عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//کریشر یونین راجوری کے نمائندوں نے پیر کے روز راجوری میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع میں قائم قانونی کریشر یونٹس اور منظور شدہ مائننگ بلاکس کو درپیش مسائل پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ پریس کانفرنس کی قیادت یونین کے صدر جاوید میر نے کی، جنہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ قانونی طور پر قائم یونٹس کو بلا جواز ہراساں کیا جا رہا ہے۔یونین کے نمائندوں نے کہا کہ راجوری میں کریشر یونٹس تمام مقررہ قانونی طریقہ کار اور ضوابط کے مطابق قائم کئے گئے ہیں، اس کے باوجود انہیں غیر قانونی قرار دینا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ سراسر ناقابلِ قبول بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمے زمینی حقائق کو نظرانداز کرتے ہوئے جائز کاروبار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔کریشر یونین نے اعلان کیا کہ حکومت کی جانب سے لازمی منظوریوں کے عمل میں مسلسل تاخیر کے خلاف احتجاجاً راجوری کے تمام کریشر یونٹس کل سے بند کر دیے جائیں گے۔ یونین کے مطابق ماحولیاتی منظوریوں کا معاملہ طویل عرصے سے زیر التوا ہے اور افسوسناک امر یہ ہے کہ ان منظوریوں کے لیے اب تک ایک بھی باضابطہ اجلاس منعقد نہیں کیا گیا۔یونین نے یہ بھی الزام لگایا کہ ضلع میں منظور شدہ اور قانونی مائننگ بلاکس کی دوبارہ توثیق نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے مائننگ کنٹریکٹروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ نمائندوں کے مطابق کنٹریکٹرز نے کروڑوں روپے فیس کی مد میں جمع کرائے ہیں، مگر اس کے باوجود انہیں بنیادی بیڈ میٹیریل تک نکالنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کریشر یونٹس قانونی تقاضے پورے کرنے، مقررہ فیس ادا کرنے اور تمام ضوابط پر عمل کرنے کے بعد قائم کئے گئے ہیں، لیکن حکومتی بے عملی نے اس پورے شعبے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ یونین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف صنعت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ روزگار کے مواقع پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔کریشر یونین نے اس مسئلے کے انسانی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ سینکڑوں مزدور براہ راست کریشر یونٹس میں کام کرتے ہیں، جبکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار بالواسطہ طور پر اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ یونین نے خبردار کیا کہ حکومت کا غیر سنجیدہ رویہ یونٹس کی بندش پر مجبور کر رہا ہے، جس سے مزدوروں اور ان کے اہلِ خانہ فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں۔کریشر یونین نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی جموں و کشمیر حکومت کو اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام زیر التوا منظوریوں کو مکمل کیا جائے تاکہ قانونی کریشر یونٹس اور مائننگ بلاکس کو بلا رکاوٹ کام کرنے کی اجازت مل سکے۔