کرپشن ایک رِستاناسور

حال ہی میں ایک نیوز رپورٹ کے ذریعے یہ انکشاف ہوا ہے کہ اقتدار کے ایوان میں موجود چند سیاست دانوں کے تین قریبی لوگوں کو تمام طرح کے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر بڑے سرکاری عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ ان منظور نظر افراد کے لیے مختلف محکموں میں یہ عہدے وجود میں لائے گئے کیونکہ یہ چند طاقت ور برسر اقتدار لوگوں کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں ۔یہ ایک ایسی معمولی مثال ہے جس کے ذریعے سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر میں اقرباء پروری، رشوت خوری اور قانون شکنی یا موٹے الفاظ میں کرپشن کا کس حد تک دور دورہ ہے۔ اگر ہم یہ کہیں گے کہ کرپشن نے ریاست کے پورے نظام کو اندر ہی اندر کھوکھلا کرکے رکھ دیا ہے، تو شاید بے جانہ ہوگیا، کیونکہ یہاں زندگی کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں نچلی سطح سے لے کر اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں تک کرپشن کا بازار گرم نہ ہو۔ رواں سال اپریل کے مہینے میںCMS-Indian Corruption Study(CMS-ICS) کی ایک اسٹیڈی کے مطابق ریاست جموں وکشمیر کرپٹ ترین ریاستوں میں پانچویں نمبر پر ہے۔سروے کے مطابق ریاست کے44؍ فیصد لوگوں کو سرکاری محکموں میں روز مرہ کے کام کاج نپٹانے کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے۔عوامی ٹیکس سے چلنے والے سرکاری نظام کے کل پُرزے محض لوگوں سے ہی رشوت حاصل نہیں کرتے ہیں بلکہ ہر سال سرکاری خزانے میں بڑے پیمانے پر خرد برد کے درجنوں اسکینڈل منظر عام پر آجاتے ہیں اور عام آدمی کو حیران و ششدر کر کے چھوڑتے ہیں۔ مالی معاملات کے ان بڑے اسکنڈلز کا محض دو فیصد حصہ عوام کے سامنے آجاتا ہے، باقی لوٹ کھسوٹ کی98 فیصد وارداتوںکو اوپر سے لے کر نیچے تک سسٹم میں موجود لوگ ظاہر ہی نہیں ہونے دیتے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ کرپشن سے نبٹنے کے لیے جو سسٹم یہاں کام کررہا ہے وہ بھی بڑے مگرمچھوں پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں یہاں بھی سیاسی اثر و رسوخ اور مال وزر آڑے آجاتا ہے۔ کرپشن کے حساس ترین کیس جن میں واضح ثبوت، شواہد اور حالات و واقعات کی گواہی ہوتی ہے، میں 90 ؍فیصد ملوث لوگ اینٹی کرپشن عدالتوں سے ’’باعزت ‘‘بری ہوجاتے ہیں۔ بہت کم لوگوں کی سزا ہوجاتی ہے۔ کروڑوں کا گھپلا کرنے والے لوگ سسٹم میں شامل ہر پُرزے کو پیسوں کے بل بوتے پر بآسانی اپنی جیب میں ڈال دیتے ہیں۔2013 ء کے بدنام زمانہBOPEE اسکینڈل میں مبینہ طور ملوث چیئر مین مشتاق پیر نے ہزاروں ہونہار طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہوئے انٹرنس پیپر غیر قانونی طور پر فروخت کردئے ہیں، حال ہی میں اُن کے نام کروڑوں روپے کے خرد برد کا ایک اور اسکینڈل طشت از بام ہوا ہے ۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کی چھان پھٹک کے بعد اب تک کیس عدالت میں زیر سماعت ہے۔ عدالت نے مشتاق پیر کو چندمہینوں کے بعد ہی ضمانت پر رہا کردیا اور اب یہ کیس کچھوے کی چال آگے بڑھ رہا ہے۔ کب اس کا فیصلہ سامنے آئے گا ،اس بارے میں کوئی پُرامید نہیں ہے، کیونکہ یہاں جان بوجھ کر ایسے ہائی پروفائل کیسوں کو طوالت دی جاتی ہے ، ملزمان کو بچانے کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے اور اُنہیں قانون کے شکنجے سے باہر نکالنے کے لیے سسٹم میں موجود اُن کے پارٹنر پوری مشینری کو کام پر لگا دیتے ہیں۔
