کشمیر : پارلیمانی الیکشن کے مابعد

ستر  ہویں لوک سبھا کیلئے حال ہی اختتام پزیر انتخابات میں حکمران اتحاد این ڈی اے کو دیو پیکر حیثیت عطا کر نے میں گز بھر ہاتھ کشمیر کا بھی شامل رہا۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیںالیکشن شیڈو ل شا ئع کئے جانے کے دن سے ہی شکوہ زن رہیں کہ حکمران جماعت اپنی پانچ سالہ کارکردگی کے بارے میں پوچھے جارہے سوالات کا جواب نہیں دیتی ہے۔ اس عرصہ کے دوران ملک میں ہوئی تعمیر و ترقی اور عوام کو ملی سہولیات سے متعلق جان کاری کو عام نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن کا الزام تھا چوںکہ پانچ سالہ اقتدار کے دوران تعمیر و ترقی کے نام پر عوام کو کوئی راحت نہیں پہنچائی جا سکی ہے ، تبھی حکمران جان بوجھ کرکسی ایک بھی سوال کا جواب دینے سے کتراتے رہے۔ اپوزیشن لیڈران کے مطابق حکمرانوں سے جواب حاصل کرنے کیلئے اُن کے سوالات کچھ مشکل بھی نہیں تھے، مناسب ہی تھے اور واجب بھی ، جیسے دو کروڑ نوکریاں فراہم کرنے کے وعدے کیا ہوئے ، فارن بنکوں میں جمع کالادھن واپس لاکر پندرہ لاکھ فی کس بھارتیہ کے بنک کھا تے میں جمع کر نے کا اعلان تشنہ ٔ تکمیل کیوں ؟ کئی ایک سرمایہ داروں کا بنک لُوٹ کر انہیں ملک سے فرار ہوجانے کی اجازت کیو نکر دی گئی ؟ کچھ سوالات میں پوچھا جارہا تھا کہ غریب کسانوں کی حالت زار کے متعلق تھے۔ چند ایک سوالات رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے بارے میں مبینہ گھپلا بازی کے بارے میں تھے، وغیرہ وغیرہ، لیکن حکومت یا تو انتخابات سے متعلق اپنے منصوبوں کے خدو خال تیار کرنے میں مصروف رہی یا پھر ہر سوال کو جملہ بازی کی آڑ میں ٹال دیتی۔ کبھی کبھی اپوزیشن والوں کا ماننا تھا کہ حکمران جماعت نا تجربہ کار تھی اور یونہی اپنا دفاع کرنے سے گھبرارہی تھی ۔ بس ایک ہی موقع پر بی جے پی صدر امیت شاہ نے شہریوں کے بنک کھاتوں میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرنے کے وعدے کو ’’ ایک روایتی جملہ‘‘ قرار دیا تھا۔اُدھر جب یکایک پلوامہ کا جان لیوا سانحہ رونما ہو ااور خود کش بمبار ایکشن میں سی آر پی فورس کے ۴۹؍ جوان کام آئے تو الیکشن عمل میں مصروف حکمران پارٹی اور اپوزیشن کچھ دیر تک جیسے سکتے میں آ گئے تھے مگر حکمران بھاجپا کی قسمت بھلی کہ اپوزیشن نے کچھ دیر تک تاب و تحمل کرنے کے بجائے اس سانحہ کا ذکر کرنے میں جلد بازی سے کام لیا۔ جونہی اس سنسنی خیز سانحہ کو سرکار کی سیکورٹی کے محاذ پر ناکامی سے تعبیر کرنے کی کوشش ہوئی تو پلٹ وار کرتے ہوئے حکمران جماعت نے ان ۴۹؍ فوجیوںکی ہلاکت کو ملکی سلامتی کے سوال کے ساتھ جوڑ دیا ، نیزاس حوالے سے سوال اُٹھانے والی ہر آواز پر دیش دروہ ہونے کا الزام عائد کیا ۔ اس بارہ میں اپوزیشن کی ہر معقول بات یا جواب طلبی کو اس کو دیش وروھی جیسی گالی کے ساتھ گیند ان کے پالے میں ڈالی گئی ۔ اس طرح سے قومی جذبات اُبھار کر اپوزیشن کو لتاڑنے کا کام کچھ آسان تر بن گیا۔ یہ ترکیب خوب چل پڑی اور اب دیش دروھی لیبل کے تحت سرکار کے مختصر سوالات کا اپوزیشن کے پاس کوئی بھی جواب نہیں بچا تھا یا پھر جواب دینے کی جرأت باقی نہیں رہی تھی۔ اب سرکار کو ایک مضبوط مورچہ سنبھالنے کا موقع مل گیا تھا۔ معاملہ جب پاکستان کے بالا کوٹ میں سرجیکل اسٹرائیک پر ٹِک گیا تو ہلاکتوں کی نوعیت کے بارے میں اور اعدادو شمار منکشف کر نے کے تمام تر حقوق بی جے پی کے نام محفوظ ہوگئے ، جب کہ فضائیہ نے چُپ کا روزہ رکھا۔ ا س بابت ائر فورس آفیسران کو جو کچھ کہنا چاہیے تھا، اُنہوں نے کہہ دیا لیکن اس کہنے کا تر جمہ کرنے یا توضیح کے تمام تر اختیارات بھی فقط بنام حکمران جماعت محفوظ رہے۔ ائر فورس اتھارٹی نے جب کہہ دیا کہ لاشوں کی گنتی کرنا اُن کا کام نہیں تھا تو بی جے پی صدر امیت شاہ نے اُسی رات کے بعد ہونے والی صبح کو یہ شمار اڑھائی سو کردیا۔ پھر یہ تعداد دن دن کے آتے جاتے کبھی بڑھتا گیا اور کبھی گھٹتا رہا۔ میدان میں اب میڈیا کے ساتھ بحث کرنے کیلئے بجلی، پانی، سڑک، صحت جیسے شعبوں سے متعلق سوالات کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ بی جے پی کے گراونڈ لیول ورکروں کی نظروں میں اب وزیر اعظم نریندر مودی دیش کی سلامتی کا واحد رکھوالا بن گیا تھا ۔ اُن کے کچھ حکمران لیڈر بھی فوج کو مودی سینا کے نام سے پکارنے لگے۔ پھر جب اپوزیشن نے اپنے دور میں بھی سرجیکل کرنے کا راگ چھیڑا، تو جواب میں ’’یہ اسٹرائیک ویڈیو گیم کی صورت میں کھیلا گیا ہوگا‘‘ کا طعنہ مارا گیا۔ اس طرح سے کہا جا سکتا ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے اثرات نے روٹی، سبزی اور ڈیژل ، پیٹرول کی مہنگائی کو مکمل طور ننگل لیا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا تھا کہ پلوامہ نہ ہوا ہوتا تو انتخابات کے نتائج بھی اُلٹے انداز کے نکلے ہوتے۔ یعنی کشمیر کے حالات و معاملات نے ہی بی جے پی کو تین سو کے پار کردیا۔
  جانے انجانے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان بھیکے آزمائشی دنوں میں وزیراعظم مودی جی کے کام آئے اور وہ بالفعل بی جے پی حکومت کے جیسے پرستار بن کر اُبھر آئے، الیکشن میں نریندر مودی کی جیت کیلئے خان کی آرزو میں اگر خلوص بھی شامل رہا ہو، مگربھارت کے طول و عرض میں اس آرزو کا کبھی کوئی تذکرہ نہیں ہونے دیا گیا۔ تاہم پاکستان کی قید سے بھارتی پائیلٹ ابھی نندن کی فوری رہائی اور اُس کی بھارت واپسی کا قصہ بھی مودی جی کی اُبھرتی شخصیت پر چار چاند لگانے کا باعث بن گیا۔ عمران خان نے کس کے حکم کی تعمیل میں یا پھر کیا مقصد لے کر گرفتار شدہ ہوا باز ابھی نندن کی فوری رہائی کا حکم جاری کیا تھا، قطع نظر ا س سے کہ یہاں اس فعل کو خیر سگالی کا قدام یا امن پروری کے بجائے عمران کے ذہن پر بھارت کے ’’خوف ‘‘ کی پرچھائیوں کے ساتھ جوڑا جاتا رہا اور یہ ’’خوف‘‘ بھی مودی جی کی اضافی ہیروشپ کا ضامن بن گیا۔ شاید عمران خان کا ماننا تھا کہ بی جے پی کی کامیابی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان بگڑے تعلقات کو سدھارنے کی راہ ہموار ہوگی لیکن امریکہ میں تعینات بھارت کے سفیر نے الیکشن نتایج سامنے آنے کے ساتھ ہی عمران خان کی توقعات پر پانی پھیر دیا ہے۔ وزیراعظم مودی جی کے عزم کے کیا کہنے، اپنی حلف وفاداری کی تقریب میں اپنے سب ہمسائیوں اور ہمسائیوں کے پڑوسیوں کو بھی دعوت نامے ارسال کئے، مگراس فہرست میں اُسی ہمسایہ ملک کے وزیراعظم اور چین کے سربراہ ِحکومت کو نہیں بلایا گیا۔ اختلافات اپنی جگہ پڑوسی ملکوں کے بارے میں آنجہانی اٹل بہاری  واجپائی کا یہ کہنا ایک سنہری ا صول کی جیسی اہمیت رکھتاہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں، ہمسائے کو نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ 
