کشمیریت، جمہوریت اور انسانیت کے نعرہ کا مؤجد اٹل بہاری واجپائی خاموش

 نئی دہلی// ہندوستانی سیاست کے قد آور لیڈروں میں شمار ہونے والے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا طویل علالت کے بعد آل انڈیا  میڈیکل انسٹی چیوٹ  میں انتقال ہو گیا۔وہ 93 سال کے تھے اور کئی برسوں سے بیمار چل رہے تھے ۔  واجپئی نے پانچ بجکر پانچ منٹ پر آخری سانس لی۔ اسپتال کے مطابق گزشتہ 36 گھنٹے سے ان کی حالت مسلسل بگڑتی جارہی تھی اور انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم واجپئی غیر شادی شدہ تھے ، تاہم، ان کی ایک منہ بولی بیٹی نمیتا اور داماد رنجن بھٹاچاریہ ان کے ساتھ رہتے تھے ۔ درازی عمر کے سبب حافظہ کمزور ہونے کے بعد سے وہ عوامی زندگی میں سرگرم نہیں تھے ۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورے ملک میں غم کی لہر دوڑ گئی۔تقریبا نو ہفتے پہلے 11 جون کو ان کی طبی جانچ پڑتال کے لئے ایمس میں داخل کرایا گیا تھا۔ جانچ میں ان کی پیشاب کی نلی میں انفیکشن کا پتہ چلا تھا۔ اس کے بعد سے وہ اسپتال میں ہی بھرتی تھے ۔ انہیں انتہائی طبی نگہداشت یونٹ ( آئی سی یو) میں رکھا گیا تھا۔ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ان کی حالت مزید بگڑ گئی تھی اور انہیں لائف سپورٹ سسٹم پر رکھا گیا تھا۔شاعر، صحافی، شعلہ بیاں مقرر اور سیاستدان شمار کئے جانے والے واجپئی کی پیدائش 25 دسمبر 1924 کو گوالیار میں ہوئی تھی۔ ان کے والد پنڈت کرشن بھاري واجپئی ٹیچر تھے ۔ ان کی گریجویشن تک کی تعلیم گوالیار میں ہوئی اور اسی دوران وہ اس وقت وکٹوریہ کالج یعنی موجودہ مہارانی لکشمی کالج کی طلبہ یونین کے سکریٹری منتخب ہوئے تھے ۔ بعد میں انہوں نے کانپور کے ڈی اے وی کالج میں لاء گریجویٹ کورس میں داخلہ لیا تھا اور پھر وہ لکھنؤ سے صحافت اور پھر سیاست میں ایسے سرگرم ہوئے کہ 2004 میں انہوں نے اس سے آرام لیا۔ وہ دس بار لوک سبھا میں منتخب ہوئے ۔ دو بار بلرام پور سے ، دو بار نئی دہلی سے ، ایک بار گوالیار سے اور آخر میں پانچ بار لکھنؤ سے منتخب ہوئے ۔ وہ دو بار راجیہ سبھا کے لئے بھی منتخب کئے گئے ۔ وہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانی رکن تھے اور بعد میں انہوں نے اپریل 1980 میں بی جے پی کی بنیاد رکھی۔ انھوں نے پہلے لوک سبھا انتخابات 1955 میں  لڑا تھا لیکن وہ شکست کھا گئے تھے اور 1957 میں اترپردیش کے بلرام پور سے جن سنگھ کے امیدوار کے طور پر انہیں پہلی جیت حاصل ہوئی۔ سال 1957 سے 1977 تک وہ بیس سال تک مسلسل جن سنگھ کے پارلیمانی پارٹی کے لیڈر رہے ۔ ایمرجنسی کے بعد بننے والی مرارجی ڈیسائی کی حکومت میں 1977 سے 1979 تک وزیر خارجہ رہے ۔ سال 1980 میں انہوں نے ناراض ہوکر جنتا پارٹی چھوڑ دی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد رکھی۔ سال 1984 میں لوک سبھا میں دو ارکان سے بڑھ کر بی جے پی کو 1996 میں پہلی بار مرکز کے اقتدار تک لانے اور پھر 1998 میں بی جے پی کی زیر قیادت اکثریت کی حکومت چلانے کا کریڈٹ واجپئی کو جاتا ہے ۔ والہانہ سلوک اور نرم برتاؤ کی وجہ سے مخالفین کے درمیان بھی مقبولیت حاصل کرنے والے واجپئی پہلے 16 مئی سے 28 مئی 1996 تک 13 دن تک اور پھر 19 مارچ 1998  میں 13ماہ تک اور پھر 22 مئی 2004 تک ہندوستان کے وزیر اعظم رہے ۔واجپئی حکومت نے 11 اور 13 مئی 1998 کو پوکھرن میں زیر زمین جوہری تجربہ کرکے ہندوستان کو جوہری اسلحہ والا ملک قرار دے دیا۔ جموں وکشمیر کے مسئلے کو حل کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انہوں نے بھرپورکوشش کی۔ اس کے لئے انہوں نے انسانیت جمہوریت اور کشمیریت کا نعرہ دیا تھا۔وہ 2002میں سرینگر آئے تھے اور پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جس کے آگے سال وہ لاہور بھی گئے اور نواز شریف کیساتھ لاہور اعلامیہ پر دستخط بھی کئے تھے۔
 
 

 ایک عہد کا خاتمہ:مودی

نئی دہلی/یو این آئی/وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی موت کے ساتھ ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا۔ایک سے زیادہ ٹوئیٹ کے ذریعہ مودی نے کہا کہ یہ اٹل جی کی مثالی قیادت تھی جس نے 21 ویں صدی میں ایک مضبوط، خوشحال اور ہمہ جہت ہندستان کی بنیاد رکھی۔مختلف شعبوں میں ان کی مسقبل رخی پالیسیوں نے ہندستان کے ہر شہری کی زندگی کو متاثر کیا۔ ہندستان اپنے چہیتے اٹل جی کی موت سے غمزدہ ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ قوم کے لئے زندہ تھے اور دہائیوں اس کی پوری لگن کے ساتھ خدمت کی۔ مودی نے کہا کہ بی جے پی کو ایک ایک اینٹ کے ذریعہ انہوں نے کھڑا کیا اور پارٹی کا پیغام ملک بھر میں عام کیاجس کی وجہ سے آج بی جے پی قومی سیاست اورکئی ریاستوں میں ایک مضبوط طاقت ہے ۔
 
 
 

 گورنر کا اِظہارِ رنج

سرینگر//گورنر این این ووہرا نے سابق وزیر اعظم اَٹل بہاری واجپائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہا ر کیا ہے۔سابق وزیرا عظم،جن کے ساتھ گورنر موصوف نے کافی وقت کام کیا ہے، کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے گورنر نے انہیں ایک دُور اندیش لیڈر قرار دیا۔انہوں نے کشمیر سے جڑے معاملات کے حل کے لئے اَٹل بہاری واجپائی کی کوششوں کو بھی یاد کیا۔اپنے پیغام میں گورنر نے آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دعا کرتے ہوئے سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