عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//ہفتے کے روز وادی کشمیر میں زندگی معمول پر واپس آ گئی جب حکام نے اس ہفتے کے اوائل میں عائد کی گئی پابندیاں ہٹا دیں۔ یہ پابندیاں شیعہ روحانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں قتل کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث لگائی گئی تھیں۔حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صورتحال زیادہ تر پُرامن رہنے کے بعد وادی کے تمام علاقوں سے نقل و حرکت اور اجتماع پر عائد پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔حساس مقامات پر لگائی گئی سیکورٹی رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں، جن میں سرینگر کے مرکزی چوک لال چوک بھی شامل ہے۔خطے بھر میں دکانیں اور کاروباری مراکز دوبارہ کھل گئے ہیں جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ نے بھی اپنی سروس دوبارہ شروع کر دی ہے۔
انٹرنیٹ سروس اور پری پیڈ موبائل ٹیلی فونی پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔سرینگر میں معروف لال چوک ایک بار پھر سرگرمیوں سے بھرپور نظر آیا۔پابندیاں نرم کرنے کا فیصلہ جمعہ کی نماز کے بعد کیا گیا جو کشمیر کے بیشتر علاقوں میں پُرامن طریقے سے ادا کی گئی۔ایک سرکاری افسر نے کہا ’’وادی بھر سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں اور صورتحال معمول کے مطابق ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سیکیورٹی تعیناتی میں کمی کی گئی ہے لیکن حکام اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔لال چوک کاگھنٹہ گھر،جس پر اس ہفتے کے آغاز میں سخت پہرہ تھا، ہفتے کے روز وہاں لوگوں اور ٹریفک کی معمول کی آمد و رفت دیکھنے میں آئی۔موبائل انٹرنیٹ سروس اور پری پیڈ سم کارڈ کنکشن، جو پیر کے روز احتیاطی اقدام کے طور پر معطل کیے گئے تھے، حکام کی جانب سے کشیدگی کم ہونے کے جائزے کے بعد جمعہ کی شام بحال کر دیے گئے۔تاہم کشمیر بھر میں تعلیمی ادارے اب بھی بند ہیں اور انہیں 9مارچ کو دوبارہ کھولنے کا شیڈول ہے۔پابندیاں ابتدائی طور پر پیر کے روز کئی علاقوں میں اس وقت لگائی گئی تھیں جب خامنہ ای کے قتل کی خبریں سامنے آئیں۔تیز رفتار انٹرنیٹ اور پری پیڈ کالنگ سروس کی بحالی کے بعد وادی میں ڈیجیٹل اور مواصلاتی سرگرمیاں بتدریج معمول پر آنے کی توقع ہے۔حکام نے کہا کہ خدمات کی ہموار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔پولیس نے میڈیا اداروں، سوشل میڈیا صارفین اور عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔پولیس نے لوگوں سے کہا کہ غیر مصدقہ اطلاعات، قیاس آرائیوں یا افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں اور صرف معتبر ذرائع پر بھروسہ کریں۔پولیس نے خبردار کیا کہ غلط معلومات پھیلانے سے خوف و ہراس پیدا ہو سکتا ہے اور امن عامہ متاثر ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