپرسن ڈبلیو ای سی پروفیسر پروین پنڈت نے کہا کہ عصر حاضر میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے علم کا حصول اور مہارتیں آلہ کار ہیں۔خواتین کو مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اپنے پیشہ ور شعبوں میں درپیش چیلنجوں پر قابو پانے کے لئے اپنے آپ کو مقام حاصل کرنے اور ان کی جگہ بنانے کے بہترین عمل اپنانا چاہیے.انہوں نے کہا کہ یہ دن منایا جارہا ہے تاکہ خواتین کی طاقتوں اور کمزوریوں کا تجزیہ کیا جاسکے اور ان کے مطابق ان کو حل کیا جاسکے۔اس موقع پر شعبہ سٹوڈنٹ ویلفیئر کے سربراہ پروفیسر مہراج الدین شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج یہ دن خواتین کی کامیابیوں کو منانے چیلنجوں کو تسلیم کرنے اور خواتین کے حقوق اور صنفی مساوات پر توجہ دینے کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر درپیش چیلنجوں پر تشویش یہ ہے کہ بہت سی ترقی کے باوجود حقیقی تبدیلی خواتین کی اکثریت کے لئے سست رہی ہے۔پروفیسر شاہ نے مزید کہا ، "خواتین کو کم تنخواہ دی جارہی ہے اور ان کے خلاف تشدد میں بھی بہت تیزشرح سے بڑھ رہا ہے۔افتتاحی تقریب کے بعد مختلف محکموں کے 12 طلباء￿  نے بھی اپنی طرف سے خواتین کی حالت زار اور ان کے سامنے آنے والے امور کو اجاگر کیا گیا۔شعبہ انگریزی ، شعبہ کنورجنٹ جرنلزم اور شعبہ ریاضی کے تین طلباء￿  نے اپنی پیشکشوں کے لئے بالترتیب پہلی دوسری اور تیسری پوزیشن حاصل کی۔