ایسا لگتا ہے کہ منشیات کی لت کشمیر کے ہر علاقے میں داخل ہوچکی ہے۔اگر ہم اپنے گردو نواح کو غور سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ تقریباً ہر گاؤں، قصبے میں منشیات فروشوں کا ایک مافیا وجود میں آچکا ہے جو کچھ پیسوں کی خاطر نوجوانوں کو اپنے مذموم منصوبے کا شکار بناتے ہیں۔ان کی لالچ کی وجہ سے کتنے جوانوں کا تعلیمی کیریئر برباد ہوگیا، کتنے جوانوں کی موت واقع ہو گئی، کتنے افراد اپنی سماجی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر بربادی کے دہانے تک پہنچ گئے۔ نہ جانے کتنے باصلاحیت نوجوان ہیں جو نشے کی لت میں پڑ کر اپنی خداداد صلاحیتوں کو گنوا کر راہ راست سے بھٹک چکے ہیں۔ منشیات کی لت کے اس بڑے پیمانے پر پھیلنے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جیسے ریاست میں کئی دہائیوں سے موجود تشدد جس کے نتیجے میں نوجوان اپنا مستحکم مستقبل گنوا بیٹھے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی وجہ سے نفسیاتی بیماریوں اور پریشانیوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اپنے فطری ہنر کو درکنار کرکے نوجوان منشیات کی اسمگلنگ کرنے والوں کے جال میں بری طرح پھنس چکے ہیں۔
جو نوجوان منشیات کا استعمال کرتے ہیں وہ کئی قسم کی بیماریوں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان میں خودکشی کرنے کے خیالات پروان چڑھتے ہیں اور اس طرح سے کافی تعداد میں جوان اپنی زندگی کھو بیٹھتے ہیں۔ عام طور پرنو جوان منشیات کے منفی اثرات سے بے خبر ہوتے ہیں اور دیکھا دیکھی میں کبھی ان کا استعمال کرتے ہیں مگر ایک بار عادت پڑ گئی تو پھر اس لت کو چھڑانا آسان نہیں رہتا۔ منشیات کی لت انسان کو اخلاقی، معاشرتی، نفسیاتی اور جسمانی طور پر کمزور بنا دیتی ہے اور صحت و تندرستی کو دیمک کی طرح چاٹ کر رکھ دیتی ہے۔ منشیات سپلائی کرنے والے روز بروز دولت مند ہوتے جارہے ہیں اور وہ اپنے کاروبار کے فروغ میں جی جان لگا دیتے ہیں اور نوجوان ان کا سب سے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ منشیات کی لت نہ صرف ان لوگوں کے لئے خطرناک ہے جو اس کے عادی ہو چکے ہیں بلکہ یہ پورے معاشرتی تانے بانے پر بھی منفی اثر ڈالتی ہے۔
منشیات کے استعمال سے انسان کے دماغ ، جسم اور روح پر خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ منشیات کی لت کا سب سے پریشان کن پہلو یہ ہے کہ یہ ہمارے گرد و نواح میں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ ہماری وادی جسے روحانی روایات کی بنیاد پر 'پیر واریٔ' کہا جاتا ہے میں بھی لوگ تیزی سے ہر طرح کے منشیات کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ اور سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ لت اسکول اور کالج جانے والے نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر متاثر کررہی ہے۔ اکثر طالب علمی کا دور ذہنی تناؤ میں گزرتا ہے، طلباء، والدین اور سماج کی توقعات پر پورا اترنے اور زیادہ سے زیادہ نمبرات حاصل کرنے کی دوڈ میں ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ معاشرہ اور حکومت مل جل کر اس سماجی ناسور کی روک تھام کے لئے مستحکم موقف اپناتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ایک کمیونٹی پلان بننا چاہئے جس پر منشیات کی لت کو روکنے کے لئے ایک جامع اور قابل عمل حکمت عملی عمل میں لائی جانی چاہئے۔جو اس لت میں مبتلا ہو چکے ہیں پہلے ان کا سراغ لگا کر انسداد منشیات مراکز میں ان کی نگہداشت کی فوری ضرورت ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ڈرگ اسمگلروں کو گرفتار کر کے ان پر قانونی کاروائی کی جائے اور سماج میں پھیلے ہوئے ان کے مافیا کو بے نقاب کیا جائے تاکہ اس مسئلے کا دائمی حل نکالا جاسکے۔
اس منصوبے میں ان مخصوص ممنوع ادویات کی نشاندہی کرنا ہوگی جو نوجوان استعمال کر رہے ہیں اور ان کی خرید وفروخت پر سخت نگرانی رکھی جائے۔ لوگوں کو منشیات کے منفی اثرات کے بارے میں جانکاری فراہم کرنے کے لئے مختلف ذرائع ابلاغ استعمال کئے جائیں۔ان پروگراموں میں منشیات کے استعمال سے بچاؤ کے طریقے سکھائے جائیں اور معاشرے کے کردار کو بھی اجاگر کیا جائے۔منشیات کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کی سطح پر کمیونٹی آگہی تقاریب کا انعقاد ہوناچاہئے تاکہ بچے بر وقت منشیات کے برے اثرات کے بارے میں واقفیت حاصل کرکے مفاد پرستوں کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ منشیات کی روک تھام کے لئے گھر ایک مضبوط قلعے کا کام انجام دے سکتا ہے۔
نوجوان بھی یاد رکھیں کہ منشیات کے استعمال سے انہیں ایک لمحے کا سکون میسر آتا ہے مگر اس کے نتیجے میں ان کی ساری زندگی جہنم بن کے رہ جاتی ہے۔ نشہ انسان کی یادداشت اور عزت نفس کو پامال کرکے چھوڑتا ہے اور اسے احسن التقویم کی بلندی سے گراکر اسفل السافلین تک لے جاتا ہے۔ چونکہ اسلام میں منشیات کا استعمال حرام قرار دیا گیا ہے لہٰذا اس برائی کے خاتمے کے لئے مذہبی مبلغین کی خدمات کو اچھی طرح استعمال کیا جانا چاہئے۔ مختلف مبلغین ، ائمہ مساجد اور دیگر دینی تنظیموں کو اس سلسلے میں حساس بنانے کی ضرورت ہے اور مطلوبہ نتائج جلد حاصل کرنے کے لئے ان کے اثر و رسوخ سے پورا فائدہ اٹھایا جانا چاہئے ۔
رابطہ :بڈگام کشمیر،[email protected]
9858064648