دفعہ 370ہٹانے کے بعد کشمیر میں ایک بھی گولی نہیں چلی: وزیر داخلہ
گوہاٹی// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے ہفتہ کو کہا کہ حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 31 مارچ کی ڈیڈ لائن تک ملک سے نکسل ازم کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔یہاں شمال مشرق میں پہلی بار 87ویں سی آر پی ایف ڈے پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے شاہ نے کہا کہ فورس نے جموں و کشمیر میں ایک اہم کردار ادا کیا، جہاں پتھرا ئوکے واقعات کی تعداد صفر ہو گئی ہے، اس کے علاوہ منی پور میں صرف تین سالوں میں مانوازوں کی کمر توڑ دی۔انہوں نے کہا، “میںسی آر پی ایف پر بھروسہ کر سکتا ہوں اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم 31 مارچ 2026 تک ملک سے نکسل مسئلہ کو ختم کر دیں گے۔”شاہ نے کہا کہ 10-11 سال پہلے، ملک میں تین بڑے ہاٹ سپاٹ جموں و کشمیر میں دہشت گردی، نکسلزم اور شمال مشرق میں شورشتھے ۔لیکن – “رستے زخم” اب امن اور ترقی کے مرکز ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تینوں علاقے جو کبھی بم دھماکوں، گولیوں، ناکہ بندیوں اور تباہی کے مناظر کے لیے مشہور تھے، آج ملک کی ترقی کا حصہ ہیں اور ترقی کا انجن بن کر پورے ملک کی ترقی کو آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سی آر پی ایف کے تعاون کے بغیر ایسا امن ممکن نہیں تھا۔انہوں نے نوٹ کیا کہ شمال مشرق میں 700 سی آر پی ایف اہلکار، 780 نکسل علاقوں میں اور 540 جموں و کشمیر میں مارے گئے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ”ان قربانیوں کے بغیر، آج ان تینوں ہاٹ سپاٹ کو ترقی کی راہ پر لے جانا ناممکن ہوتا‘‘۔انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کے بعد جموں و کشمیر میں ایک بھی گولی چلانے کی ضرورت نہیں پڑی، اس کو یقینی بنانے میں سی آر پی ایف نے اہم کردار ادا کیا ۔شاہ نے کہا، “86 سالوں میں، فورسنے نہ صرف شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے بلکہ ملک کی سلامتی کا ایک مضبوط ستون بن کر ٹھوس نتائج بھی دیئے ہیں۔ اس عمل میں، 2,270 جوانوں نے اعلی ترین قربانی دی ہے‘‘۔وزیر داخلہ نے اس موقع پر سی آر پی ایف کے 15 اہلکاروں کو بہادری کے تمغے بھی عطا کیے، جب کہ چھ کو صدر پولیس تمغہ برائے امتیازی خدمات سے نوازا گیا اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی بٹالین کو ٹرافیاں دی گئیں۔