کشمیر کا سیاسی اُفق’نئے حادثات ‘کا منتظر

5اگست کے تاریخی اقدامات کے بعد کشمیر کی دو بڑی سیاسی پارٹیاں بیک وقت معتوب اور موردِ الزام ٹھہرائی گئی ہیں اور آثار و قرائن سے ظاہر ہے کہ موجودہ سرکار نے ان دونوں پارٹیوں کی ہند نواز یوں کو نہ صرف مسترد کیا ہے بلکہ ان کی وفاداریوں اور مر کزی آستانوں پر مسلسل دہائیوں سجدہ ریز ہونے کے باوجود انہیں ’’بے وفا ‘‘اور رقیبوں کی فہرست میں شامل کیا ہے ۔ظاہر ہے کہ مطلوب یعنی لیلائے اقتدار کے عشاق میں کبھی کوئی کمی نہیںہوتی بلکہ یہاں پہلے ہی سے محبوب کی گلی میں بہت سارے عشاق اس  انتظار میں رہتے ہی رہتے ہیں کہ دیکھئے اب کے کس خوش نصیب کے نام پیغام اقتدار آتا ہے ، اس لئے کوچے بدلے جارہے ہیں اور سنگ آستان بھی نئے نئے ہی تلاش کئے جارہے ہیں۔یہ ابھی تک ایک معمہ ہے کہ این سی اور پی ڈی پی سے ایسی کیا خطائیں ہوئی ہیں کہ ان سے منہ پھیر لیا گیا ہے۔ اس پر یہ ستم کہ مختلف دلنوازاداؤں سے ان پربڑے خوبصورت ستم ڈھائے جارہے ہیں۔کبھی طلبی ہے ،کبھی الزامات ہیں تو کبھی کورپشن کے معاملات ۔اور پاسپورٹ اجرا نہ کرنا بھی ایک ادائے دلبری ہی ہوگی۔
اس کے باوجود کہ کشمیر کی ساری سرکاریں ہی سیاسی کورپشن کا نتیجہ رہی ہیں،کیا یہ لوگ ہندنواز اور الحاق نواز نہیں ؟ ایک ہند نواز کی عمر بھر کی کوششوں سے جموں وکشمیر بھارت کو عطا ہوا اور دوسرے نے عملی طور پر اس پارٹی کو یہاں پناہ دی جس کے عزائم کشمیر کے متعلق کبھی ڈھکے چھپے نہیں رہے ہیں ۔اور کیا یہ لوگ ۵اگست کے اقدامات سے خفا یا ناراض ہیںجو انہیں قابل اعتنا نہیں سمجھا جارہا ؟ کوئی ایسی بات نظر نہیں آرہی ، یہ سب لوگ آج بھی اپنی وفا کی راہوں پر ثابت قدم اور غیر متزلزل ہیں اور اب بھی اقتدار کے لئے اپنے آقا سے بھی زیادہ وفادار رہنے پر مستقل مزاج ہیں لیکن محبوب کے مزاج کو سمجھنا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی کیونکہ وہ صدیوں کی وفا بھول کر اپنا ناطہ کسی اور سے بھی جوڑ سکتا ہے اور یہ بھی اس کی ایک ادا ہی ٹھہرتی ہے۔ 
پچھلے دو ہفتوں سے کشمیر نشین سیاست کار سرکس کے جوکروں کی طرح جھولوں پر سے لمبی چھلانگیں لگا کر اپنی چراگاہیں بدل رہے ہیں۔مختصر ساجائزہ بہت ہی دلچسپ رہے گا تاکہ آنے والے نئے’’سیاسی حادثات‘‘ کو کسی حد تک سمجھا جاسکے۔ کچھ دن پہلے کشمیری سیاست کار اور سابقہ نائب وزیر اعلیٰ مظفر حسین بیگ نے اپنے گھر واپسی کی ہے حالانکہ ان لوگوں کا کوئی مستقل گھر کہیں نہیں ہوتا بلکہ اقتداری لیلیٰ کے سنگ سنگ ہی اپنے نشیمن بناتے ہیں۔بیگ صاحب بڑے ہی منجھے اور تجربہ کار سیاست داں ہیں۔وہ کوئی معمولی سیاست داں نہیںہیں ، دلی کی سیاسی سر زمین میں اپنی جڑیں کافی مظبوط رکھے ہوئے ہیں۔ان کا قداس بات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ پیپلز کانفرنس میں واپسی کے محض کچھ دنوں بعد ہی بشارت بخاری، خورشید عالم اورپیر زادہ منصورحسین نے بھی پیپلز کانفرنس کے خیمے میں پناہ لی ہے جو سیاسی لحاظ سے بہت ہی اہم اور حیرت انگیز اشاروں کے ساتھ کشمیر کی سر زمین پر ایک نئے سٹیج کو سیٹ کرنے کی تیاری لگتی ہے ۔