  اب پارلیمانی الیکشن عمل سے متعلق سارے قصے کہانیاں ختم۔ وزیراعظم نریندر مودی کو ۵۴۲؍ ممبران پر مشتمل لوک سبھا کے ایوان میں ۳۴۴ ؍سے بھی زیادہ اراکین پارلیمان کی حمایت حاصل ہوناہی الیکشن عمل کی آخری حقیقت ہے ۔ سرکار کو آئین سمیت ملک کے نظام میں کوئی بھی تبدیلی لانے کیلئے دو تہائی ممبران کی اکثریت درکار ہو تی ہے۔ اس حساب سے مودی سرکار کو ۳۶۲ ؍کے جادوئی نمبر تک پہنچنے میں ۱۸ مزید ممبران کی ضرورت ہوگی۔ اس کمی کو غیریو پی اے (غیر کانگریسی) گروپ میں شامل ۱۰۷؍ پارلیمنٹ ممبران کے کھاتے سے آسانی سے پورا کیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی کے الیکشن منشور میں کئی مدعوں کی پہلے ہی نشاندہی ہوئی ہے۔ کئی دیگر مدعوں کے بارے میں بی جے پی کے ممبران گاہے گاہے خود بھی آواز بلند کرتے آئے ہیں۔ جیسے سادھوی ٹھاکور نے مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڑھ سے کو پہلے ہی وطن پرست قرار دیا تھا۔ اب الیکشن کے اختتام پر سادھوی ٹھاکور نے پارٹی کی طرف سے عائد پابندیوں کو پھر سے بالائے طاق رکھ کر اپنی من کی بات کو ہی امر کردیا ہے۔ جموں کشمیر ریاست کے حوالے سے جو معاملات متنازعہ بنانے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں، ان میں آئین ہند کا دفعہ ۳۷۰ اور دفعہ ۳۵ الف سر فہرست ہے۔تاہم جموں کشمیر کو دفعہ ۳۷۰، ۳۵ الف سے محروم کرنا اتنا آسان کام نہیں ہوگا، بھلے ہی مرکزی سرکارکو لوک سبھا کے ایوان میں دو تہائی اکثریت بھی حاصل ہوجائے۔ ان دفعات کو ہٹانے کا واحد راستہ ریاست جموں کشمیر کے ایوان اسمبلی سے گزرتا ہے۔ یعنی ریاست میں خالص عوام کے ووٹ سے قائم حکومت کو ہی دفعہ ۳۷۰؍ یا دفعہ ۳۵؍ الف کی حفاظت کرنے یا اس میں کوئی ترمیم کرنے کے اختیارات حاصل ہیں۔ اس حقیقت کو لے کر عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے کیلئے ریاست میں ایک لائق اور مضبوط حکومت کا قیام عمل میں لانا ضروری بن جاتا ہے ،یعنی تمام حق پرستوں کو کسی ایک مضبوط اور دیانت دار سیاسی جماعت کو استحکام فراہم کرنا ہوگا۔ ریاست میں پچھلے کئی برسوں سے کسی ایک ہی سیاسی جماعت کو مضبوط تر حکومت قائم کرنے کا اہل بنانے کے حق میں خوب چرچے ہوتے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے ۲۰۱۴ء کے اسمبلی انتخابات کے انعقاد سے بہت پہلے ہی اسی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ عمر عبداللہ کو کانگریس کے ساتھ ملی جلی حکومت چلانے کے دوران اس بارے میں کافی تجربہ حاصل ہوگیا تھا۔ عمر نے پھر بھی کسی خود غرضی کا مظاہرہ نہیں ہونے دیا تھا۔ وہ تبھی سے لوگوں سے متواتر طور مخاطب رہے ہیں کہ وہ کسی بھی لیڈر یا جماعت کے حق میں سوچیں، پر جو اس طرح کی ذمہ داری پوری ایمانداری سے نبھانے کے اہل ہوں۔ تاہم جب حال ہی انجام پزیر پارلیمانی انتخابات کے نتایج کا اسمبلی حلقہ بنیاد پر جائزہ لیا جاتاہے، تو کشمیر میں ہمارے اتحاد کا شیرازہ واضح طور بکھرا بکھرا سا نظر آتا ہے۔ ان نتائج کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ در پیش مشکلات و مسائل کے بوجھ تلے دبے کشمیری عوام اپنے گرد و نواح سے سراسر لاتعلق رہتے ہیں ۔ کشمیری لوگ خاص طور سے ایک دوسرے سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ لوگوں کی تمام تر نظریں اپنے انفرادی یا خاندانی مسائل پر مرکوز ہیں۔ اجتماعیت کا ذرا برابر احساس نہیں رہا ہے۔ایک جماعت کی حالت کچھ حد تک کمزور پڑجانے کے برعکس نصف درجن بھر نئی سیاسی جماعتیں نکھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ انجنئیررشید نے اپنے آپ کو حالیہ الیکشن کا مین آف دی میچ قرار دیا ہے۔ انتخابی نتائج اُن کے اس دعویٰ کی تائید بھی کرتے ہیں۔ اُن کو ایک لاکھ سے زائد ووٹ ملے ہیں اور وادی بھر میں پانچ اسمبلی حلقوں میں دیگر پارٹیوں پر سبقت حاصل کی ہے۔دیگر کئی حلقوں میں بھی کافی ووٹ ملے ہیں۔ وادی میں پیپلز کانفرنس کا ووٹ شیئر این سی کے بعد دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ اس جماعت نے بھی پٹن او ر ہندوارہ اسمبلی حلقوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے اور کپوارہ، سوناواری اور بڈگام جیسے حلقوں میں بھی اپنے وجود کا پتہ چھوڑا ہے۔ادھر کانگریس نے ڈورو، ککرناگ، اننت ناگ ، شوپیاں اور دیوسر اسمبلی حلقوں میں جیت درج کرلی ہے جب کہ شانگس حلقے میں اگلی بار جیت کے لئے دستک دی ہے۔ وادی کے ۴۶ اسمبلی حلقوں میں پانچ سیٹوں پر انجنئیررشید کا قبضہ ہوا ہے۔پانچ حلقے کانگریس کے قبضے میں چلے گئے ہیں، تین میں پی ڈی پی کو اور باقی دو حلقوں میں پیپلز کانفرنس کو کامیابی ملی ہے۔ باقی کے ۳۱؍ حلقے این سی کے کھاتے میں چلے گئے ہیں۔ لداخ ڈویژن کے چار اسمبلی حلقے کسی بھی سمت کو جا سکتے ہیں۔ فرض کریں، دو حلقوں میں این سی کامیاب ہوگی۔ باقی کے دو حلقوں پر بی جے پی کا دعویٰ بلا شرکت غیرے ہے۔ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کی ریکارڈ توڑ کامیابی نے جموں صوبہ کے ہندو ووٹروں کو اور بھی زیادہ متحرک اور متحد کردیا ہے۔ جو لوگ ۱۹۴۷ء سے ہی مہاراجہ ہری سنگھ اور شاہی پریوار کے گیت گایا کرتے رہے ہیں ، اُنہوں نے بھی اب کی بار پارلیمانی انتخابات میں شاہی پریوار کے کانگریسی رکن وکرما دتیا سنگھ کو دھو ل چٹادی ہے۔ اس بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ریجن میں بی جے پی کو آنے والے اسمبلی انتخابات میں ۲۸؍ سے بھی زیادہ حلقوں میں کامیابی مل سکتی ہے، جب کہ باقی کے ۹؍ حلقے این سی، پی ڈی پی، کانگریس اور کئی آزاد امیدواروں کی قسمت و محنت کی شرط پر ان کے کھاتوں میں جا سکتے ہیں۔ہماری موجودہ حالت کا یہی ایک پہلو ہے۔ کسی دوسرے درد مند شہری کو بھی وقت ملے تو اپنے حساب کا جوڑ توڑ لگائے۔ بات تو گھوم کر اسی نکتے کے آس پاس ٹک جائے گی کہ نیشنل کانفرنس سمیت کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے بل پر حکومت بنانے کی اہل نہیں ہوگی۔ پیپلز کانفرنس کا پہلے سے ہی بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ ہوا ہے۔ سجاد غنی لون انجنئیر رشید کے علاوہ چھوٹی چھوٹی دیگر جماعتوں پر بھی ڈورے ڈال سکتا ہے۔ اسمبلی الیکشن کا نوٹیفکیشن جاری ہوجانے کے ساتھ ہی معاملہ واضح صورت اختیار کرسکتا ہے۔ کانگریس ہر صورت میں اپنے وجود کو منوانے کیلئے کوشاں رہے گی اور ضرورت پڑنے پر این سی کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنا اس کی مجبوری بن سکتی ہے ۔ا گر دونوں پارٹیاں مل جل کر الیکشن میدان میں ڈٹ جاتی ہیں تو ریاست میں بہت حد تک ایک مضبوط حکومت کو تشکیل دینا ممکن ہوگا ۔ بہ ایں دم ریاست کی تمام سیاسی جماعتوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فوری طور گلستانِ جموں کشمیر کی ویرانیوں کو دور کرنے کا اقدام کریں۔ بانت بانت کی بولیاں بولنے والے سب قائدین کو کشمیر کے جھنڈے کو یہاں کے آسمانوں میں لہرانا ہوگا اور یک آواز ہوکر ترانہ ٔکشمیر ’’ لہرائے کشمیر کے جھنڈے، ‘‘ کو کو ہساروںا ور میدانوں میں گنگنا نا ہوگا، تب جاکر اس خطہ ٔ ارض کی بگڑی بن سکتی ہے۔  
ؕ