کنگن پلوامہ میں گولیوں کا شدید تبادلہ ،جنگجو جاں بحق، دو فرار

 پلوامہ +کپوارہ//کنگن پلوامہ میں مختصرمعرکہ آرائی کے دوران ایک مقامی جنگجوجاں بحق جبکہ ایک فرار ہوا۔ادھر جگتیال کپوارہ کے مضافاتی جنگل سے ایک زخمی غیرملکی جنگجوکو گرفتارکیاگیا۔پلوامہ سے دو کلو میٹر دور کنگن اور وژھ پورہ کے درمیانی میوہ باغاتی علاقے میںتین جنگجو موجود تھے، جن کے موجود ہونے کی اطلاع ملتے ہی فوج کی 55آر آر ، ریاستی پولیس کی ٹاسک فورس ونگ اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے فوری طور علاقے کو محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ کنگن پلوامہ میں واقع نائیک میوہ باغ میں کچھ جنگجوئوں کے موجود ہونے کی اطلاع ملتے ہی جنگجو مخالف کارروائی عمل میں لائی گئی اور یہاں گولیوں کا تبادلہ ہوا ۔ انہوں نے کہا گولیوں کے مختصر تبادلے میں ایک جنگجو مارا گیا تاہم غالباً اسکے دو ساتھی فرار ہوئے۔انکا کہنا تھا جائے وقوع سے دو ہتھیار بر آمد کئے گئے جن میں ایک ایس ایل آر رائفل بھی ہے۔مذکورہ جنگجو کی شناخت مصور حسین وانی ولد غلام حسن ساکن ڈلی پورہ پلوامہ کے بطور ہوئی ہے۔مذکورہ جنگجو نے  بنگلور سے بی ٹیک کیا تھا۔وہ اپریل 2017میں جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔عین شاہدین نے بتایاکہ علاقے میں فائرنگ کے ساتھ ہی آس پاس دیہات کے لوگ گھروں سے باہر آئے اور فورسز پر شدید پتھرائو کیا جو شام تک جاری تھا ۔ جس دوران فورسز نے مظاہرین اور پتھرائو کرنے والوں کو دور رکھنے کے لئے ہوا میں فائرنگ کر کے درجنوں آنسو گیس کے گولے داغے ۔جھڑپ کی جگہ کے قریب شدید جھڑپوں کے نتیجے میں کئی افارد کو چوٹیں آئیں جن میں نصف درجن افراد پیلٹ لگنے سے مضروب ہوئے۔ ادھر پلوامہ قصبے میں جنگجو کی ہلاکت کے خلاف نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے فورسز پر سنگباری شروع کی۔مورن چوک، مین چوک، سیٹ بنک آف انڈیا کے قریب مشتعل مظاہرین اور فورسز میں شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔جنگجو کو رات کے دوران دفنانے کی مقامی اوقاف کمیٹی سے استدعا کی گئی لیکن مقامی لوگوں نے ایسا کرنے سے انکار کرتے ہوئے لاش کو سنیچر کی صبح دفنانے کا فیصلہ کیا۔قصبے میں رات دیر گئے تک تصادم آرائی جاری رہی۔ادھر سرینگر میں دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے بتایا کہ ضلع پلوامہ کے کنگن گائوں میں ہوئی مختصر جھڑپ کے دوران ایک جنگجو مارا گیا جبکہ جائے واردات سے مارے گئے جنگجو کا ہتھیار اور دیگر کچھ سامان بر آمد کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ختم کیا گیا ۔ادھرسرحدی ضلع کپوارہ کے ہلمت پورہ علاقہ میں گزشتہ مہینے فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان خون ریز تصادم آ رائی میں زخمی جنگجو کو پولیس نے گرفتار کر نے کا دعویٰ کیا ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ فوج اور سپیشل آ پریشن گروپ نے جمعہ علی الصبح مصدقہ اطلاع ملنے پر جگتیال ہایہامہ کو محاصرے میں لیا اور جنگجوئو ں کی موجودگی کے پیش نظر ترشن جگتیال کے جنگلی علاقہ میں بھی تلاشی کارروائی کی جس کے دوران وہا ں چھپے بیٹھے ہلمت پورہ جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے جنگجو کو حراست میں لیا گیا۔مذکور جنگجو بغیر ہتھیار تھا ۔گرفتار کئے گئے جنگجو کی شناخت ذبیع اللہ عرف حمزہ ساکن ملتان پاکستان کے بطور ہوئی ہے۔گرفتار کیا گیا جنگجو بیمار ہے اور وہ چلنے  پھرنے کے بھی قابل نہیں ہے ۔واضح رہے کہ ہلمت پورہ کے فتح خان چک علاقہ میں 20مارچ کو فوج اور جنگجوئو ں کے درمیان خون ریز جھڑپ میں 5جنگجو ،3فوجی اور 2پولیس اہلکار مارے گئے تھے،جبکہ ایک جنگجو زخمی حالت میں فرار ہوا تھا۔ فوج اور پولیس نے فرار جنگجوئو ں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شرو ع کی تھی جو ایک ہفتہ تک جاری رہی ۔گزشتہ سال لنگیٹ علاقہ میں بھی جھڑپ کے دوران فوج نے ایک غیر ملکی جنگجو بہادر علی کو گرفتار کیا تھا۔ ایک سال کے دوران کپوارہ ضلع میں دو غیر ملکی جنگجوئو ں کو زندہ گرفتار کیا گیاہے ۔