بلال فرقانی
سرینگر //مہاشیوراتری جسے کشمیر میں ہیرتھ کہا جاتا ہے، کووادی بھر میں مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ کشمیری پنڈت برادری نے مندروں میں حاضری دے کر پوجا پاٹ کی اور دعائیں مانگیں۔ سب سے بڑا اجتماع شنکر اچاریہ مندر میں دیکھنے میں آیا جہاں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مندر کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا تھا جہاں پنڈت برادری اور سیاح بم بم بولے کے نعرے لگارہے تھے ۔مقامی افراد کے علاوہ بڑی تعداد میں سیاحوں نے بھی مندر میں حاضری دی، پھول اور پھل نذر کیے اور دعائیں مانگیں۔ وادی کے دیگر مندروں میں بھی اسی عقیدت کے ساتھ تقریبات منعقد ہوئیں۔ہیرتھ کشمیری پنڈت برادری کا ایک اہم تہوار ہے، جو قمری مہینے پھاگن کی تیرہویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پرکانگڑیوں اور مٹی کے برتنوں میں اخروٹ بھگونے کی ایک خاص رسم ادا کی جاتی ہے، جو زرخیزی، خوشحالی اور برکت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔بہار سے آئی ایک سیاح پوجا نے کہا کہ یہ تہوار بہار اور دیگر مقامات پر بھی جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور وہ خود کو خوش نصیب سمجھتی ہیں کہ اس موقع پر کشمیر میں موجود ہیں۔ ایک اور سیاح اپیش نے بتایا کہ انہوں نے خاص طور پر اس تہوار میں شرکت کیلئے کشمیر کے سفرکا منصوبہ بنایا تھا اور یہاں درشن کر کے خود کو بابرکت محسوس کر رہے ہیں۔