اگر چہ اس ڈرامے کے سارے کردار اور سکرپٹ وہی ہے جو یہاں دہائیوں سے موجود رہا ہے ،یہ سارے چہرے پی ڈی پی میں محبوبہ جی کے بہت قریب رہے ہیں ۔اس سلسلے کی ایک تقریب میں سجاد لون نے ان کا استقبال کرتے ہوئے یہ اہم بات کہی تھی کہ’’ یہ شروعات ہے اور بدلاؤ کے کارواں کا آغاز ہوچکا ہے ‘‘۔آپ کی دلچسپی کے لئے یہ بھی بتادیں کہ پیپلز کانفرنس میں عمران رضا انصاری موجود ہیں جو پی ڈی پی ،بھاجپا سرکار میں منسٹر بھی رہے ہیں، عبدالغنی وکیل جو عمر کے لمبے حصے تک کانگریس میں محو سفر رہے ہیں۔ اور بھی کئی اپنے آپ کو کشمیریوں کا غمخوار کہنے والے لوگ موجود ہیں۔کہیں کی اینٹ کہیں کا روڈا ،بھان متی نے کنبہ جوڑاوالی بات منصہ شہود پر آرہی ہے ؟اور اگر یہ’’ دل بدلو‘‘ اسی ایک خیمے میں جمع ہورہے ہیں تو یقینی طور پر کوئی خاص وجہ ہونی چاہئے،جو ایک تہلکہ خیز ڈرامے کی ابتدا ہی ہوسکتی ہے ۔
 پہلے بیگ صاحب ،ا نہوں نے اپنی سیاسی اننگ پیپلز کانفرنس کے ساتھ شروع کی تھی۔ اس جماعت کو آگے بڑھانے میں ان کا زبردست یوگدان رہا ہے۔پی سی کے وائس چیئر مین بھی رہے۔ ۲۰۰۲ میں پی ڈی پی کے منڈیٹ پر بارہمولہ سے انتخاب لڑا ، منتخب ہوئے اور ۲۰۰۸ میں پھراسی حلقے سے انتخاب میں جیتے ، اس بار کیبنٹ منسٹر بنے ۔لا ء اور پارلیمنٹ افیئرس کے علاوہ ڈپٹی چیف منسٹری بھی ان کی جھولی میں آگئی ۔۲۰۱۴ میں لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے ، بھارت سرکار نے انہیں ۲۰۲۰ میں پدما بھوشن کے سرکاری ایوارڈ سے نوازا۔ان کا یہ بیان بھی آن ریکارڈ ہے کہ جموں و کشمیر میں اب کبھی رائے شماری نہیں ہوگی ۔ اپنے خیالات اور اپنی رائے رکھنے کا حق سب کو ہے لیکن اس سے ظاہر ہے کہ یہ لوگ کشمیری عوام کے ساتھ کتنے ہم آہنگ اور کس قدر دور ہونے کے باوجود عوامی رہنما ہونے کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں ؟۔ہمارے خیال میں مفتی محبوبہ کے دست راست ،خاص مشیر اور رفیق ہونے کے علاوہ ان ہی کی کوششوں سے محبوبہ مفتی اور بی جے پی کے درمیان رسہ کشی اور تعطل ٹوٹا تھا جس کے نتیجے میں محبوبہ مفتی نے اپنے والد کی وفات کے بعد چیف منسٹری کا پد قبول کیا تھا اور دلچسپ اور متحیرکن یہ بات بھی ہے کہ محبوبہ مفتی نے اپنی کیبنٹ سے اس وقت سید الطاف بخاری کو ڈراپ کیا تھا (جو اب اپنی پارٹی کے مالک  ہیں )۔پھر کچھ مدت کے بعدانہیںکیبنٹ میں لینے کی وجوہات آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں۔گذشتہ برس جموں میں پی ڈی پی ہیڈ کوارٹرپر بیگ صاحب نے پرچم کشائی کی تھی ۔
 سجاد غنی لون پیپلز کانفرنس کے بانی عبدالغنی لون کے بیٹے ہیں۔ اس طرح پیپلز کانفرنس ان کی وراثت ہے ۔ایک بار مودی جی نے انہیں اپنا بھائی یا بیٹا بھی کہا تھا۔مفتی ، بی جے پی مخلوط سر کار میں منسٹر بھی رہے۔۵ اگست کے بعد فاروق عبداللہ کی گپکار الائنس کے ترجمان بھی رہے لیکن جلد ہی یہ احساس ہوا ہوگا یا جان گئے ہونگے کہ این سی اور پی ڈی پی الحاق نواز ہونے کے باوجود ان تِلوں میں اب تیل باقی نہیں رہا ہے اور ابھی مستقبل قریب میں اقتدار سے ان کا ملن بہت ہی مشکل اور تقریباً ناممکن ہوچکا ہے  ،اس لئے حالیہ ڈی ڈی سی انتخابات کے بعد ہی الائنس سے دامن چھڑایا۔
