کنی پورہ نوگام میں مسلح تصادم، جنگجو جاں بحق

سرینگر//گنڈژکہ پورہ کنی پورہ نوگام میں جمعہ کی صبح جھڑپ کے دوران ایک جنگجوجاں بحق ہوگیا۔ مظاہرین اورپولیس وفورسزکے درمیان پیداہوئی ٹکرائو کی صورتحال کے دوران ایک نوجوان گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا، جسکی حالت نازک قرار دی جارہی ہے جبکہ پیلٹ اور شلنگ سے مزید 3مضروب ہوئے۔جھڑپ کے فوراً بعد ضلع بڈگام میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی۔

مسلح تصادم

پولیس نے بتایاکہ جنگجوئوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملنے پر50آرآر،سی آرپی ایف اورپولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ سے وابستہ اہلکاروں نے مشترکہ طورپرضلع بڈگام کے گنڈژکہ پورہ کنی پورہ نوگام علاقہ کومحاصرے میں لیاجبکہ جنگجومخالف آپریشن سے متعلق غلط اورگمراہ کن افواہوں پرروک لگانے کیلئے ضلع بڈگام میں موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کی گئی۔تلاشی کارروائی شروع ہونے کے کچھ دیربعدمحاصرے میں پھنسے جنگجوئوں نے فائرنگ شروع کردی ۔طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے دوران ایک جنگجو جاں بحق ہوا۔بعد میں اسکی شناخت ابو ضرار کے بطور کی گئی جو کہ غیر ملکی جنگجو تھا۔

جھڑپیں

مقامی لوگوں نے بتایاکہ گولیوں کاتبادلہ شروع ہونے کے بعدگنڈژکہ پورہ کنی پورہ میں نوجوان گھروں سے باہرآئے اورانہوں نے مقام جھڑپ کے نزدیک جانے کی کوشش کی ۔تاہم یہاں تعینات پولیس وفورسزاہلکاروں نے اُنھیں ایساکرنے سے روکا،جس پرنوجوان مشتعل ہوئے اورانہوں نے سنگباری شروع کردی ۔ لوگوں کے بقول پولیس وفورسزاہلکاروں نے سنگباری اوراحتجاج کررہے نوجوانوں کی ٹولیوں کومنتشرکرنے نیزاُنھیںمقام جھڑپ کے نزدیک جانے سے روکنے کیلئے شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کی گئی۔اسکے بعدفورسزاہلکاروںنے گولیوں کے کچھ رائونڈفائر کئے ،جسکے نتیجے میں ایک نوجوان گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا۔ 30سالہ شبیراحمدولدمحمداشرف کے جسم میں پیٹ کے نیچے گولی پیوست ہوئی ہے اوراسکافوری آپریشن عمل میں لایاگیا۔ زخمی نوجوان کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔اسکے علاوہ شلنگ اور پیلٹ سے مزید 3نوجوان  زخمی ہوئے۔

پولیس بیان

حفاظتی عملے کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ جنگجو وسطی ضلع بڈگام کے کرالہ پورہ ژک پورہ علاقے میں چھپے بیٹھے ہیں تو پولیس اور سیکورٹی فورسز نے مشترکہ طورپر علاقے کو محاصرے میں لے لیا اور اُنہیں ڈھونڈ نکالنے کیلئے کارروائی شروع کی۔ فرار ہونے کے تمام راستے مسدود پا کر جنگجوئوںنے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی ۔ چنانچہ سلامتی عملے نے بھی پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کا آغاز کیا اور اس طرح سے طرفین کے مابین جھڑپ شروع ہوئی۔ کچھ عرصہ تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں ایک جنگجوہلاک ہوا۔اسکی شناخت ضرار ساکن پاکستان کے بطور ہوئی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق مہلوک دہشت گرد کالعدم تنظیم جیش کے ساتھ وابستہ تھا اور وہ سیکورٹی فوسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے سلسلے میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کو انتہائی مطلوب تھا۔