2014 ء میں ریاستی اسمبلی میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اُس وقت کے حکومتی وزیر نے کہا کہ گزشتہ تین سال کے دوران مختلف تحقیقاتی ایجنسیوں نے300 سرکاری آفیشلز کے خلاف کرپشن کے کیس درج کرلیے ہیں، جن کی تحقیقات ہورہی ہے۔اُس وقت یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ ویجی لنس آرگنائزیشن نے 450 سرکاری آفیشلز کے خلاف کرپشن کے189 کیس درج کرلیے ہیں۔پوچھا جاسکتا ہے کہ ان آفیشلز میں سے کتنے لوگوں کو قصور وار ٹھہرا کرسزا دی گئی ہے؟ کتنے لوگ جیل میں چکی پیس رہے ہیں؟یہاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑے سے بڑے مگر مچھوں کو بھی جوں توں باعزت بری کردیا جاتا ہے۔ 2006 کے بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کی تلخ یادیں آج بھی ہر کشمیری کے ذہن میں موجود ہیں۔ اس اسکینڈل میں دلی کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی نے بڑے بڑے بیروکریٹوں، سیاست دانوں، تاجروں اور وردی پوشوں کے خلاف ٹھوس ثبوت جمع کرکے اُنہیں قصور وار ٹھہرایا تھا۔ جب اقتدار کے ایوانوں میں موجود بڑے بڑے لوگوں کے گلے میں پھندا کسنے لگا تو پھر پوری حکومتی مشینری اور ایجنسیوں کو کام پر لگا دیا گیا اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بڑی ہی مہارت کے ساتھ پہلے یہاں سے کیس کو پنجاب منتقل کروایا گیا، پھر وہاں ایک ایک کرکے بنت حوّا کی عزت و عصمت کے ساتھ کھیلنے والی کالی بھیڑیوں اور درندوں کو باعزت بری کردیا گیا۔ آج بھی ان بدکردار لوگوں کی بڑے بڑے ایوانوں اور اداروں میں موجودگی یہ ظاہر کرتی ہے کہ یہاں انسانیت اور انصاف کے الفاظ ہی بے آبرو ہو کر رہ گئے ہیں۔کرپٹ سسٹم نے مجرم ذہنیت کے حامل لوگوں کو اس حد تک ڈھیٹ بنا دیاہے کہ اب یہاں ہر محکمے میں کھلے عام رشوت کا لین دین ہوتا ہے، حقداروں کے حقوق پر شب خون مارا جاتا ہے۔ احمد کی ٹوپی محمود کے سر رکھ کر پھر یہ ثابت بھی کردیا جاتا ہے کہ محمود یعنی مظلوم ومحروم ہی اصل میںمجرم ہے۔
ریاست جموں وکشمیر مسلم اکثریتی ریاست ہے۔ مسلمانوں کے عقیدے میں یہ بات شامل ہے کہ رشوت گناہِ کبیرہ میں شامل ہے اور راشی لوگوں اللہ کے غضب کے مستحق ہیں۔لیکن کیا وجہ ہے کہ اس کے باوجود یہاں اس حد تک اخلاقی پستی دکھائی دے رہی ہے کہ سرکاری محکموں میں مختلف چائے، کمیشن، عیدی وغیرہ کے نام پر رشوت کو حلال بنادیا گیا ہے؟ دراصل جس سسٹم کی بنیاد ہی غلط طریقوں اورغلط اصولوں پر قائم کی گئی ہو، اُس کے تحت ہونے والے ہر کام پر شیطان اپنے پنجے گاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ 1947میں ہی تمام طرح کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر یہاں کے نظام کی بنیاد کرپٹ پولیٹکل سسٹم پر رکھی گئی ہے۔ کرسی کی لالچیں دے کر وقت کے قد آور سیاست دانوں کو خریدا گیا اور اُنہیں مراعات اور اقتدار سے’’کچھ لو کچھ دو‘‘ کے تاجرانہ طرز اختیار کر کے غلط اور ناجائز طریقے سے برسراقتدار لایا گیا۔ کسی بھی ملک معاشرے قوم میںجو لوگ غلط طریقوں سے اقتدار واختیار کی باگیںسنبھالتے ہیں یا جو اصولوں کا گلا گھونٹ کر مسند اقتدار پر براجمان ہوجاتے ہیں، اُن کے نزدیک پھر عوامی خدمت، فرائض، دیانت ، امانت اور ذمہ داری محض بے معنی الفاظ  کا ڈھکوسلہ رہ جاتی ہیں۔ وہ موقعے کو غنیمت جان کر زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ خود بھی غیر قانونی طریقہ کار اپناتے ہیں اور اپنے ماتحت کام کرنے والے شعبوں اور محکموں میں موجود کرپٹ لوگوں کو بھی اس کارِ بد کی جانب کھلی ترغیب دیتے ہیں۔پھر80 کی دہائی میں شائع ہونے والا ’’لال کتاب‘‘ نامی کتابچہ ایسے حکمرانوں کی بددیانتی اور خیانت کے کن کن رازوں سے پردہ اُٹھاتا ہے ،یہ زمانے پرچودہویں چاند کی طرح عیاں ہے۔گپکار میں کس طرح جنگلاتی اور سرکاری زمینیں اپنے اور اپنے رشتہ داروں کے نام کروائی گئی؟ کس طرح ہوٹل قائم کرنے کے لیے جنگلاتی اور سرکاری اراضی لوگوں کو کوڑ یوں کے دام ناجائز طریقے سے فروخت کی گئیں؟کس طرح اراضی منتقلی بل پاس کرواکے مال سمیٹا گیا؟کس طرح سیاحتی مقامات پر اپنی عیاشی کے لیے اڈے قائم کیے گئے اور کس طرح سرکاری خزانوں اور قومی وسائل کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا گیا ؟اس کی چشم دید گواہی تاریخ کشمیر کے وہ پنے دے رہے ہیں جن میں قوم کشمیر کی بدنصیبی کی کہانی المیوں کی زبانی درج ہے۔سیاسی کرپشن ایک ایسا روگ ہے جو کسی بھی سسٹم کے پورے جسم کو ناسور کی طرح ناکارہ بنادیتا ہے۔یہ پولیٹکل کرپشن کا ہی کمال ہے پچاس کی دہائی میں ایک مہرے کو اقتدار سے ہٹا کر اُس کی جگہ دوسرے مہرے یعنی بخشی غلام محمد کی تاج پوشی کی گئی، اُنہوں نے اپنے زمانے میں تعمیر و ترقی کے لیے مختص فنڈاپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرکے عوام میں داد حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اُنہیں کہاں معلوم کہ یہاں عوامی رائے کے بجائے کہیں اور سے سیاسی تار ہلتے ہیں، جو ریموٹ کنٹرول کی طرح لوگوں کو کرسیوں سے جب چاہیں اُٹھا دیتے ہیں اور جب چاہیں بیٹھا دیتے ہیں۔ جب1996 ء میں ضرورت تھی تو محض 3 فیصد ووٹوں کے ساتھ سے فاروق عبداللہ کی سرکار کو بڑی ہی اکثریت کے ساتھ کرسی پر بیٹھا دیا گیا اور اس احسان کے بدلے میں اُن سے کیا کیا نہ کروایا گیا۔اُنہوں نے دریا دلی کا مظاہرہ کرکے اپنی کرسی حاصل ہونے کے جشن میں یہاں کے آبی وسائل تک این ایچ پی سی کو رسائی فراہم کی، وہ بھی کوڑیوں کے دام! یہاں کی معیشت کو چمکانے والے ان وسائل کو ایک ایسے ادارے کو سونپ دیا گیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح اب اُلٹے اثرات دکھانے لگی ہے۔جب ماسٹرس کا کام بنا تو پھر ایک اور جماعت کو ’’کمائی‘‘ کا موقع دیا گیا۔ یوں سیاسی کرپشن کے نتیجے میں ریاست کا آج حال یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی جماعت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ کھل کر عوامی مفادات کی بات کرسکے، وہ یہاں کے وسائل پر اپنی اجارہ داری قائم کرسکیں۔اپنی اس کمزور پوزیشن کو یہ سیاست دان بخوبی جانتے ہیں، اس لیے اقتدار کی نیلم پری پر براجمان ہونے کا اُن کا واحد مقصد یہ ہوتا ہے کہ ذائقۂ کرسی کا زیادہ سے زیادہ سامان فراہم کیا جائے، زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹ لی جائے اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری محکموں میں سیاسی دانوں کی چھتر چھایہ میں کرپشن پروان چڑھتی رہی ہے اور آگے بھی چڑھتی رہے گی۔ معمولی ٹھیکہ دار کو بھی چپراسی سے لے کر اعلیٰ سرکاری عہدیدار تک اس حمام میں ننگے ہیں اور ہر بااثر و ذمہ دار فرد کو کمیشن یا ’’چائے ‘‘دینا پڑتی ہے۔