کشمیر کی جدوجہد مقامی، حل طاقت نہیں مذاکرات

اسلام آباد //پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات میں ہے پاکستان نے بھارت کو کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی لیکن ہر بار بھارت ہی مذاکرات سے بھاگتاہے۔ انہوں نے کہا کہ دو ایٹمی ممالک کا اختلافات کو جنگ سے حل کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔عمران خان نے ایک انٹر ویو میں کہا کہ بھارت کو پیشکش کی آپ ایک قدم بڑھیں پاکستان دو قدم بڑھے گا لیکن بد قسمتی سے اس نے کئی بار مذاکرات کی پا کستانی پیشکش کو مسترد کیا۔ بھارت کو آج نہیں تو کل سوچنا ہی پڑے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کی وجہ بھارتی انتخابات ہیں، جہاں ووٹ پاکستان مخالف جذبات سے ملتا ہے۔بی جے پی انتخابات میں کامیابی کیلئے مذاکرات نہیں کررہی ہے۔عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل بھی سفاکیت اور فورسز کا استعمال نہیں بلکہ بات چیت ہے۔ان کا کہنا تھا، کشمیر بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، کشمیر میں بھارت نے ظلم وبربریت کی تمام حدیں پار کردی ہیں۔ پچھلے سال کشمیر میں بھارتی سفاکیت اذیت ناک رہی، نوجوانوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا، پیلٹ گنز سے اندھا کیا گیا،انہوں نے ایک سال میں 500لوگوں کو ہلاک کیا۔انکا کہنا تھا کہ بھارت کی سفاکیت کی وجہ سے کشمیری عوام الگ تھلگ ہورہے ہیں، لیکن اس نفرت کا الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان نفرت کی وجہ یہ ہے کہ بھارت کشمیریوں کو ہلاک کررہا ہے، جس کا رد عمل بھارت کیخلاف نفرت ہے،اور اس نفرت کو پاکستان کے خلاف الزام لگا کر بتایا جارہا ہے۔بات چیت کی وکالت کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کشمیر میں خالصتاً مقامی جد و جہد ہورہی ہے، اور ہر ایک اسے تسلیم بھی کررہا ہے، حتیٰ کہ اقوام متحدہ بھی ایسا ہی تسلیم کررہا ہے ۔ انکا کہنا تھا کہ کشمیر میں مقامی طور جدوجہد ہورہی ہے اور اس مسئلے کا حل سفاکیت اور سیکورٹی فورس کا استعمال نہیں بلکہ بات چیت ہے'۔