کشمیر میں 13 فروری تک موسم خشک رہنے کا امکان

سری نگر// وادی کشمیر میں شبانہ درجہ حرارت میں مزید گراوٹ درج ہونے کے بیچ جمعرات کو دن بھر دھوپ چھائی رہی جس سے لوگوں کو لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
 
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق جموں و کشمیر میں 13 فروری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ وادی میں 13 فروری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کا امکان ہے تاہم 14 فروری کو موسم ایک بار پھر کروٹ بدل سکتا ہے۔
 
ان کا کہنا تھا کہ 14 سے16 فروری تک وادی میں برف و باراں متوقع ہے۔
 
ادھر وادی میں شبانہ حرارت میں مزید گراوٹ درج ہوئی ہے اور سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں ہلکی برف باری بھی ہوئی ہے۔
 
گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی0.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت 0.6 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے مشہور زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ جہاں دوران شب ہلکی برف باری ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی10.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی10.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام جہاں دوران شب 2.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جو گذشتہ شب منفی5.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت منفی 1.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
گیٹ وے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی2.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جہاں گذشتہ شب کم سے کم درجہ حرارت منفی0.3 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
 
لداخ یونین ٹریٹری کے ضلع لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی15.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ضلع کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی18.0 ڈگری سینٹی گریڈ اور قصبہ دراس جو سائبیریا کے بعد دنیا کا دوسرا سرد ترین علاقہ ہے، میں کم سے کم درجہ حرارت 22.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
 
دریں اثنا وادی میں جمعرات کو صبح سے ہی کھلی دھوپ چھائی رہی جس سے لوگوں کو پارکوں، صحنوں، اور دکان تھڑوں پر لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھا گیا۔
 
وادی میں بیس روزہ چلہ خورد تخت نشین ہے جس کا دور اقتدار بیس فروری کو ختم ہوگا اگرچہ اس چلہ کے دوران بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے تاہم اس کے دوران ہونے والی برف زمین پر زیادہ دیر تک جمع نہیں رہ سکتی ہے اور درجہ حرارت میں بھی بتدریج بہتری ہی واقع ہوتی ہے۔