 بشارت بخاری براڈ کاسٹر تھے ۔سنگرامہ کانسٹی چیونسی سے پی ڈی پی کے منڈیٹ پر اسمبلی میں آئے۔ ۲۰۱۴ میں پھر ایک بار اسی حلقہ انتخاب سے منتخب ہوئے اور پی ڈی پی ، بی جے پی مخلوط سرکار میں منسٹر رہے۔ ۲۰۱۸ میں پی ڈی پی سے مستعفی ہوئے اوراین سی جوائن کی۔ ۱۲ مارچ ۲۰۲۱ دو سال دو ماہ ۱۲ دن کے بعد این سی سے تعلق توڑا ، اور صرف کئی دنوں بعد ہی پیپلز کانفرنس سے ناطہ جوڑا ۔ خورشید عالم ملازم اور ٹریڈ یونین لیڈر تھے۔ سرکاری ملازمین کا ایک حصہ ان کے ساتھ رہا ہے لیکن عوامی سطح پر وہ کتنے معروف ہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا ضروری نہیں ۔ منصور حسین جنوبی کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں ۔
 ابھی کئی اور ایسے ’’ پروانوں ‘‘ کی پیپلز کانفرنس میں آمد آمد کی خبریں ہیں ۔ اس کی سب سے بڑی دلیل محترم مظفر حسین بیگ کا پیپلز کانفرنس کے خیمے سے جڑنا ہے۔جیسا کہ کہا جارہا ہے اور قیاس کیا جارہا ہے کہ سید الطاف بخاری مرکزی حکمرانوں کے قریب ہیں اور وہی بات بھی کر رہے ہیں جو مرکزی سرکا ر کی منشا اور مرضی کے عین مطابق ہے ۔مظفر صاحب اوران دوسرے سیاسی کھلاڑیوں کا سید الطاف بخاری کی ’’اپنی پارٹی ‘‘سے صرفِ نظر اور پیپلز کانفرنس پر نگاہ کرم ایک بہت بڑا سوال کھڑا کرتا ہے۔
فی الحال ماضی کو چھوڑ کر ’حال‘ اور مستقبل کے لئے ان دونوں پارٹیوں کی سوچ اور انداز غور و فکر ایک جیسا ہے۔ کشمیر کے بارے میں ۵ اگست کے بعد اپروچ بھی ایک ہی ہے ۔ اس سے آپ یہ نا سمجھ لیں کہ این سی اور پی ڈی پی کی راہیں اس انداز سے الگ ہیں یا انہیں ۵اگست کے اقدامات سے کوئی ذہنی پریشانی ہے ۔ اس کا واضح ثبوت یہ کہ اب تک ان مین سٹریم پارٹیوں میں سے کسی بھی پارٹی نے کبھی بھولے سے بھی حالیہ پیش رفتوں کے بارے میںزباں نہیں کھولی جو تقرریوں کے ضمن میں واقع ہوچکی ہیں۔ اس کے پیچھے منطق ہی یہ  ہے کہ مرکزی سرکار کی خوشنودی میں کسی بھی رائے کا اظہار نہ کیا جائے ۔
 تو سوال یہ ہے کہ ’’ اپنی پارٹی ‘‘ پر اگر مر کز کرم فرما ہے تو یہ سارے کیوں اور کن اہداف کی تکمیل کے لئے پی سی میں جمع ہورہے ہیں؟ کیا سجاد غنی لون کی گپکار الائنس سے لاتعلقی بھی ایک نئے منصوبے کا ہی حصہ تھی ؟ ۔کیا یہ اُسی پرانی روائتی حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے کہ دونوں ایک ہی رنگ و روپ ، خدو خال ، قدو قامت ،چال ڈھال کے باوجود ا ایک دوسرے کے مقابل اور آمنے سامنے رہیں۔ اس نقطہ نگاہ سے دونوں پارٹیوں کو ایک مناسب حد تک سیاسی سرزمینوں میں فرنڈلی میچوں میں انگیج رکھا جائے گا ۔اس کی ضرورت شاید آنے والے انتخابات میں واضح ہوجائے گی جب این سی اور پی ڈی پی کے انتخابی اتحاد کو توڑ نے یا محدود کرنے کی ضرورت آپڑے گی جس کے لئے دو طرفہ باندھ باندھنے کے منصوبے بن چکے ہیں۔
������