تیس چالیس ہزار کی نوکری کرنے والے بعض سرکاری ملازمین نے ایسی کروڑوں کی جائیدادئیں بنالی ہیں کہ عقل حیران ہوکر رہ جاتی ہے کہ دینے والے چھپر پھاڑ کے دیا کہ لینے والے چھپر پھاڑ کے لیا۔ یہی لوگ پھر اپنی اس ناجائز دولت کے ذریعے سے سماج میں بے راہ روی، بے حیائی ، بدی اور رسم و رواج کو دن رات فروغ دیتے ہیں۔ یہeasy money  والے زندگی گزارنے کے ایسے ایسے شیطانی معیار مقرر کرلیتے ہیں کہ جن کے ذریعے سے غریب عوام کا زندہ رہنا دو بھر ہوجاتا ہے۔ یہ راشی لوگ اپنے بچوں کی شادی بیاہ اور محلات تعمیر کر نے میں اس طرح کے خرافات کا بالقصد اہتمام کرتے ہیں کہ پاس پڑوس میں رہنے والی غریب کی بیٹی کے ہاتھوں میں مہندی لگنا محض خواب و خیال بن کر رہ جاتا ہے۔
چین میں کرپشن کی سخت سزا ترین جیل اور موت ہے۔ یہاں ہر محکمے کے ملازمین کواپنے بال بچوں کے ساتھ ایک دن جیل کا دورہ ضرور کرنا پڑتا ہے جہاں وہ اور اُن کے اہل خانہ بچشم خود ایسے قیدیوں کی حالت زار دیکھ لیتے ہیں جو کرپشن یا کسی طرح کی بھی بددیانتی میں ملوث رہے ہوں گے، یہ سب اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اُنہیں عبرت حاصل ہوجائے۔ وہاں کی عدالتوں کا یہ سسٹم نہیں ہے کہ کیس دہائیوں تک چلتا رہے بلکہ موقعے پر ہی عوام کے سامنے عدالت قائم کی جاتی ہے اور لوگوں کے سامنے ہی فیصلہ سنائی دیا جاتا ہے۔ ایک لادین قوم کی ترقی کا یہی اصل راز ہے کہ وہاں عدل اور انصاف کو پروان چڑھایا گیا ہے۔ جو قومیں عدل اور انصاف کے معیارات کو برقرار رکھتی ہیں، اُن کے مقدر میں امن ، ترقی اور خوش حالی لکھی ہوئی ہوتی ہے۔ عدل اور انصاف کا درس اسلام دیتا ہے، یہ سب اسلام کی تعلیمات ہیں جن پر غیر اقوام عمل پیرا ہیں۔ جب تک مسلم دنیا میں عدل اور انصاف کے تقاضے برابر پورے کیے جاتے رہے مسلمان دنیا پر حکمرانی کرتے رہے لیکن جوں ہی عدل اور انصاف کے تقاضوں پر کرپش سسٹم حائل ہونا شروع ہوا ہمارا زوال شروع ہوگیا اور یہ بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھ گیا کہ آج پوری مسلم دنیا ذلت کی اتھاہ گہرائیوں میں جا پڑی ہے۔یہاں حقوق پر شب خون مارنے والوں کے لیے عیش ہی عیش ہیں ،اُن کے ساتھ پورا سسٹم ہوتا ہے اور اگر کوئی حقوق کی بات کرتا ہے تو اُس کے مقدر میں جیل ہوتی ہے۔ یہاں سزائیں انصاف قائم کرنے والوں کے لیے ہیں، یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کرپشن کی نہ صرف حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ خووبھی کرپشن میں ملوث ہیں۔ایک سروے میں وردی پوشوں کا محکمہ کرپشن میں سر فہرست ہے ، دوسرا نمبرمحکمہ مال کاہے اور یہی محکمہ جات کرپشن سے نپٹنے کے لیے کام کرے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کرپشن کا کس طرح قیامت تک قلع قمع ہوجائے گا۔نفس پرستی پر مبنی نظام میں افراد کی تبدیلی سے تبدیلیاں رونما نہیں ہوتی ہیں بلکہ انسان کے بنائے ہوئے اس نظام کو تبدیل کرنے سے ہی ایک صالح نظام قائم کیا جاسکتا ہے۔ صالح نظام کے کل پرزے صالح افراد ہوتے ہیں اور صالح افراد تب پیدا ہوں گے جب لوگ اسلام کی جانب لوٹ آئیں اور المیہ یہ ہے کہ آج کے دور میں جو لوگ دین کی جانب لوٹ آتے ہیں اُنہیں کہا جاتا ہے کہ وہ ’’شدت پسند‘‘ ہیں اور اُن کی وجہ سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ ٭٭٭٭