کلینکل پرفیوڑن اور پرفیوژنسٹ:
کلینکل پرفیوژن ( Clinical Perfusion)طبی سائنسز کا ایک ایسا شعبہ ہے جس میں بنیادی طور پر دل کے آپریشن (open Heart Surgery)کے دوران دل اور پھیپھڑوں کے معمول کے افعال کو مصنوعی انداز میں بر قرار رکھا جاتا ہے کیونکہ دل کی سرجری کے دوران عام طور پر یہ دو اعضا ء کام نہیں کرتے یا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے جس سے سرجن کو سرجری کرنے میں بہت سہولت ہوتی ہے۔ اس عمل کو طبی علوم میں کارڑیو پلمونری بائی پاس ( Cardiopulmonary Bypass) کہا جاتا ہے اور اس عمل کے ماہرین کو کارڑیو پلمونری بائی پاس سائنٹسٹ(Cardiopulmonary Bypass Scientist) یا کلینکل پرفیوژنسٹ (Clinical Perfusionist)کہتے ہیں۔ کلینکل پرفیوژنسٹ اوپن ہارٹ سرجری کے اہم ترین ممبروں میں سے ایک ہے جس کا کام سرجری کے دوران کارڑیو پلمونری بائی پاس کو ہارٹ لنگ مشین (Heart Lung Machine)کی مدد سے یقینی بنانا ہے اور اس کے علاوہ اس عمل کے دوران مریض کے وائیٹلز (Vitals) خاص طور پر بلڈ پریشر کا بھی بھر پور دھیان رکھنا اور ان کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ایک کلینکل پرفیوژنسٹ سرجری کے دورون وقتاً فوقتاً مریض کے خون کی جانچ (Arterial Blood Gas test) کرتا رہتا ہے جس سے اس کو کارڑیو پلمونری بائی پاس کی کامیابی کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر یہ ٹیسٹ ٹھیک آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو کارڑیو پلمونری بائی پاس ایسے ہی زندہ رکھ رہا ہے جیسے ایک عام اور صحت مند انسان اپنے دل اور پھیپھڑوں کی وجہ سے زندہ رہتا ہے اور اگر اس ٹیسٹ میں کوئی خرابی آتی ہے تو اس سے عموماً یہی نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ کارڑیو پلمونری بائی پاس میں کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے۔ پھر ایک کلینکل پرفیوژنسٹ ٹیسٹ کے حساب سے ہی مشین کی سیٹنگ کو تبدیل کرتا ہے اور مریض کے خون میں انجکشن کی شکل میں ادویات بھی شامل کرتا ہے۔
کلینکل پرفیوژن کا آغاز:
کلینکل پرفیوژن کی بنیاد کا سہرا کسی ایک سائنس دان یا موجد کے سر پر نہیں سجایا جا سکتا لیکن اگر کسی کو یہ اعزاز دیا بھی جائے اور کسی کو اس علم کا بانی کہا بھی جائے تو وہ امریکہ کے ایک سرجن جناب سر جان ہیشم گبن (Sir John Heysham Gibbon)ہونگے۔ پرفیوژن پر اتنا کام کسی نے بھی نہیں کیا ہے جتنا کہ جناب جاں گبن نے کیا ہے۔ حتا کہ کلینکل پرفیوژن میں جس مشین کا استعمال کیا جاتا ہے (یعنی ہارٹ لنگ مشین) وہ بھی جناب گبن نے ہی بنائی ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کارڑیو پلمونری بائی پاس کی مدد سے پہلی کامیاب اوپن ہارٹ سرجری کرنے والی بھی گبن ہی تھی۔ یہ آپریشن 06 مئی 1953 میں اٹھارہ سال کی ایک عورت (سیسیلیہ بیولاک) پر کیا گیا تھا جس کے دل میں موجود ایک ابنارمل سوراخ ( Atrial Septal Defect) کو گبن نے کارڑیو پلمونری بائی پاس کی مدد سے بند کیا تھا۔ اس سرجری میں گبن کی بیوی میری گبن نے کلینکل پرفیوژنسٹ کا کام کیا تھا۔ اس بڑی کامیابی کو یاد کرنے کیلئے دنیا بھر کے پرفیوژنسٹس ہر سال مئی کے پہلے ہفتے کو بطور کلینکل پرفیوژن ویک مناتے ہین۔ اگر چہ گبن کو کلینکل پرفیوژن اور کارڑیو پلمونری بائی پاس کا موجد مانا جاتا ہے لیکن اس بات کا اعتراف کرنا بھی ضروری ہے کہ ان کے علاوہ بھی کئی اور سائینس دانوں نے کلینکل پرفیوژن میں بہت کام کیا اور اس کی بنیاد ڈالنے اور اس کو انسانی جان بچانے میں مفید بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ ان میں والٹن للیہی، جان لیوس، ماریو ڈگلیاٹی اور کلیرینس ڈینس بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔
کارڑیو پلمونری بائی پاس کی آمد سے پہلے اوپن ہارٹ سرجری کا تصور کرنا بھی ناممکن تھا اور اگر کسی ہسپتال میں دل کا آپریشن کیا بھی جاتا تو مریض کا بچنا ممکن نہ تھا۔ یہاں تک کہ ایک سرجن (بلراتھ) نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ جو بھی سرجن اپنے ساتھیوں کی نظر میں محترم رہنا چاہتا ہے تو وہ کبھی بھی دل پر ٹانکے لگانے کی کوشش نہ کرے۔ لیکن جوں ہی ہارٹ لنگ مشین ایجاد ہوئی تو ہارٹ کی سرجری امریکہ اور یورپ میں ایک معمول بن گئی اور تھوڑے ہی وقت کے بعد آسٹریلیا، ایشیا اور افریقہ کے شفا خانوں میں بھی دل کا آپریشن ایک حقیقت بن گیا۔ اب دنیا بھر میں ہر سال لگ بھک پانچ لاکھ اوپن ہارٹ سرجریاں کی جاتی ہیں۔
کارڑیو پلمونری بائی پاس:
جو عمل کلینکل پرفیوژن کی بنیاد ہے، اس کو کارڑیو پلمونری بائی پاس کہتے ہیں۔ یعنی یہ وہ عمل ہے جس میں مریض کے دل اور پھیپھڑوں کے افعال کو روکا جاتا ہے پھر ان اعضاء کا کام ہارٹ لنگ مشین کے ذریعے مصنوعی طور پر کیا جاتا ہے۔ یہ عمل عارضی ہوتا ہے اور صرف اسی وقت تک جاری رکھا جاتا ہے جب تک ایک سرجن مریض کے ڈیفیکٹ کو ٹھیک کر رہا ہوتا ہے۔ جوں ہی آپریشن ختم ہونے لگتا ہے تو مریض کے دل اور پھیپھڑوں کو واپس اپنے حال میں لایا جاتا ہے جس کو ویننگ (Weaning) کہتے ہیں۔ کارڑیو پلمونری بائی پاس دل کے بہت سارے آپریشوں میں استعمال کیا جاتا ہے مثلاً ابنارمل سوراخ بند کرنے کی سرجری (Septal Defect Closure)، دل کے خراب ویلو (Valve) کو ٹھیک یا بدلنے کی سرجری (Valve Repair/Replacement)، دل کی بند رگوں کو بدلنے کی سرجری (Coronary Artery Bypass Grafting) وغیرہ وغیرہ۔
ہارٹ لنگ مشین :
اوپن ہارٹ سرجری میں ہارٹ لنگ مشین کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اتنی کہ اس مشین کے بغیر دل کے آپریشن کاتصور کرنا بھی مشکل ہے۔ہارٹ لنگ مشین کی مدد سے ایک سرجن کے لئے دل کا آپریشن کرنا نہ صرف ممکن بن جاتا ہے بلکہ سرجری بہت آسان ہو جاتی ہے۔ ہارٹ لنگ مشین کے بہت سارے حصے ہوتے ہیں جس میں دو اعضاء بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک کو آرٹیریل پمپ (Arterial Pump) کہتے ہیں جو کہ وہی کام کرتا ہے جو ہمارے جسم میں دل کرتا ہے۔ دوسرے عضو کو آکسی جنیٹر (Oxygenator) کہتے ہیں جو کہ پھیپھڑوں کا کام کرتا ہے۔ چونکہ اوپن ہارٹ سرجری کے دوران دل اور پھیپھڑوں کو کام کرنے سے روکا جاتا ہے تا کہ سرجن دل پر آسانی سے کام کر سکے اور جو بھی ڈیفیکٹ (Defect) ہو اس کو ٹھیک کر سکے، اس لئے ہارٹ لنگ مشین کا استعمال کرنا ناگزیر بن جاتا ہے۔
کلینکل پرفیوژنسٹ کیسے بنیں:
ایک پروفیشنل کلینکل پرفیوژنسٹ بننے کے لئے کلینکل پرفیوژن میں گریجویشن کرنی پڑتی ہے۔ مشیگن یونیورسٹی، برسٹل یونیورسٹی، مسیچیوسیٹس انسٹیٹیوٹ، وغیرہ ایسے ادارے ہیں جہاں کلینکل پرفیوژن میں بہترین اور اعلیٰ طرین تربیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح برصغیر میں پاکستان کی نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور ہندوستان کا آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کلینکل پرفیوژن کی بہت اچھی تربیت گاہیں ہیں۔ جموں و کشمیر میں شیرِ کشمیر انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ایک واحد کلینکل پرفیوژن ٹرایننگ سینٹر ہے جہاں بارہویں کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایک کامن انٹرنس امتحان پاس کرکے داخلہ لیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ کلینکل پرفیوژن جموں و کشمیر میں ابھی ایک نئی چیز ہے جس وجہ سے یہاں پر ابھی اس کا سکوپ بہت کم ہے لیکن تکنیکی ترقی کی بڑھتی ہوئی رفتار اور دل کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو دیکھ کر یہ مانا جا رہا ہے کہ آنے والے برسوں میں کلینکل پرفیوژنسٹوں کی ڈیمانڈ بہت زیادہ بڑھنے والی ہے۔
ّ(مضمون نگار کاتعلق ہلر شاہ آباد، ڈورو اننت ناگ سے ہے اور انہوںنے شیرکشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ سرینگرسے کلینکل پرفیوژن میں گریجویشن کی ہے)