کشتواڑ اور بھدرواہ واقعات | تحقیقاتی عمل میں سرعت لانے کی ضرورت

فرقہ وارانہ بھائی چارے کیلئے انتہائی حساس سمجھے جانے والے خطہ چناب میں پچھلے کچھ مہینوں میں ایسے بدقسمت واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے صدیوں سے ہمیشہ ایک ساتھ رہ رہے دونوں طبقوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں ۔2018کے اواخر میں کشتواڑ میں نامعلوم اسلحہ برداروں کے ہاتھوں بی جے پی لیڈر اوراس کے بھائی کی ہلاکت اوراس کے بعد اسی قصبہ میں آر ایس ایس کارکن اوراس کے محافظ کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ابھی معمول پر واپس آئی نہیں کہ گزشتہ دنوں بھدرواہ میں ایک پچاس سالہ شہری کو گولیاں مار کر ہلاک کردیاگیا۔اس واقعہ کے بعد قصبہ میں پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے اور دونوں طبقوں سے تعلق رکھنے والے کچھ گروہوںنے ایک دوسرے پر پتھرائو کرکے املاک کو نقصان پہنچایا جس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کو فوج طلب کرکے کرفیو نافذ کرناپڑا۔اسی طرح کے پرتشدد مظاہرے کشتواڑ میں بھی انتظامیہ کے خلاف ہوچکے ہیں ۔کشتواڑ اور بھدرواہ واقعات کے تناظر میں خطہ میں احتجاج ، بند اور ہڑتال کی کالیں دی جارہی ہیں اور ان واقعات میں ملوثین کیخلاف کارروائی کی مانگ کی جارہی ہے ۔اگرچہ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیاں کشتواڑ کے واقعات کو ملی ٹینسی کا نام د ے رہی ہیں تاہم ابھی تک تحقیقاتی عمل میں کوئی ٹھوس پیشرفت نہیں ہوئی جبکہ ان واقعات کو ہوئے مہینے بیت گئے ہیں ۔حکام کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ کچھ افراد کی حراستی تفتیش کے دوران اس بات کے اشارے ملے ہیںکہ خطہ میں ملی ٹینسی کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں لیکن پریہار برادران اور آر ایس ایس لیڈر کی ہلاکت کے اصل ملوثین کے بارے میں کوئی پتہ نہیں چل پایاہے جس کا ہی نتیجہ ہے کہ سناتن دھرم سبھا اور دیگر ہندو تنظیموں کی طرف سے پولیس تحقیقات پر ناکامی کا الزام عائد کرکے بند کی کالیں دی جارہی ہیں ۔اسی طرح سے بھدرواہ واقعہ کو بھی لوگ اپنے اپنے طریقہ سے بیان کررہے ہیں اور کچھ اسے فرقہ وارانہ کشیدگی کا نام دے رہے ہیں تو کچھ آپسی رنجش ۔یہ واقعہ کس مقصد سے انجام پایااس کا جوا ب تو پولیس کی طرف سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ہی ملے گا مگر فی الوقت اس نے پہلے سے خراب بنی ہوئی صورتحا ل کو مزید متزلزل کردیاہے ۔بدقسمتی سے پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کا تحقیقاتی عمل ابھی تک کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پایاہے جس سے اس کی اعتباریت پر سوال کھڑے کئے جارہے ہیں ۔صرف خطہ چناب ہی نہیں بلکہ لوک سبھا انتخابات شروع ہونے سے عین قبل جموں صوبہ میں گرینیڈدھماکوں میں ملوث افراد کے خلا ف بھی کی گئی کارروائی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ایسے ماحول میں جہاں دونوں طبقوں کے ذی حس افراد کی یہ کوشش ہونی چاہئے کہ حالات مزید بگڑنے نہ پائیں وہیں پولیس اور دیگر حکام کومزید کسی تاخیر کے ان واقعات کے پس پردہ حقائق کو منظر عام پر لاکر متاثرین کو انصاف دلاناہوگاتاکہ لوگوں میں اعتماد بحال ہوسکے اور ملزمان کو ان کے کئے کی سز ا ملے ۔امید کی جانی چاہئے کہ حکام صورتحال کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے ہلاکت خیز واقعات میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے جس سے نہ صرف خطہ میں بھائی چارے کی فضا قائم رہے گی بلکہ شرپسندعناصر کی مذموم کوششیں بھی ناکام بنائی جاسکیں گی۔