کشمیر میں مہاجرآبی پرندوں کی گنتی کا کام جنوری سے شروع ہوگا

  سرینگر //محکمہ جنگلی حیات عالمی طور پر تسلیم شدہ ضوابط کے تحت مہاجر آبی پرندوں کی گنتی کا آغاز جنوری کے آخر میں شروع کر رہا ہے او ر اس کیلئے محکمہ کے ماہرین اور دیگر این جی اوز کے رضاکاروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔معلوم رہے کہ ہر سال اکتوبر کے مہینے سے جاپان سے لے کر شمالی یورپ تک سے مختلف النوع نسل کے تقریباً5 لاکھ کے قریب پرندے ہجرت کر کے کشمیر آتے ہیں ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ ان پرندہ شماری کے نتائج کا اعلان فروری میں متوقع ہے ۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ اس وقت کشمیر کے مختلف آبی پناہ گاہوں میں ایک اندازے کے مطابق 4سے ساڑھے چار لاکھ پرندے پہنچ چکے ہوں گے اور محکمہ اُن کی گنتی کا آغاز جنوری میں شروع کرے گا ۔کشمیر وادی کی آب گائوں میں عرصہ دراز سے یہ پرندے آتے ہیں اور اس وقت بھی وادی بھرکی تمام آبی پناہ گاہیںان پرندوں سے بھری پڑی ہیں جس سے وادی کا حسن مزید خوبصورت ہو گیا ہے ۔معلوم رہے کہ ہر سال عالمی سطح پر مہاجر پرندوں کی گنتی کا کام شروع ہوتا ہے اور کشمیر سے جو پرندوں کی شماری ہوتی ہے اُس کے عدادوشمار ایشیاء کی نوڈل ایجنسی کو فراہم کئے جاتے ہیں جس کے بعد یہ ایجنسی ورلڈ واٹر لینڈانٹرنیشنل کے پاس بھیجتے ہیں جہاں پر ڈاٹا مرتب کیا جاتا ہے اور پھر وہاں اس کا ریکارڈ موجود رہتا ہے اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کس علاقے میں کتنے پرندے جاتے ہیں ، پرندوں کی تعداد گھٹی ہے یا پھر بڑھی ہے، اگر گھٹی ہے تو اس کیلئے کیا کرنا ہے ۔محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے وارڈ ن ویٹ لینڈس عبدالروف زرگر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا کہ گنتی کا عمل بہت جلد شروع ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ پرندوں کی گنتی کا کام انتہائی مشکل ہے لیکن عالمی طور پر تسلیم شدہ ضوابط کے تحت یہ کام انجام دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس گنتی کے عمل میں محکمہ کے ملازمین کے علاوہ رضاکارشامل ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق تین سے چار لاکھ پرندے وادی کی جھیل ڈل ، ہوکرسر ، شالہ بگ اور دیگر آبگائوں میں پہنچ چکے ہیں ۔